فرضی کاغذات کے ذریعے دوسرا ٹرسٹ بنانے کی کوشش ،۱۹؍افرادکیخلاف ایف آئی آر

Updated: January 09, 2022, 9:35 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

:سنّی کوکنی مسلم قبرستان کھیرنے گاؤں (نوی ممبئی )کا فرضی کاغذات کی بنیاد پرنیا ٹرسٹ بنانے کے الزام میںکوپر کھیرنے پولیس اسٹیشن میں۱۹؍لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے

Sunni Kokani Muslim Cemetery in Cooper Kherne, Navi Mumbai.
نوی ممبئی کے کوپر کھیرنے میں واقع سنّی کوکنی مسلم قبرستان۔

:سنّی کوکنی مسلم قبرستان کھیرنے گاؤں (نوی ممبئی )کا فرضی کاغذات کی بنیاد پرنیا ٹرسٹ بنانے کے الزام میںکوپر کھیرنے پولیس اسٹیشن میں۱۹؍لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔ ان تمام لوگوںکے خلاف پولیس نے ۴۱۷، ۴۶۵، ۴۶۸، ۴۷۱؍اورآئی پی سی ۳۴؍کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔پرویزفقیر محمدپٹیل جو موجودہ ٹرسٹی ہیں،نے ۵؍جنوری کو ایف آئی آر درج کروائی تھی۔
 جن لوگوںکے خلاف ایف آئی آردرج کروائی گئی ہے ان کے نام عارف یوسف پٹیل ، شاداب لطیف پٹیل، رویش عزیزپٹیل، سلیم احمدپٹیل ،شبیر احمدپٹیل، منیر یوسف پٹیل ، انور یوسف پٹیل، جعفر یوسف پٹیل ، ذاکریوسف پٹیل ، اعجازیوسف پٹیل ، آصف یوسف پٹیل ،اشفاق یوسف پٹیل ، سمیرلطیف پٹیل ، شہبازلطیف پٹیل ، غلام حسین فقیہ، عرفان شریف پٹیل ، اکبرمحمدکڑکے، ناظم عبداللہ پٹیل ، نعیم حسین میاں پٹیل ہیں۔ 
 ایف آئی آر درج کروانے والے پرویزفقیر محمدپٹیل نے نمائندۂ انقلاب کوایف آئی آرکی کاپی دینے کے ساتھ بتایا کہ ’’ یہ قبرستان ۲۰۱۸ء میں وقف بورڈ میں رجسٹرڈ کروایا گیا ہے ۔سنّی کوکنی مسلم قبرستان کوپرکھیرنےٹرسٹ موجود ہے، تمام عہدیداران کا باضابطہ انتخاب ہوا ہے اورٹرسٹ معمول کے مطابق نظام چلا رہا ہے لیکن ان لوگوںنے فرضی طریقے سےاندر اندر دوسرا ٹرسٹ بنانے کی کوشش کی اور جب اس کا پتہ چلا تو ہم نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے۔ اب تک کسی کی گرفتاری توعمل میںنہیںآئی ہے ،پولیس ان لوگوں کوتلاش کررہی ہے۔‘‘ انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’ یہ لوگ ۲۰۱۹ء سے اس کام کےلئے کوشاں تھے لیکن ان کو کامیابی نہیں ملی ، چنانچہ جعل سازی کرنے کےسبب ان کے خلاف کیس درج کروایا گیا  ہے اورہم سب کی یہ کوشش ہوگی کہ ان لوگوں کوسزا ملے ۔‘‘
 عارف یوسف پٹیل ،جن کا نام ایف آئی آر میںشامل ہے ،ان سے بھی انقلاب نے بات چیت کی توان کا کہناتھا کہ ’’ یہ معاملہ اورنگ آباد وقف ٹریبونل میںزیرسماعت ہے اس لئے فرضی کاغذات کا الزام مناسب نہیںہے ، کیس کا جلد فیصلہ ہونے والا ہے۔ ‘‘ انہوں نے صفائی دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’ دراصل ۱۹۳۶ء سے پہلے  یہاں قبرستان ہے اورکل ۵۱؍ گنٹھے کا پلاٹ تھا لیکن اس میںسے ۱۹۷۱ء میںسڈکو نے ۲۱؍ گنٹھاایکوائرکرلیا تھا اوراس کاہم لوگوں کومعاوضہ دیا لیکن ۳۱؍گنٹھے کا ہمیںمعاوضہ نہیںدیا گیا اورہمیںمعاوضہ چاہئے بھی نہیں۔ نمائندے کے ان سے یہ پوچھنے پرکہ جب وہاں اتنا قدیم قبرستان موجودہے توآپ کومعاوضہ ملنے یا لینے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے؟ عارف یوسف پٹیل کے مطابق ’’ اس زمین کے سات بارہ میں ہمارے خاندان کا نام ہےاورقبرستان کی زمین ہمارے آباء واجداد نے وقف کی تھی۔ ‘‘
 ان کے بڑے بھائی شاداب لطیف پٹیل کے مطابق ’’ افسوس کی بات ہے کہ یہ معاملہ پولیس اسٹیشن تک پہنچ گیا ،ہم چاہ رہے تھے کہ گھرکامعاملہ ہے اورافہام وتفہیم سے حل ہوجائے لیکن نوبت یہاںتک آگئی ۔ اب انتظار ٹریبونل کے فیصلے کا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK