Updated: October 27, 2026, 10:07 PM IST
| Adelaide
آسٹریلیا کے معروف ادبی میلے نے فلسطینی نژاد آسٹریلوی مصنفہ رندا عبدالفتاح کو ۲۰۲۶ء کے پروگرام سے خارج کرنے کے فیصلے پر معذرت کے بعد اگلے سال دوبارہ مدعو کیا ہے؛ ان کی شرکت کے خلاف فیصلے نے آزادیٔ اظہار، فلسطینی آوازوں کی نمائندگی اور ادبی اداروں کی خودمختاری پر ملک گیر بحث چھیڑ دی تھی، جس کے نتیجے میں ادیبوں کی اجتماعی دست برداری اور میلے کی منسوخی ہوئی۔
فلسطینی نژاد آسٹریلوی مصنفہ رندا عبدالفتاح۔ تصویر: ایکس
آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں منعقد ہونے والے معروف ادبی میلے Adelaide Writers’ Week کے ۲۰۲۷ء کے پروگرام میں فلسطینی نژاد آسٹریلوی مصنفہ اور ماہرِ عمرانیات ڈاکٹر رندا عبدالفتاح کی شرکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔ ایڈیلیڈ فیسٹیول کے آرٹسٹک ڈائریکٹر میتھیو لٹن نے بتایا کہ مصنفہ نے دعوت قبول کرلی ہے۔ وہ فرانسیسی مراکشی مصنفہ اور صحافی لیلا سلیمانی کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں شریک ہوں گی، جس کا عنوان ’’بیٹوین دی لائنز‘‘ (Between the Lines) رکھا گیا ہے۔ اس نشست کی میزبانی آسٹریلوی براڈکاسٹر جان فران کریں گی۔ یہ اعلان ۲۰۲۷ء کے ایڈیلیڈ فیسٹیول کے پروگرام کی رونمائی کے موقع پر کیا گیا۔ رندا عبدالفتاح کی واپسی محض کسی مصنفہ کو ادبی میلے میں دوبارہ مدعو کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ اس تنازعے کا نیا مرحلہ ہے جس نے آسٹریلیا کے اہم ادبی اجتماعات میں سے ایک کو شدید بحران سے دوچار کردیا تھا۔ جنوری ۲۰۲۶ء میں ایڈیلیڈ فیسٹیول کے بورڈ نے انہیں میلے کے پروگرام سے خارج کردیا تھا۔ وہ وہاں اپنے ناول Discipline پر گفتگو کرنے والی تھیں۔ بورڈ نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیا اور کہا کہ دسمبر ۲۰۲۵ء میں بونڈی بیچ کے حملے کے بعد پیدا ہونے والے غیر معمولی قومی ماحول میں ان کی شرکت کو جاری رکھنا ’’ثقافتی طور پر حساس‘‘ نہیں ہوگا۔ تاہم، بورڈ نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ مصنفہ کے کن مخصوص بیانات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ عبدالفتاح نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں بونڈی حملے سے جوڑنا اشتعال انگیز اور ناانصافی پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گامبیا: ملک کےپہلے نابینا مجسٹریٹ کی تنقید، تمام نظام کی تشکیل اہل بینا کے مطابق
مصنفہ کو پروگرام سے خارج کیے جانے کے بعد آسٹریلیا اور بیرونِ ملک ادبی حلقوں میں احتجاج شروع ہوگیا۔ متعدد معروف مصنفین نے فیصلے کے خلاف Adelaide Writers’ Week میں شرکت سے انکار کردیا۔ ان میں میلز فرینکلن ایوارڈ یافتہ مصنفین مشیل ڈی کریسر اور میلیسا لوکاشینکو، صحافی پیٹر گریسٹ، ماہرِ معاشیات اور مصنف یانیس واروفاکس اور کئی دیگر ادیب شامل تھے۔ آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی کے مطابق تقریباً ۱۸۰؍ مصنفین نے میلے سے دست برداری اختیار کی یا اس کے بائیکاٹ کی حمایت کی۔ تھنک ٹینک آسٹریلیا انسٹی ٹیوٹ نے بھی اپنی حمایت واپس لے لی۔ مصنفین کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ ایک فلسطینی مصنفہ کو ان کے سیاسی بیانات کی بنیاد پر ادبی پروگرام سے خارج کرنا آزادیٔ اظہار اور ادبی اداروں کی خودمختاری کے اصولوں سے متصادم ہے۔ تنازعے کے نتیجے میں میلے کی ڈائریکٹر لوئز ایڈلر نے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ کسی مصنف کو خاموش کرنے کے فیصلے کا حصہ نہیں بن سکتیں۔ اس کے بعد ایڈیلیڈ فیسٹیول کارپوریشن نے ۲۰۲۶ء کے رائٹرز ویک کو منسوخ کردیا، کیونکہ منتظمین کے مطابق پیدا شدہ صورتِ حال میں اسے منعقد کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ یوں ایک مصنفہ کی شرکت منسوخ کرنے کے فیصلے نے پورے ادبی میلے کو لپیٹ میں لے لیا۔ اس واقعے نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ادبی میلوں میں مدعو کیے جانے والے مصنفین کا انتخاب ان کی تخلیقات کی بنیاد پر ہونا چاہیے یا ان کے سیاسی مؤقف کو بھی فیصلہ کن حیثیت دی جاسکتی ہے۔
جنوری کے وسط میں فیسٹیول کے نئے بورڈ نے سابقہ فیصلے سے رجوع کرتے ہوئے عبدالفتاح سے باضابطہ معذرت کی اور ۲۰۲۷ء کے میلے میں شرکت کی دعوت دی۔ بورڈ نے اپنا سابقہ بیان واپس لیتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس نے مصنفہ کو پہنچنے والے نقصان کے لیے غیر مشروط معافی مانگنی چاہیے۔ اس کے بیان میں کہا گیا، “فکری اور فنکارانہ آزادی ایک طاقتور انسانی حق ہے۔ ہمارا مقصد اس کا تحفظ کرنا ہے، اور اس معاملے میں ایڈیلیڈ فیسٹیول کارپوریشن اس معیار پر پورا نہیں اتری۔” بورڈ نے لوئز ایڈلر کے استعفے پر بھی افسوس ظاہر کیا اور ادبی میلے کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔ تاہم، اس وقت بورڈ نے واضح کیا تھا کہ ۲۰۲۶ء کا منسوخ شدہ میلہ دوبارہ منعقد نہیں ہوسکے گا۔عبدالفتاح نے معذرت قبول کی تھی، لیکن اس وقت کہا تھا کہ نقصان کا ازالہ فوری طور پر نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اس فیصلے کو فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستی، دباؤ اور سنسرشپ کے خلاف اجتماعی جدوجہد کی کامیابی قرار دیا تھا۔ بعد میں انہوں نے ۲۰۲۷ء کی دعوت قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کی اب ایڈیلیڈ فیسٹیول نے باضابطہ تصدیق کردی ہے۔ اس دوران مصنفہ نے فروری اور مارچ ۲۰۲۶ء میں متبادل ادبی پروگرام ’’کانسٹیلیشنز‘‘ میں بھی شرکت کی، جسے منسوخ شدہ رائٹرز ویک کے بعد ادیبوں اور ادبی اداروں نے منعقد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: جنین: اسکول جانے کیلئے بچوں کو اسرائیلی فوجی گیٹوں کے نیچے سے رینگنا پڑ رہا ہے
رندا عبدالفتاح آسٹریلیا میں فلسطینی نژاد مصنفہ، وکیل، ماہرِ عمرانیات اور فلسطینی حقوق کے لیے سرگرم آواز کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں فلسطینی آسٹریلوی شناخت، نسل پرستی، اسلاموفوبیا، ہجرت اور سیاسی شناخت جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کا ناول Discipline رمضان کے پس منظر میں لکھا گیا ہے اور اس میں مسلم دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے کرداروں کے ذریعے شناخت اور سیاسی اختلاف کے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ۲۰۲۷ء میں ان کی واپسی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب فیسٹیول کی نئی انتظامیہ ادبی پروگرام کے انتخاب میں ادارتی خودمختاری اور مختلف نظریات رکھنے والے مصنفین کی شرکت کے اصولوں کو دوبارہ واضح کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اے بی سی کے مطابق نئی ڈائریکٹر روزمیری ملسم نے پہلے ہی کہا تھا کہ مصنفین کو ان کی سیاسی رائے کے بجائے ان کے ادبی کام کی بنیاد پر مدعو کیا جانا چاہیے، بشرطیکہ وہ نفرت انگیزی یا امتیازی سلوک سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں۔