Updated: October 27, 2026, 4:03 PM IST
| West Bank
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی پابندیوں اور آبادکاروں کے حملوں نے فلسطینی بچوں کیلئے حصولِ تعلیم کو خطرناک اور دشوار بنا دیا ہے۔ جنین میں بچوں کو اسکول جانےکیلئے فوجی گیٹوں کے نیچے سے رینگ کر گزرنا پڑ رہا ہے، جبکہ رواں سال ۲۴؍ ہزار ۵۰۰؍ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
کچھ طلبہ اسرائیلی فوجی گیٹوں کے نیچے سے گزر رہے ہیں۔ تصویر: ایکس
مغربی کنارے میں ہزاروں فلسطینی بچوں کیلئے اسکول جانا دن بہ دن خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں فلسطینی بچوں کو اسکول آنے جانے کیلئے اسرائیلی فوج کی جانب سے لگائے گئے گیٹوں کے نیچے سے رینگ کر گزرنا پڑ رہا ہے۔ نقل و حرکت پر عائد ایسی پابندیوں کے باعث بچوں کو نہ صرف تعلیمی سرگرمیاں چھوڑنی پڑ رہی ہیں بلکہ بعض کو اپنے گھر بار منتقل کرنے یا تعلیم ترک کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ یہ بات امدادی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ نے کہی ہے۔ عرب نیوز کو موصول ہونے والے ایک بیان میں تنظیم نے بتایا کہ تعلیمی سال کے پہلے۵۰؍ دنوں میں آبادکاروں کے تشدد اور اسرائیلی فوجی پابندیوں کے باعث متاثر ہونے والے طلبہ کی تعداد گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: پناہ گزین خاندان شمسی توانائی کی مدد سے پنکھا چلانے اور رات میں بچوں کو پڑھانے کے قابل
سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل کے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور مشرقی یورپ کے علاقائی ڈائریکٹر احمد الہنداوی نے کہا، ’’اسکولوں اور وہاں تک پہنچنے والے راستوں کو ہر طرح کے خطرات سے پاک ہونا چاہئے۔ کسی بھی بچے کو اپنی جان کے خوف سے کبھی بھی اپنی جماعت چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور نہیں ہونا چاہئے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں متاثرہ طلبہ کی تعداد دو گنا سے زیادہ ہو جانا خطرے کی گھنٹی ہے۔ تشدد کے باعث اسکول کا ہر ضائع ہونے والا دن بچوں کو تعلیم کے مواقع، استحکام اور تحفظ کے احساس سے محروم کرتا ہے۔ ’ایجوکیشن کلسٹر‘ نامی انسانی ہمدردی کی تنظیم، جس کی مشترکہ قیادت سیو دی چلڈرن اور اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کرتا ہے، نے یکم ستمبر سے۲۰؍ اکتوبر کے درمیان تعلیم سے متعلق۱۷۴؍ واقعات درج کئے۔ ان واقعات سے۱۴۰؍ اسکول اور۲۴؍ ہزار ۵۰۰؍ طلبہ متاثر ہوئے۔ یہ تعداد ایک سال قبل اسی مدت کے دوران متاثر ہونے والے تقریباً ۱۱؍ ہزار ۱۰۰؍طلبہ کے مقابلے میں ۱۲۱؍ فیصد زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مشی گن میں سینیٹ کی انتخابی ریلی کے دوران ٹرمپ کی عبدالسید کے خلاف فرقہ وارانہ بیان بازی میں شدت
ان واقعات کے باعث طلبہ کی ۸۷۵؍ سے زیادہ تدریسی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جب کہ۲۰۲۵ء میں اسی مدت کے دوران تقریباً ۱۷۴؍ گھنٹے کی تعلیم متاثر ہوئی تھی۔ اس طرح تعلیمی وقت کے ضیاع میں ۴۰۰؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ تعلیمی سرگرمیوں میں خلل کی ایک بڑی وجہ نقل و حرکت پر وسیع پابندیاں بھی ہیں۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے حوالے سے پیش کئےگئے اعداد و شمار کے مطابق، مغربی کنارے میں ۹۴۲؍چیک پوسٹیں، راستوں کی بندش کے مقامات اور دیگر جسمانی رکاوٹیں لوگوں کی آمد و رفت محدود کر رہی ہیں۔ بہت سے بچوں کیلئے مشکلات اسکول پہنچنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق، ستمبر کے اواخر میں نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث طوباس گورنری میں ۱۰؍ بچے اسکول نہیں پہنچ سکے۔
ایک خاندان نے اپنے تین بچوں کو عارضی طور پر دوسری جگہ منتقل کر دیا تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں، جب کہ باقی سات بچے اسکول میں بالمشافہ تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہے۔ اسکول لے جانے والی گاڑیاں بھی حملوں کی زد میں آ رہی ہیں۔ ۱۲؍ اکتوبر کو مسافر یطّا کے علاقے میں آبادکاروں نے الفخیط اسکول کے طلبہ کو لینے والی ایک گاڑی کو دو گھنٹے سے زیادہ وقت تک روک کر رکھا۔ او سی ایچ اے کے مطابق، اگلے روز آبادکاروں نے دو اسکولی گاڑیوں پر پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔ اس دوران ایک گاڑی کو نقصان پہنچا، جبکہ اس میں بچے بھی موجود تھے۔ ان واقعات سے چار آبادیوں کے۲۴؍ طلبہ متاثر ہوئے، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام نہ ملنے پرٹرمپ کا ناروے کے تعلق سے انتہائی نازیبا تبصرہ
تشدد کے واقعات اسکولوں کی عمارتوں تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ وفا کے مطابق، ۱۹؍اکتوبر کو نابلس کے جنوب میں واقع جالود کو-ایجوکیشنل ایلیمنٹری اسکول کے عملے نے طلبہ کو عمارت سے نکال کر گھر بھیج دیا، کیونکہ آبادکاروں نے اسکول میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ خبر میں گاؤں کی کونسل کے سربراہ کے حوالے سے یہ اطلاع دی گئی۔ آبادکاروں کے تشدد کے علاوہ سیو دی چلڈرن نے اسرائیلی فورسیز سے متعلق ایسے واقعات کی بھی نشاندہی کی، جن کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور طلبہ و اساتذہ کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی۔ تنظیم کے مطابق، ۱۶؍ ستمبر کو مشرقی یروشلم کے بیت حنینا علاقے میں اسکول سے گھر واپس آنے والے کئی طلبہ اس وقت آنسو گیس کی زد میں آ گئے، جب اسرائیلی فورسیز نے قریب ہی آنسو گیس کے گولے داغے۔
تنظیم نے ۴؍اکتوبر کو راملہ کے شمال مشرق میں واقع المغیر علاقے میں اسکول جانے والے طلبہ اور۱۹؍ اکتوبر کو مسافر یطّا کے علاقے میں واقع سوسیہ ایلیمنٹری اسکول جانے والے اساتذہ کو حراست میں لئے جانے کے واقعات کا بھی ذکر کیا۔ سیو دی چلڈرن نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول غزہ، میں بچوں، اساتذہ اور تعلیمی اداروں پر حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے تعلیم تک رسائی میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے، مسماری کے خطرے سے دوچار اسکولوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانے کیلئے آزادانہ تحقیقات کرانے پر بھی زور دیا ہے۔