Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار میں اعلیٰ تعلیم کا نیا منظرنامہ!

Updated: June 02, 2026, 1:05 PM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

بہار کے موجودہ گورنر و چانسلر یونیورسٹیز آف بہار،لیفٹیننٹ جنرل (سبکدوش) سید عطا حسنین مسلسل مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں، رجسٹراروں اور اعلیٰ حکام کے ساتھ جائزہ میٹنگ کر رہے ہیں تو علمی حلقوں میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید بہار کی اعلیٰ تعلیم ایک نئے دور میں داخل ہونے والی ہے۔

Meeting.Photo:INN
میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
 بہار اپنی تاریخی، تہذیبی اور علمی روایت کے اعتبار سے ہندوستان کی اُن ریاستوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں علم و دانش کی شمع صدیوں سے روشن رہی ہے۔ قدیم زمانے میں نالندہ اور وکرم شیلا جیسی عالمی درسگاہوں نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے ایشیا کو علمی روشنی عطا کی۔ مگر افسوس کہ جدید دور میں بہار کی اعلیٰ تعلیمی صورت حال مسلسل زوال، انتظامی کمزوری، مالی بے ضابطگی، اساتذہ کی قلت، امتحانی نظام کی بے ترتیبی اور تحقیقی ماحول کی کمی جیسے مسائل سے دوچار رہی ہے۔ ایسے ماحول میں جب ریاست کے موجودہ گورنر و چانسلر یونیورسٹیز آف بہار، لیفٹیننٹ  جنرل (سبکدوش) سید عطا حسنین مسلسل مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں، رجسٹراروں اور اعلیٰ حکام کے ساتھ جائزہ میٹنگ کر رہے ہیں تو علمی حلقوں میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید بہار کی اعلیٰ تعلیم ایک نئے دور میں داخل ہونے والی ہے۔ بہار میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اسکولی تعلیم میں کچھ بہتری ضرور آئی، مگر اعلیٰ تعلیم کا شعبہ اب بھی شدید بحران کا شکار ہے۔ متعدد یونیورسٹیوں میں سیشن کی تاخیر معمول بن گئی ہے، امتحانات وقت پر نہیں ہو رہے ہیں اور نتائج کے اعلان میں مہینوں بلکہ برسوں لگ رہے ہیں۔ تعلیمی معیار مسلسل گرتا جا رہا ہے۔ایسے نازک وقت میں گورنرموصوف سید عطاء حسنین کی سرگرمیاں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔  وہ محض ایک رسمی چانسلر کے طور پر نہیں بلکہ ایک فعال تعلیمی نگراںکے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کی میٹنگوں میں صرف رسمی گفتگو نہیں بلکہ امتحانات و نتائج کے کیلنڈر، یونیورسٹیوں کے مالی نظم و نسق، تحقیقی سرگرمیوں، اساتذہ کی حاضری، ڈیجیٹل نظام، طلبہ کی فلاح اور قومی تعلیمی پالیسی کے نفاذ جیسے بنیادی مسائل پر سنجیدہ غور کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ سید عطاء حسنین کا پس منظر بھی ان کی شخصیت کو منفرد بناتا ہے۔ فوجی قیادت اور اسٹریٹجک امور میں ان کا تجربہ نظم و ضبط، شفافیت اور کارکردگی کو اہمیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بہار کی جامعات میں’’اکیڈمک کلچر‘‘کی بحالی پر زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح اشارہ دیا ہے کہ یونیورسٹیاں صرف ڈگری بانٹنے کا مرکز نہیں بلکہ قوم کی فکری تعمیر کا ادارہ ہوتی ہیں۔ 
 
 
قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء  نے ہندوستان کی اعلیٰ تعلیم میں بنیادی تبدیلیوں کا تصور پیش کیا ہے۔ ملٹی ڈسپلنری تعلیم، اسکل بیسڈ کورسز، ریسرچ کلچر، ڈیجیٹل لرننگ اور مقامی زبانوں کے فروغ پر زور دیا گیا ہے۔ بہار کی یونیورسٹیوں میں اس پالیسی کا مؤثر نفاذ ابھی تک ایک چیلنج رہا ہے۔جناب گورنر کی حالیہ سرگرمیوں سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ اس پالیسی کو زمین پر نافذ کرنے میں سنجیدہ کردار ادا کریں گے۔ خاص طور پر بہار جیسے صوبے میں جہاں اردو، میتھلی، بھوجپوری، مگہی اور دیگر زبانوں کی تہذیبی اہمیت ہے، وہاں ہندوستانی زبانوں کے فروغ کے بغیر تعلیمی ترقی مکمل نہیں ہو سکتی۔اساتذہ کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ گورنرموصوف اگر اساتذہ کی تقرری، تربیت اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ دنیا کی عظیم یونیورسٹیاں عمارتوں سے نہیں بلکہ معیاری اساتذہ سے پہچانی جاتی ہیں۔آج کے دور میں ڈیجیٹل تعلیم کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ کووڈ کے بعد پوری دنیا میں آن لائن لرننگ، اسمارٹ کلاس روم اور ای لائبریری کا رجحان بڑھا ہے۔ بہار کی کئی یونیورسٹیوں میں اب بھی بنیادی ڈیجیٹل سہولیات کی کمی ہے۔ اگر گورنرموصوف کی قیادت میں جامعات کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے جوڑا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف تدریسی معیار بہتر ہوگا بلکہ دیہی پس منظر کے طلبہ کو بھی عالمی علمی وسائل تک رسائی مل سکے گی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بہار میں اعلیٰ تعلیم کے بحران کی ایک وجہ سیاسی مداخلت رہی ہے۔ کئی بار تعلیمی فیصلے علمی بنیادوں کے بجائے سیاسی مفادات کے تحت کیے گئے۔ یونیورسٹیوں کی خودمختاری متاثر ہوئی اور علمی ماحول سیاست کی نذر ہو گیا۔ موجودہ گورنر کی غیر جانب دار اور ادارہ جاتی سوچ اگر برقرار رہتی ہے تو جامعات میں علمی وقار بحال ہو سکتا ہے۔
 
 
بہار جیسی متنوع ریاست میں یونیورسٹیاں مختلف طبقات، زبانوں اور مذاہب کے درمیان فکری مکالمے کا مرکز بن سکتی ہیں۔ اس لئے اعلیٰ تعلیم کا استحکام دراصل سماج کے استحکام سے جڑا ہوا ہے۔اگر بہار کی جامعات میں وقت پر امتحانات، شفاف انتظامیہ، معیاری تحقیق، ڈیجیٹل نظام، تربیت یافتہ اساتذہ اور طلبہ دوست ماحول قائم ہو جاتا ہے تو یقیناً یہ ریاست کیلئے ایک نئے علمی دور کا آغاز ہوگا۔ موجودہ گورنر کی مسلسل جائزہ میٹنگیں اسی تبدیلی کی طرف ایک سنجیدہ قدم محسوس ہوتی ہیں۔تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ صرف گورنر یا چانسلر کے اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ وائس چانسلرز، اساتذہ، ملازمین، حکومت اور طلبہ سب کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ اصلاحات صرف سرکاری احکامات سے نہیں بلکہ اجتماعی تعلیمی شعور سے کامیاب ہوتی ہیں۔ اگر بہار کی جامعات علمی دیانت، تحقیقی مزاج اور تعلیمی نظم کو اپنا شعار بنا لیں تو وہ دن دور نہیں جب بہار دوبارہ ہندوستان کے علمی نقشے پر نمایاں مقام حاصل کرے گا۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بہار اپنی عظیم علمی روایت کو دوبارہ زندہ کرے۔ نالندہ کی سرزمین سے ایک بار پھر علم و تحقیق کی روشنی پھیلے۔ موجودہ گورنر سید عطاء حسنین کی سرگرمیوں نے کم از کم یہ امید ضرور پیدا کی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو اب سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ مستقل مزاجی، شفافیت اور وژن کے ساتھ جاری رہا تو آنے والے برسوں میں بہار کی جامعات نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک کیلئے مثال بن سکتی ہیں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ گورنر موصوف کے ساتھ ساتھ بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری بھی ریاست میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی کمیوں اور دیگر سہولیات کے تئیں بھی سنجیدہ ہیں اور کئی ٹھوس اقدام بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK