Updated: April 29, 2026, 2:51 PM IST
| Tokyo
ایئرلائنز کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم بڑھتی ہوئی سیاحت کے باعث مسافروں کے رش اور جاپان کی بوڑھی ہوتی آبادی کی وجہ سے مزدوروں کی بڑھتی ہوئی قلت کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔ چین میں تیار کردہ یہ روبوٹ فی الحال مسلسل دو سے تین گھنٹے کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جاپان ایئرلائنز (جے اے ایل) اگلے ماہ سے ٹوکیو کے ہنیڈا ایئرپورٹ پر مسافروں کے سامان کی ترسیل کیلئے انسانوں کے مشابہ دکھائی دینے والے (ہیومنائیڈ) روبوٹس کا استعمال کرنے والی ہے۔ اس اقدام کا مقصد گراؤنڈ آپریشنز میں کارکردگی کو بہتر بنانا اور افرادی قوت کی کمی کو دور کرنا ہے۔
یہ آزمائش ”جی ایم او انٹرنیٹ گروپ“ اور اس کے روبوٹکس ونگ ”جی ایم او اے آئی اینڈ روبوٹکس“ کے تعاون سے شروع کی جا رہی ہے۔ یہ تجربہ ۲۰۲۸ء تک جاری رہے گا۔ حکام کے مطابق، جاپان کے شعبہ ہوا بازی میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی یہ پہلی تعیناتی ہے۔
اس آزمائشی عمل کا انتظام جے اے ایل گراؤنڈ سروس کے ذمہ رہے گا جو کارگو لوڈنگ اور طیاروں کی رہنمائی جیسے اہم افعال کی ذمہ دار ہے۔ ان روبوٹس کو جسمانی طور پر سخت کام سونپے جائیں گے، جو اب تک دستی مزدوری پر منحصر رہے ہیں۔ کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم بڑھتی ہوئی سیاحت کے باعث مسافروں کے رش اور جاپان کی بوڑھی ہوتی آبادی کی وجہ سے مزدوروں کی بڑھتی ہوئی قلت کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گوگل کے ملازمین کا سندر پچائی سے منتخب کاموں کیلئے پنٹاگون کے اےآئی استعمال پر روک کا مطالبہ
جے اے ایل گراؤنڈ سروس کے صدر یوشیتیرو سوزوکی نے توقع ظاہر کی کہ سامان کی ترسیل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے سے ملازمین پر بوجھ کم ہو جائے گا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ تاہم سیفٹی منیجمنٹ جیسے اہم کردار انسانی نگرانی میں ہی رہیں گے۔ توموہیرو یوچیڈا نے نوٹ کیا کہ ہوائی اڈوں پر ظاہری آٹومیشن کے باوجود، بہت سے پسِ منظر میں انجام پانے والے اعمال اب بھی زیادہ تر انسانی محنت پر منحصر ہیں، جو آپریشنل چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔
چین میں تیار کردہ یہ روبوٹ فی الحال مسلسل دو سے تین گھنٹے کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ منصوبے کے مستقبل کے مراحل میں ان کا استعمال مزید کاموں تک بڑھایا جا سکتا ہے اور ان سے طیاروں کے کیبن کی صفائی جیسے دیگر کام لئے جاتے ہیں۔ یہ تجربہ جاپان کی ہوا بازی کی صنعت کے ان وسیع تر اقدامات کی عکاسی کرتا ہے جن کا مقصد افرادی قوت کی کمی کے باوجود کارکردگی برقرار رکھنے کیلئے آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کو شامل کرنا ہے۔