Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلیا: بچوں کے سوشل میڈیا پابندی کے بعد آن لائن سیفٹی چیف کو قتل کی دھمکیاں

Updated: April 29, 2026, 5:01 PM IST | Canberra

آسٹریلیا کی آن لائن سیفٹی چیف نے کہا کہ بچوں کے سوشل میڈیاپر پابندی کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں، ان کے خلاف اس شدت کی وجہ ۱۶؍ سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی کا اعلان ہے۔

Australia`s top online safety chief Julie Inman Grant Photo: X
آسٹریلیا کی اعلیٰ آن لائن سیفٹی چیف جولی انمان گرانٹ تصویر: ایکس

ایس بی ایس نیوز کے مطابق، آسٹریلیا کی اعلیٰ آن لائن سیفٹی ریگولیٹر نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں متنازع سوشل میڈیا پابندی کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیاں اور وسیع پیمانے پر گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑا۔جب ایلون مسک نے انہیں ’’سنسرشپ کمشنر‘‘ کہہ کر تنقید کی تو اس کے ۲۴؍گھنٹوں کے اندر تقریباً ۷۵؍ ہزار پوسٹس ان کے خلاف کی گئیں، جن میں زیادہ تر زہریلی، نقصان دہ اور جان لیوا دھمکیوں پر مشتمل تھیں۔انہوں نے کہا کہ ان کے بچوں اور خاندان کے بارے میں ذاتی معلومات آن لائن پھیلائی گئیں، ڈیپ فیک بنائے گئے، اور صنفی بنیاد پر ہراساں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ’’ جب لوگ میرے بچوں اور خاندان کو نشانہ بناتے ہیں تو میں سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہوں کہ کیا میں اپنے خاندان کو خطرے میں ڈال رہی ہوں؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: جاپان ایئرلائنز، ٹوکیو کے ہنیڈا ایئرپورٹ پر سامان کی ترسیل کیلئے ہیومنائیڈ روبوٹس کا استعمال کرے گی

بعد ازاں انہوں نے خبردار کیا کہ جیسے جیسے خواتین ریگولیٹری اور قیادت کے عہدوں پر آئیں گی، انہیں بھی سرکاری تحفظات کی ضرورت ہوگی جو منتخب عہدیداروں کو حاصل ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ ان حملوں نے ان کے عزم کو اور مضبوط کیا ہے، اور ڈرانے دھمکانے سے وہ اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔  اس سےقبل آسٹریلیا نے بڑے گیمنگ پلیٹ فارم کو اپنے طریقہ کار میں شفافیت لانے کا نوٹس دیا تھا، جس میں روبلوکس، مائن کرافٹ، فورٹنائٹ اور اسٹیم شامل ہیں،اس نوٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھاکہ ان گیمز میں ذریعے شدت پسند اورجنسی حیوان گروپ دراندازی کررہے ہیں۔واضح رہے کہ آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی ہے۔جس کے بعد دنیا کے کئی ممالک نے اس کی پیروی کرتے ہوئے مختلف عمر کے بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کردی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK