• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آر ایف ٹی آئی میں طلبہ پر حملہ، انوراگ کشیپ سمیت کئی فلمی شخصیات کی مذمت

Updated: September 28, 2026, 4:04 PM IST | Kolkata

کولکاتا کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) میں طلبہ اور ایک تنظیم کے ارکان کے درمیان جھڑپ کے بعد کئی افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے خلاف فلمی دنیا کی متعدد معروف شخصیات نے آواز اٹھاتے ہوئے تشدد کی مذمت اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

A scene of the commotion at SRFTI. Photo: X
ایس آر ایف ٹی آئی میں ہنگامے کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

فلم ساز انوراگ کشیپ بھی فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اتوار کو کولکاتا کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) میں ہونے والے تشدد کے خلاف آواز اٹھائی۔ ایس آر ایف ٹی آئی کیمپس میں طلبہ اور اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت (اے بی جی پی) کے ارکان کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔ انوراگ کشیپ نے اتوار کی شب انسٹاگرام پر ایس آر ایف ٹی آئی اسٹوڈنٹس یونین کا ایک بیان شیئر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر طنز کیا۔ فلم ساز نے کیپشن میں لکھا، ’’بنگال میں ووٹ چرانےکیلئے انہوں نے یہی سب کچھ کیا تھا۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے، اور بھی بہت کچھ ہے۔ ‘‘
نیشنل ایوارڈ یافتہ فلم ساز سریجیت مکھرجی نے بھی کیمپس میں ہونے والے تشدد کی مذمت کی۔ انہوں نے فیس بک پر لکھا، ’’ایس آر ایف ٹی آئی کیمپس کے اندر ہونے والے تشدد اور افراتفری کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ پولیس اور انتظامیہ کو فوری طور پر ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہئے۔ ‘‘سریجیت کی فلم ’ونکل ٹوئنکل‘ میں حال ہی میں کام کرنے والے اداکار ریتوک چکرورتی نے بھی اس معاملے پر آواز اٹھائی۔ ان کی فیس بک پوسٹ میں کہا گیا، ’’جن لوگوں کی ثقافت میں بغیر تعلیم حاصل کئے تعلیمی اداروں میں داخل ہونے کیلئے گیٹ پھلانگنا شامل ہو، وہ یقیناً بے ثقافت اور غیر تعلیم یافتہ ہیں، اور بڑی حد تک کھلے عام غنڈے ہیں !‘‘
ہدایت کار اور اداکار کمالیشور مکھرجی نے بھی فیس بک پر اپنے احتجاج کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’ایک ایسے ادارے کو سرکاری فلم انسٹی ٹیوٹ، جو مرکزی حکومت کے زیر انتظام خودمختار ادارہ ہے، کے اندر پروگرام منعقد کرنے کی اجازت کس نے دی جس کا فنون لطیفہ، ٹیلی ویژن یا فلم سے کوئی تعلق نہیں ؟‘‘فلم ساز سودیشنا رائے نے طلبہ پر ہونے والے حملے کی مناسب تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’ایس آر ایف ٹی آئی میں جو کچھ ہوا، اسے کسی صورت درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس معاملے کی مناسب جانچ ہونی چاہئے۔ طلبہ محفوظ نہیں تھے اور ان کی سلامتی سب سے زیادہ اہم ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: یو پی آئی پر ایم ڈی آر کے خلاف درخواست، سپریم کورٹ کا فوری روک سے انکار

نیشنل ایوارڈ یافتہ اداکار ردھی سین نے فلمی دنیا کی ان شخصیات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی۔ انہوں نے لکھا، ’’بنگالی فلم انڈسٹری کے بیشتر فنکار اور تکنیکی ماہرین ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) کے طلبہ اور ارکان پر اے بی جی پی کی جانب سے کئے گئے جسمانی حملے کے خلاف احتجاج نہیں کریں گے۔ کیوں ؟ کیونکہ وہ ستیہ جیت رے یا اتم کمار کی صد سالہ تقریبات منانے میں مصروف ہیں، لیکن ایک صدی بعد جب فلمی طلبہ کو بے رحمی سے مارا پیٹا گیا تو وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ ‘‘ہدایت کار پردیپتا بھٹاچاریہ نے کیمپس میں کھینچی گئی ایک تصویر شیئر کی، جس میں ایس آر ایف ٹی آئی میں زخمی ہونے والے طلبہ کے خون سے ’آر ایس ایس‘ لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا، ’’آپ اور کتنا قتل کریں گے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: ممبئی: احتجاج کی اجازت نہیں، ابھیجیت دِپکے کا ۲؍ اکتوبر کو ’جیل بھرو‘ کا اعلان

ہدایت کار اور اسکرین رائٹر سبرتا سین نے ذمہ دار افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ایس آر ایف ٹی آئی میں جو کچھ ہوا، اس کی مذمت کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔ فلم، ٹیلی ویژن اور آڈیو ویژول صنعت سے وابستہ ہر شخص کو آگے آنا چاہئے، احتجاج کرنا چاہئے اور قصورواروں کو سزا دینے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ ‘‘فلم ساز اور اسکرین رائٹر کوشک گانگولی نے تعلیمی اداروں کو کرائے پر دینے کے معاملے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا، ’’میں حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ آئندہ کسی قومی تعلیمی ادارے کے کسی بھی حصے کو کرائے پر دینے سے پہلے یہ ضرور دیکھا جائے کہ متعلقہ تنظیم کا اس ادارے سے کوئی تعلق یا مطابقت ہے یا نہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو بہتر ہوگا کہ اسے کسی عام بینکوئٹ ہال یا تقریب کے مقام کی طرح کرائے پر نہ دیا جائے۔ اگر ہم محتاط نہ رہے تو ملک کے سامنے ہماری شبیہ بار بار داغ دار ہوتی رہے گی، جیسا کہ کل ہوا۔ میں جسمانی طور پر زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتا ہوں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK