Updated: October 07, 2026, 7:04 PM IST
فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے ستمبر ۲۰۲۶ء کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسلامی مقدسات کے خلاف اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی مبینہ کارروائیوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ وزارت کے مطابق ستمبر میں مسجدِ اقصیٰ پر ۲۶؍ مرتبہ دھاوا بولا گیا، جبکہ الخلیل کی مسجدِ ابراہیمی میں ۱۵۰؍ مرتبہ اذان دینے سے روکا گیا اور اسے یہودی تہواروں کے نام پر ۶؍ دن مکمل طور پر بند رکھا گیا۔ رپورٹ میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں مذہبی رسومات اور اجتماعی عبادت کے واقعات میں اضافے، مغربی کنارے کی دیگر مساجد پر حملوں اور ایک نماز ہال کو منہدم کیے جانے کا بھی ذکر ہے۔
مسجدِ اقصیٰ پر ستمبر میں ۲۶؍ مرتبہ دھاوا
فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے کہا ہے کہ ستمبر کے دوران مقبوضہ مشرقی یروشلم کی مسجدِ اقصیٰ اور الخلیل کی مسجدِ ابراہیمی سمیت اسلامی مقدسات میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
وزارت کی ۶؍ اکتوبر کو جاری کردہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں نے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں ۲۶؍ مرتبہ داخل ہوکر کارروائیاں کیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے حوالے سے بعض یہودی مذہبی تنظیموں کی جانب سے ہفتے کے روز بھی آبادکاروں کے داخلے کی اجازت دینے کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی وزارت کے مطابق اس کا مقصد مقدس مقام کے موجودہ انتظامی اور مذہبی نظام میں تبدیلی کی راہ ہموار کرنا اور اس کی زمانی و مکانی تقسیم کو مستحکم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانسیسی ایم ای پی نے یورپی پارلیمنٹ کی ایک تقریب میں اسرائیلی جھنڈا ہٹا دیا
وزارت نے مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں یہودی مذہبی رسومات اور اجتماعی عبادت کے واقعات میں اضافے کی بھی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق بعض آبادکاروں نے مشرقی دیوار سے متصل باب الرحمہ قبرستان میں بھی اجتماعی مذہبی رسومات ادا کیں۔ فلسطینی وزارت کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں کے دوران مسلمانوں کی قبروں کے قریب شوفار بھی بجایا گیا اور یہ سب سخت سکیورٹی حصار میں ہوا۔
رپورٹ میں مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں نام نہاد تلمودی رسومات، اجتماعی دعاؤں اور مکمل سجدہ کرنے جیسی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جمعہ کی نماز اور خطبے کے دوران مسجدِ اقصیٰ کے بعض حصوں، بالخصوص مصلیٰ القبلی اور قبۃ الصخرہ کے اطراف میں بھی سخت پابندیاں برقرار رکھیں۔
۲۰۰۳ء سے باب المغاربہ کے راستے داخلے
مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کے لیے اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہودی اس پورے مقدس احاطے کو ’ٹیمپل ماؤنٹ‘ کہتے ہیں اور ان کا مذہبی دعویٰ ہے کہ قدیم دور میں یہاں یہودی عبادت گاہیں موجود تھیں۔
تاریخی طور پر مسجدِ اقصیٰ کے احاطے کا انتظام یروشلم اسلامی اوقاف کے پاس ہے، جو اردن کی وزارتِ اوقاف سے منسلک ہے۔ موجودہ انتظامی صورتِ حال کے مطابق یہ احاطہ مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے۔
فلسطینی وزارتِ اوقاف کے مطابق ۲۰۰۳ء سے اسرائیلی پولیس فلسطینیوں اور اردن کی مخالفت کے باوجود آبادکاروں کو باب المغاربہ کے راستے پولیس تحفظ میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فرانسس ہالزن کو آئس نیوٹرینو کی دریافت پر نوبیل انعام برائے طبیعیات۲۰۲۶ء دیا گیا
مسجدِ ابراہیمی میں ۱۵۰؍ مرتبہ اذان روکی گئی
الخلیل کی مسجدِ ابراہیمی کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر کے دوران وہاں ۱۵۰؍ مرتبہ اذان دینے سے روکا گیا۔ اس کے علاوہ مسجد کو یہودی تہواروں کے نام پر ۶؍ دن مکمل طور پر بند رکھا گیا۔
وزارت کے مطابق مسجد کا مشرقی دروازہ اب بھی بند ہے جبکہ اس کی کھڑکیوں کو رکاوٹوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات ۲۰۲۵ء کے آغاز سے جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض نمازوں کے اوقات پر عائد پابندیاں بھی مسلسل ۱۰۰؍ دن تک جاری رہیں۔
مسجدِ ابراہیمی الخلیل کے قدیم شہر میں واقع ہے۔ فلسطینی وزارت کے مطابق اس علاقے میں تقریباً ۴۰۰؍ اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں، جنہیں تقریباً ۱۵۰۰؍ اسرائیلی فوجیوں کی سکیورٹی حاصل ہے۔
مسجد کی موجودہ تقسیم ۱۹۹۴ء میں الخلیل میں ہونے والے خونریز واقعے کے بعد کی گئی تھی، جب ایک یہودی آبادکار نے مسجد میں نماز ادا کرنے والے ۲۹؍ فلسطینیوں کو قتل کردیا تھا۔ اس کے بعد مسجد کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا، جس میں ۶۳؍ فیصد حصہ یہودیوں اور ۳۷؍ فیصد مسلمانوں کے لیے مختص کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:نیند سے محروم جاپان نے بہترین جھپکی لینے کو مقابلے میں بدل دیا
نابلس کی مسجد کو آگ، اریحا میں نماز ہال منہدم
فلسطینی وزارتِ اوقاف نے رپورٹ میں مغربی کنارے کی دیگر مساجد کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ وزارت کے مطابق نابلس میں عماد الدین زنگی مسجد کو آبادکاروں نے آگ لگائی اور اس کی دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے تحریر کیے۔
رپورٹ کے مطابق اریحا گورنری کے علاقے الجفتلک میں اسرائیلی فورسز نے ’الدویسات‘ نامی نماز ہال کو بھی منہدم کردیا۔
وزارت نے کہا کہ یہ کارروائیاں مسجدِ اقصیٰ اور مسجدِ ابراہیمی تک محدود نہیں رہیں بلکہ مغربی کنارے میں دیگر اسلامی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات تک بھی پھیل رہی ہیں۔ فلسطینی وزارتِ اوقاف نے ان واقعات کو ’’خطرناک اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں سے اسلامی مقدسات کے تحفظ اور ان کی تاریخی و قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔