کولہا پور بنچ میں عرضی گزاروں نے ایس آئی آرپر روک کا مطالبہ کیا۔ ممبئی بنچ میںکمیشن کو رائے دہندگان کی شہریت کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی
سیاسی تجزیہ کار،ماہر اور مبصر پرتھمیش گوانکر نے مشہور وکیل اسیم سرودے کی معرفت پٹیشن داخل کی۔ تصویر : سراج شیخ
بامبے ہائی کورٹ کی کولہاپور بنچ کے سامنے ایک پٹیشن داخل کی گئی ہے جس میں ’الیکشن کمیشن آف انڈیا‘ (ای سی آئی) اور ’چیف الیکشن کمشنر‘ (سی ای سی) گیانیش کمار کے ذریعہ ’ایس آئی آر‘ کے انتظامی امور سے متعلق جاری کئے گئے ۱۴؍ فیصلوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس مطالبہ کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ۲؍ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے ان پر اعتراضات کئے تھے۔ اس دوران ہائی کورٹ کی ممبئی میں واقع پرنسپل بنچ پر بھی ایس آئی آر سے متعلق پٹیشن داخل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابی تجزیہ سے متعلق محدود کارروائی کرسکتا ہے لیکن کسی کی شہریت سے متعلق فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ان دونوں عرضداشتوں کو پیر کو ججوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔کولہاپور میں مہاراشٹر میں رہنے والے ۴؍ افراد نے مل کر ایڈوکیٹ اسیم سرودے کے ذریعہ عرضداشت داخل کی ہے۔ عرضی گزاروں کے نام پرتھمیش گوپال گونکر، گورو سوریہ کانت نکھاریکر، آدیش ششی کانت بھاٹکر اور اسمیتالی نلیش نارویکر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف ۱۴؍ متنازع احکامات کو منسوخ کیا جائے بلکہ پوری ریاست میںایس آئی آر کی کارروائی پر بھی روک لگائی جائے۔
دوسری طرف ممبئی میں ایڈوکیٹ ہتیندر گاندھی نے ۲؍ تاجروں کی طرف سے پٹیشن داخل کی ہے۔ اس میں اُن ریکارڈ اور حکم کی کاپیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے جن کی بنیاد پر ایس آئی آر کروایا جارہا ہے ۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر میں کسی کی شہریت کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر اس کارروائی سے کسی کی شہریت پر سوال اٹھتا ہے تو اسے اس معاملہ پر فیصلہ کرنے کی مجاز اتھاریٹی کے پاس بھیجا جائے۔
کولہاپور کی پٹیشن میں ای سی آئی کے کام کرنے کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے ای سی آئی کے ان احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے جن میں ایس آئی آر کے تحت انتخابی ریکارڈ کو تیار کرنے، نظر ثانی اور دیکھ ریکھ سے متعلق فیصلے کئے گئے ہیں۔ اس میںنشاندہی کی گئی ہے کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ اور وویک جوشی نے تقریباً ۱۴؍ موقعوں پر فیصلوں، احکام اور طریقہ کار پر اعتراض کیا تھا۔ جن باتوں پر اعتراض کیا گیا تھا وہ ووٹروں کے ناموں کے رجسٹریشن، منسوخی، بحالی، رائے دہندگان کی تفصیلات کے ڈیٹا بیس تک رسائی کو ریاستی سطح سے ہٹا کر نئی دہلی کے آئی ٹی ڈویژن میں مرکزی سطح پر لانا، الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) کے کام کاج، اپیل اور ان کاموں کیلئے استعمال ہونے والے ’سافٹ ویئر‘ کے کام کاج سے متعلق تھے۔
جن ۱۴؍ فیصلوں پر اعتراض کیا گیا ہے ان میں نئے ووٹروں کے اندراج کیلئے استعمال ہونے والے فارم ۶؍ میں تبدیلیاں کرنا بھی شامل ہے۔ عرضداشت کے مطابق اس فارم میں جولائی میں تبدیلی کی گئی جس کے تحت نئے ووٹروں کو یہ بتانا ضروری قرار دیا گیا ہے کہ اس کے والدین یا داد، دادی یا نانا نانی میں سے کسی کا نام پچھلے ایس آئی آر میں شامل تھا کیا۔ حالانکہ اس سے تعلق رکھنے والے اصولوں میں ترمیم کئے بغیر فارم ۶؍ میں اس طرح کی تبدیلیاں یوں ہی نہیں کی جاسکتیں۔ اس تبدیلی کو سکھبیر سنگھ نے بعد میں غیرمجازی اور غیرقانونی کہا تھا۔ایک دیگر واقعہ کی نشاندہی کی گئی ہے اس میں سکھبیر سنگھ اور وویک جوشی نے مل کر درخواست کی تھی کہ فارم ۶؍ کے معاملے پر پورے ’پینل‘ کی مشترکہ میٹنگ لی جائے۔ تاہم سی ای سی نے اس سے پہلے ہی اس فائل پر منظورشدہ لکھ دیا تھا۔
پٹیشن میں مزید کیا کہا گیا ہے؟
پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ’چیف الیکشن کمیشن اینڈ اَدر الیکشن کمشنرس (اپائنٹمنٹ، کنڈیشن آف سروسیز اینڈ ٹرم آف آفس) ایکٹ ۲۰۲۳ء کی دفعہ ۱۸؍ کے حساب سے الیکشن کمیشن کے فیصلے درست نہیں ہیں، کیونکہ اس دفعہ کے تحت کمیشن کے تمام کام کاج ممبران کو مل جل کر اور متفقہ طور پر کرنے چاہئیں اور جہاں اختلاف رائے ہو وہاں کثرت رائے کے حساب سے فیصلہ ہونا چاہئےلیکن اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔