• Thu, 29 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منیاپولس: وفاقی عدالت نے ۵؍ سالہ بچے اور والد کی جلا وطنی روک دی

Updated: January 28, 2026, 8:59 PM IST | Minneapolis

منیاپولس، امریکہ میں وفاقی عدالت نے ۵؍ سالہ لیئم کونےجو راموس اور اس کے والد کی ملک بدری کو عارضی طور پر روک دیا ہے جنہیں آئی سی ای حکام نے گرفتار کیا تھا۔ اس فیصلے نے امیگریشن پالیسی، عوامی احتجاجات اور عدالتی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ عدالت کے حکم کے تحت وہ مزید قانونی کارروائی تک ملک سے نہیں نکالے جا سکتے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکہ کی وفاقی عدالت نے منگل کو ۵؍ سالہ لیئم کونےجو راموس اور اس کے والد، ایڈریان کونےجو ایریاس، کی ملک بدری پر عارضی پابندی عائد کر دی، جو ’’آئس‘‘ (آئی سی ای) حکام کی حالیہ گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی شدید تنقید اور عوامی احتجاج کا محور بن گئی ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ والد اور بیٹے کو موجودہ قانونی کارروائی مکمل ہونے تک ریاست ٹیکساس کے باہر منتقل یا ملک سے نکالا نہیں جا سکتا۔یہ فیصلہ ٹیکساس کے فیڈرل جج فریڈ بیری نے سنایا۔ انہوں نے فیصلے میں لکھا کہ ’’مدعاعلیہ یعنی والد اور کم عمر بچے کو عدالت کی کارروائی کے دوران اس دائرہ اختیار سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یاد رہے کہ لیئم اور اس کے والد کو ۲۰؍ جنوری کو منیاپولس سیائے علاقے میں بچے کی اسکول سے واپسی پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس گرفتاری کے ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہوئیں، جن میں لیئم اپنے اسپائیڈر مین بیگ کے ساتھ دیکھا گیا۔ اس نے امیگریشن پالیسی پر بڑے پیمانے پر بحث اور احتجاج کو جنم دیا۔ دونوں کے خلاف فوری طور پر ملک بدری احکام کا اطلاق نہیں ہوا تھا اور پناہ حاصل کرنے کا ان کا کیس امیگریشن عدالت میں زیر التواء تھا۔

یہ بھی پڑھئے: پیرس میں تارکین وطن کارکن کی حراستی موت کے خلاف احتجاج، ہزاروں کی شرکت

گرفتاری کے بعد امریکہ بھر میں امیگریشن کی سخت حکمت عملی کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ منیاپولس میں خصوصی طور پر احتجاجی جلسے منعقد ہوئے جن میں شہریوں نے بچوں اور خاندانوں کے حق میں نعروں اور بینرز کے ساتھ شرکت کی۔ ساؤتھ ٹیکساس کے ڈیلی خاندانی حراستی مرکز کے باہر بھی مظاہرے ہوئے جہاں والد اور بیٹا رکھا گیا تھا۔ قانونی ماہرین اور وکلاء کے بقول، والد اور بیٹے کا کیس موجودہ امیگریشن عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس کے فیصلے تک انہیں ملک بدر یا کسی اور ریاست منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے فیصلے نے وفاقی حکام اور انسانی حقوق کے وکلاء کے درمیان قانونی لڑائی کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکوریٹی نے اس گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام نے لیئم کے والد کو نشانہ بنایا کیونکہ وہ غیر قانونی طور پر ملک میں موجود تھا اور گرفتاری کے دوران بچے کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا تھا، جبکہ وکلاء نے اس عمل کو غیر انسانی اور بچوں کے خلاف تشدد کی مثال قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: منیا پولس کے ٹائون ہال میں صومالی نژاد نمائندہ الہان عمر پر کیمیائی حملہ

اس واقعے نے امریکا میں امیگریشن پالیسی، خصوصی طور پر بچوں کی گرفتاریوں، پر وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی قانون سازوں اور حقوق انسانی کے گروہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی سطح پر ایسی کارروائیوں کے قواعد و ضوابط کا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور بچوں کی حفاظت کو ترجیح دی جائے۔ مزید برآں، منیاپولس میں حالیہ امیگریشن آپریشنز، جنہیں ’’آپریشن میٹرو سرج‘‘ کہا جاتا ہے، نے ہزاروں شہریوں کو گرفتار کیا ہے جس پر مقامی لیڈران اور ریاستی حکام نے سخت اعتراضات کیے ہیں۔ بعض واقعات میں وفاقی حکام کے خلاف مرنے والے افراد کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں، جنہوں نے مزید احتجاج اور قانونی تنازعات کو ہوا دی ہے۔ یوں عدالت کے تازہ حکم نے اس تنازع میں ایک اہم موڑ قائم کیا ہے، جہاں امیگریشن کی پالیسی، انسانی حقوق اور قانونی عمل کے درمیان کشمکش مزید گہرائی اختیار کر رہی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK