آسٹریلیا نے اسلام کے خلاف نفرت انگیز اور متنازع بیانات دینے والے ایک اسرائیلی انفلوئنسر سیمی یہود کا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔ یہ اقدام ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 1:13 PM IST | Sydney
آسٹریلیا نے اسلام کے خلاف نفرت انگیز اور متنازع بیانات دینے والے ایک اسرائیلی انفلوئنسر سیمی یہود کا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔ یہ اقدام ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
آسٹریلیا نے اسلام کے خلاف متنازع بیانات دینے والے ایک اسرائیلی انفلوئنسر کا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔ اسکائی نیوز کے مطابق، وزیرِ داخلہ ٹونی برک نے سیمی یہود کا ویزا آسٹریلیا روانگی سے چند گھنٹے قبل منسوخ کر دیا۔ وہ آسٹریلیا کا دورہ کرنے والے تھے اور سڈنی اور میلبورن میں بڑے پروگراموں سے خطاب کرنا تھا۔ تاہم، اسلام کے خلاف ان کے متنازع بیانات کے باعث آسٹریلوی حکومت نے ان کا ویزا منسوخ کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: منیاپولس: وفاقی عدالت نے ۵؍ سالہ بچے اور والد کی جلا وطنی روک دی
اس سے قبل، آسٹریلوی حکومت نے گزشتہ سال جون میں اسرائیلی ٹیک انٹرپرینیور ہلیل فلڈ کا ویزا بھی ’’اسلاموفوبک بیانات‘‘کی وجہ سے منسوخ کر دیا تھا۔ اسی طرح، اگست میں کینبرا نے انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی سیاست دان سمچا روتھمین کا ویزا بھی منسوخ کر دیا تھا جنہوں نے غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کے منصوبوں کی حمایت کی تھی اور فلسطینی بچوں کو اسرائیل کے’’دشمن ‘‘قرار دیا تھا۔