اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ حملہ میں ۴؍ آئل ڈپو کو نشانہ بنایا، ۶؍ افراد جاں بحق، ۲۱؍ زخمی، شہریوں کو تیل آمیز سیاہ بارش کا بھی سامنا، فضا زہر آلود ہوگئی۔
EPAPER
Updated: March 09, 2026, 9:43 AM IST | Tehran
اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ حملہ میں ۴؍ آئل ڈپو کو نشانہ بنایا، ۶؍ افراد جاں بحق، ۲۱؍ زخمی، شہریوں کو تیل آمیز سیاہ بارش کا بھی سامنا، فضا زہر آلود ہوگئی۔
ایران پر تھوپی گئی جنگ میں ایک بار پھر شہری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب دارالحکومت تہران کے کم از کم ۴؍ آئل ڈپو پر بمباری کی جس کے نتیجے میں اس خبر کے لکھے جانے تک ۶؍ افراد جاں بحق ۲۱؍ سے زائد زخمی ہوگئے۔ حملے کے بعد لگنے والی آگ کے نتیجے میں تہران کی فضاپرصبح سے دھوئیں کے کالے بادل چھائے رہے۔ کچھ علاقوں میں سیاہ بوندا باندی بھی ہوئی جو تیل کی آمیزش کا نتیجہ تھی۔
سی این این کے رپورٹر فریڈرک پلیٹگن نے تہران میں ایک مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر دکھایا کہ دھوئیں کے بادل چھائے ہیں اور ہلکی ہلکی بارش ہو رہی ہے لیکن بارش کا پانی کالا ہے۔ حملے کی وجہ سے جہاں تیل کے ذخائر میں آگ بھڑک اٹھی وہیں تیل کے بہنے سے آس پاس کی سڑکیں بھی آگ کا دریا بن گئیں۔ تیل ڈپو کے تباہ ہونے کے بعد وہاں سے بہنے والا تیل سڑکوں کے کنارے نکاسی آب کے نظام میں داخل ہوگیا جس کے نتیجے میں سڑکوں کے کناروں پر آگ بھڑک اٹھی۔ اسے مقامی طور پر ’’آگ کی ندی‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق تیل کے بہاؤ کے سیوریج لائنوں میں داخل ہونے سے آگ بعض رہائشی علاقوں میں بھی پھیل گئی۔ اس سے شہری انفرا اسٹرکچر اور ماحولیات کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ تیل کے جن ذخائر کو نشانہ بنایاگیا ہے ان میں شمال مشرقی تہران میں واقع اقدسیہ تیل گودام، جنوب میں تہران ریفائنری، تہران کے مغرب میں شہران آئل ڈپو اور کرج علاقہ میں واقع آئل ڈپوشامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کے اخراج اور اس کے شہر میں پھیلنے کو فوری طور پر قابو نہ کیا گیا تو آگ مزید علاقوں تک پھیل سکتی ہے اور شہری آبادی کیلئے خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تہران کی ریفائنری پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کی حیفا ریفائنری پر حملہ کیاجبکہ ایران کویت ایئر پورٹ کے فیول ٹینکوں کو بھی ڈرون سے نشانہ بنایا۔