۱۵؍ لاکھ اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین اور ان کی زیرکفالت افرادکو نجی اسپتالوں میں بھی کیش لیس علاج کی سہولت
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 10:56 PM IST | Lucknow
۱۵؍ لاکھ اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین اور ان کی زیرکفالت افرادکو نجی اسپتالوں میں بھی کیش لیس علاج کی سہولت
ریاستی حکومت نے تعلیم کے شعبے سے وابستہ لاکھوں ملازمین کو بڑی راحت دیتے ہوئے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں جمعرات کو منعقدہ کابینہ میٹنگ میں طے پایا کہ اب صوبے کے بیسک اور ثانوی تعلیم سے وابستہ اساتذہ، غیر تدریسی ملازمین اور ان کی زیر کفالت افراد سرکاراسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی اسپتالوں میں بھی کیش لیس علاج کرا سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے سے تقریباً ۱۵؍ لاکھ اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین مستفید ہوں گے۔ اس منصوبے پر مجموعی طور پر تقریباً ۴۴۸؍کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گزشتہ برس یومِ اساتذہ۲۰۲۵ء کے موقع پر اس اسکیم کا اعلان کیا تھا جس پر اب کابینہ نے باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ مالیات و پارلیمانی امور کے وزیر سریش کمار کھنہ نے پریس کانفرنس میں کابینہ کے فیصلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں کل ۳۲؍ تجاویز پیش کی گئیں جن میں سے ۳۰؍ کو منظوری دی گئی۔
اس فیصلے کے تحت ثانوی تعلیم محکمہ کے زیر انتظام امدادیافتہ اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ (پیشہ ورانہ تعلیم کے اساتذہ اور اعزازی اساتذہ ) سنسکرت ایجوکیشن بورڈ سے منظور شدہ اداروں کے اساتذہ، ثانوی و سنسکرت تعلیمی بورڈ سے منظور شدہ خود مالی اعانت یافتہ اسکولوں کے اساتذہ اور سرکاری و امدادی اداروں میں اعزازی بنیاد پر کام کرنے والے پیشہ ورانہ تعلیم کےاساتذہ کو علاج کی کیش لیس سہولت حاصل ہوگی۔ خاص بات یہ ہےکہ اس سہولت سے ان کے زیر کفالت افراد بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ثانوی تعلیم کی وزیر گلاب دیوی نے بتایا کہ اس اقدام سے ۲ء۹۷؍ لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے اور اس پر تقریباً ۸۹ء۲۵؍ کروڑ روپے کا خرچ متوقع ہے۔اسی طرح بیسک ایجوکیشن بورڈ کے تحت چلنے والے اسکولوں اور منظور شدہ امدادافتہ و خود مالی اعانت یافتہ اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ، شکشا متروں، خصوصی اساتذہ، انسٹرکٹرز، کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ کی وارڈن، کل وقتی و جز وقتی اساتذہ اور پردھان منتری پوشن یوجنا کے باورچیوں اور ان کے زیر کفالت افراد کو بھی اس اسکیم کا فائدہ ملے گا۔
بیسک تعلیم کے وزیر سندیپ سنگھ نے بتایا کہ اس منصوبے سے بیسک ایجوکیشن بورڈکے ۱۱ء۹۵؍ لاکھ سے زائد اساتذہ اور ملازمین فائدہ اٹھائیں گے۔ حکومت کو فی ملازم تقریباً ۳؍ ہزار روپے سالانہ پریمیم کے حساب سے مجموعی طور پر۳۵۸؍۶۱؍ کروڑ روپے سالانہ خرچ کرنے ہوں گے۔کیش لیس علاج کی سہولت سرکاری اسپتالوں کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ ایجنسی فار کمپریہینسو ہیلتھ اینڈ انٹیگریٹڈ سروسیز‘ سے منسلک نجی اسپتالوں میں بھی دستیاب ہوگی۔
علاج کی شرحیں پردھان منتری آیوشمان بھارت جن آروگیہ یوجنا اور نیشنل ہیلتھ اتھاریٹی کے مقررہ معیارات کے مطابق ہوں گی۔ خود مالی اعانت یافتہ تسلیم شدہ اسکولوں کے اساتذہ کو ویریفکیشن کے بعد اس اسکیم کا فائدہ ملے گا۔ ویریفکیشن کے لئے اضلاع میں ضلع اسکول انسپکٹر اور بیسک ایجوکیشن افسر کی صدارت میں کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جو افراد پہلے سے مرکز یا ریاست کی کسی دیگر صحت اسکیم، پردھان منتری آیوشمان جن آروگیہ یوجنا یا چیف منسٹر جن آروگیہ ابھیان کے تحت کور ہیں، وہ اس اسکیم کے اہل نہیں ہوں گے۔