Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: ٹوٹا ہوا خواب

Updated: April 29, 2026, 4:40 PM IST | Ghazala Rizwan Shahji | Mumbai

کلاس سے شور کی آواز آئی تو زین چونک گئے۔ وہ فوراً پلٹے اور کلاس میں داخل ہوئے۔ ایک بچہ زمین پر بیٹھا اور اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

زین ایک اسکول میں بطورِ استاد مقرر ہوئے۔ انہوں نے اس پیشے کو محض ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری سمجھ کر اپنایا تھا۔ وہ اپنے دل میں طلبہ کے لئے بے شمار خواب بُن رہے تھے۔ ایسے خواب جن میں ہر بچہ کامیابی کی روشنی میں نہایا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔

ہر صبح وہ نئے عزم کے ساتھ اسکول کی راہ لیتے۔

’’السلام علیکم سر!‘‘ کی مانوس آوازیں ان کے لئے کسی میٹھی دھن سے کم نہ تھیں۔ یہی وہ آوازیں تھیں جو ان کی تھکن اتار دیتی۔

اس دن بھی سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر ایک لمحے نے سب کچھ بدل دیا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سناٹوں کی آواز

کلاس سے شور کی آواز آئی تو زین چونک گئے۔ وہ فوراً پلٹے اور کلاس میں داخل ہوئے۔ ایک بچہ زمین پر بیٹھا اور اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ زین کا دل دھک سے رہ گیا۔ انہوں نے فوراً فرسٹ ایڈ منگوایا اور بچے کی مرہم پٹی کی۔

تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک شرارتی طالب علم نے اسے مارا ہے۔ زین نے سختی سے اسے دیکھا اور سزا کے طور پر کلاس کے سامنے کھڑا کر دیا۔

’’آج تم دو پیریڈ تک یہی کھڑے رہو گے۔‘‘

یہ فیصلہ انہوں نے کسی غصے میں نہیں، بلکہ اصلاح کی نیت سے کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ بچہ اپنی غلطی کو سمجھے.... آئندہ کسی کو نقصان نہ پہنچائے اور خود بھی بڑ ے نقصان سے بچے۔

مگر اگلے دن زندگی نے ایک ایسی کروٹ لی، جسے وہ عمر بھر بھول نہ سکے۔

اسکول کے دروازے پر ایک ہجوم تھا۔ جیسے ہی زین قریب پہنچے، چند لوگ ان کی طرف بڑھے اور ان کا گریبان پکڑ لیا۔ زین حیران، پریشان اور خاموش....

انہیں ہیڈ ماسٹر کی آفس میں لے جا کر ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ایک بچے کی تذلیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: اوقات

’’میرا بھائی کل گھر آ کر روتا رہا!‘‘ ایک نوجوان چیخ کر بولا، ’’کیا استاد ایسے ہوتے ہیں؟‘‘

بات بڑھتی گئی، لہجہ سخت ہوتا گیا....

اور آخرکار پولیس کی دھمکی دی گئی۔

ہیڈ ماسٹر نے حالات کو سنبھالنے کے لئے زین کی طرف دیکھا۔ ایک ایسا فیصلہ جس میں انصاف کم اور مجبوری زیادہ تھی۔

’’آپ جا کر بچے سے معافی مانگ لیں۔‘‘

یہ الفاظ زین کے لئے کسی حکم سے کم نہ تھے۔

نہ چاہتے ہوئے بھی وہ خاموشی سے کلاس میں گئے، اور سب بچوں کے سامنے اس بچے سے معافی مانگ لی۔

اسی لمحے ان کے اندر امید کا ایک چراغ بجھ سا گیا۔

اس دن کے بعد سب کچھ بدل گیا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ادھوری خواہشوں کا سفر

وہی زین، جو کبھی طلبہ کے خواب بنتا تھا، اب خود ایک ٹوٹا ہوا خواب بن چکا تھا۔ وہ کلاس میں جاتے، سبق پڑھاتے اور خاموشی سے واپس آ جاتے۔ نہ کسی کو ڈانٹتے، نہ کسی کو سزا دیتے۔

یہاں تک کہ اب وہ شاباشی دینے سے بھی ڈرنے لگے تھے۔ اگر کوئی بچہ اچھا کام کرتا، تو دل چاہتا کہ اس کی حوصلہ افزائی کریں، اس کی پیٹھ تھپتھپائیں۔ مگر فوراً ایک انجانا خوف ان کے ہاتھ روک لیتا۔

’’کہیں یہ شفقت بھی الزام نہ بن جائے....؟ کہیں کل یہی بچہ اپنے والدین کے ساتھ آ کر شکایت نہ کر دے....؟‘‘

اب وہ صرف لفظوں کے استاد رہ گئے تھے۔

بے اختیار اور بے آواز۔

اوپر سے نت نئے سروے، میٹنگز اور کاغذی کارروائیوں کا بوجھ بھی ان کے کندھوں پر ڈال دیا گیا تھا۔ کبھی مردم شماری، کبھی تعلیمی سروے، تو کبھی اچانک بلائی جانے والی میٹنگ۔ ان سب نے انہیں اندر سے اور بھی زیادہ کھوکھلا کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سود و زیاں

وہ اکثر سوچتے ’’کیا مَیں واقعی ایک استاد ہوں....؟ یا صرف ایک ملازم، جسے ہر روز نئے کاموں میں الجھا دیا جاتا؟‘‘

ان سب کے بیچ کہیں ان کا اصل مقصد کھو گیا تھا۔

طلبہ کی تربیت، ان کی رہنمائی.... ان کا مستقبل۔

ایک دن وہ کلاس کے دروازے پر گہری سوچ میں کھڑے تھے کہ ان کے ذہن کو اس خواب نے پھر جگایا، جس کا انہوں نے عزم کیا تھا، وہ عزم انہیں بار بار یہ یاد دلاتا۔

’’اگر استاد ہی خاموش ہو جائے.... تو بچوں کا مستقبل کون سنوارے گا....؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK