پولیس نے رقابت کا معاملہ قراردیا، توڑ پھوڑ کی تصدیق کی مگر فائرنگ کی تردید کی،۳؍ کو گرفتار کیا ، گیان بندو کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کا ڈائریکٹر بھی پکڑا گیا، مزید گرفتاریوں کا امکان
EPAPER
Updated: June 04, 2026, 8:59 AM IST | Patna
پولیس نے رقابت کا معاملہ قراردیا، توڑ پھوڑ کی تصدیق کی مگر فائرنگ کی تردید کی،۳؍ کو گرفتار کیا ، گیان بندو کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کا ڈائریکٹر بھی پکڑا گیا، مزید گرفتاریوں کا امکان
مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کروانے والے معروف استاذ فیصل خان جو عرف عام میں ’’خان سر‘‘ کے نام سے مشہور ہیں، کے پٹنہ میں واقع کوچنگ انسٹی ٹیوٹ پر منگل کی شام ہونےوالے حملے کے سلسلے میں پولیس نے فوری کاررروائی کرتے ہوئے ۳؍ افراد کو گرفتار کرلیا ہے اورمزید گرفتاریوں کا اشارہ دیا ہے۔ ابتدائی جانچ کے مطابق حملہ کرنےوالوں کا تعلق حریف کلاسیس ’’گیان بندو کوچنگ انسٹی ٹیوٹ‘‘ سے ہے۔ مذکورہ کوچنگ کا ڈائریکٹر بھی گرفتار شدگان میں شامل ہے۔
فائرنگ اور سیکوریٹی گارڈس کے زخمی ہونے کی اطلاعات
البتہ پولیس نے خان سر کے دعویٰ کے برخلاف کہا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے حملے کے دوران فائرنگ کی تصدیق نہیں ہے۔ یاد رہے کہ منگل کی رات حملے کے فوراً بعد میڈیا سے گفتگو میں فیصل خان نے بتایا تھا کہ فائرنگ بھی کی گئی۔ اس سلسلے میں خان سر سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہاکہ تحقیقات سے ہی معلوم ہوگا کہ حقیقت میں کیا ہوا تھا۔خان سرکی کلاسیس ’’ خان گلوبل کوچنگ انسٹی ٹیوٹ ‘‘ قدم کنواں تھانہ علاقے میں واقع ہے۔ حملہ منگل کی رات ۱۰؍ بجکر ۱۰؍ منٹ پر ہوا۔
خان سر نے بھی حریف کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کو ذمہ دارٹھہرایا
منگل کی رات حملے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل خان نے بتایا تھا کہ ’’قریب کے ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ چند شرپسند عناصر نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ہمارے گارڈ کو بری طرح مارا پیٹا اور فائرنگ بھی کی۔ ان کی اصل ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اتنی کم فیس میں طلبہ کو تعلیم کیسے دے سکتا ہے اور ہر سال اچھے نتائج کیسے حاصل کر سکتا ہے۔‘‘تاہم بدھ کی صبح فائرنگ کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہاکہ ’’پولیس تحقیقات جاری ہیں۔ جب نتائج سامنے آئیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔ ہم یہاں کسی جھگڑے یا لڑائی کیلئےنہیں بیٹھے ہیں۔‘‘
فیصل خان کا مستقل سیکوریٹی کا مطالبہ
فیصل خان نے بتایا کہ حملے کے بعد رات بھر سیکوریٹی کے مناسب انتظامات کئے گئے تھے۔ انہوں نے بہار کے وزیراعلیٰ سے اپیل کی کہ ان کے انسٹی ٹیوٹ میں زیر تعلیم غریب طلبہ کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکوریٹی اہلکاروں کی تعیناتی مستقل کی جائے۔ٹاؤن ڈی ایس پیراجیش رنجن نے بتایا کہ اس معاملے میں ۴؍ افراد کو نامزد ملزم بنایا گیا ہے جبکہ ۱۵؍ سے ۲۰؍ نامعلوم افرادکو بھی ماخوذ کیاگیاہے۔ انہوں نے کہا کہ نامزد ملزمین میں سے ۳، جن میں حریف کوچنگ سینٹر کے ڈائریکٹر روشن آنند بھی شامل ہیں، گرفتار کئے جا چکے ہیں جبکہ دیگر کی گرفتاری کیلئےکوششیں جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کوچنگ سینٹر اور اطراف کے علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے کے بعد اب تک فائرنگ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ان کے مطابق کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے دی گئی تحریری شکایت میں بھی فائرنگ کا ذکر نہیں ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آوروں کو اینٹیں اور پتھر پھینکتے اور ایک ہورڈنگ کو نقصان پہنچاتے ہوئےنظر آرہے ہیں۔
حملہ تجارتی رقابت کا نتیجہ
پولیس افسر نے بتایاکہ بظاہر یہ حملہ کوچنگ اداروں کے درمیان مسابقت اور رقابت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم پولیس تمام پہلوؤں سے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کوچنگ سینٹر کے گارڈ پر حملہ کیا گیا جس سے اس کے سر پر چوٹ آئی اور اس وقت اس کا علاج پٹنہ میڈیکل کالج اسپتال میں جاری ہے۔ خان گلوبل اسٹڈیز کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے منیجر کنہیا کمار سنگھ کی شکایت پر پولیس نے تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
خان سر کی حمایت میں طلبہ کا احتجاج
حملہ کی خبر عام ہوتے ہی بدھ کی صبح مسلح پور ہاٹ کے قریب واقع خان سر کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے باہر طلبہ کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔انہوں نے خان سر کی حمایت میں آواز بلند کی جبکہ رات سے ہی علاقے میں سیکوریٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔بہت سے طلبہ نے حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ ایک طالب علم نے خبر رساں ایجنسی’اے این آئی ‘سے گفتگو میں کہاکہ ’’ہمیں انصاف اور سیکوریٹی چاہیے۔‘‘کشیدگی کے پیش نظر پٹنہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی)، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اور متعدد پولیس ٹیموں کو موقع پر تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ خاطیوں کوبخشا نہیں جائیگا۔