• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلیائی حکومت بڑی ٹیک کمپنیوں کے الگورتھمز سے الگ ہونے کی سہولت کیلئے قانون متعارف کرائے گی

Updated: September 08, 2026, 10:01 PM IST | Canberra

اس مسودہ تجویز کے تحت، ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک سمیت دیگر پلیٹ فارمز کیلئے لازم ہوگا کہ وہ آسٹریلوی صارفین کو پاپ اپ پرامپٹس کے ذریعے ذاتی نوعیت کے تجویز کردہ مواد کے الگورتھمز کو بند کرنے کی سہولت فراہم کریں۔ آسٹریلیائی وزیرِ مواصلات انیکا ویلز نے کہا کہ ان قوانین کا مقصد غیر قانونی مواد کے پھیلاؤ کو روکنا اور نوعمر صارفین کیلئے نقصان دہ مواد تک رسائی کو کم کرنا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

آسٹریلیا کی لیبر حکومت اس ہفتے ”ڈجیٹل ڈیوٹی آف کیئر“ (digital duty of care) قانون سازی متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے جو ملک کے تقریباً ۲ کروڑ ۱۰ لاکھ سوشل میڈیا صارفین کو الگورتھم کے تحت تجویز کردہ مواد سے الگ ہونے (آپٹ آؤٹ کرنے) کی اجازت دے گی۔ واضح رہے کہ عالمی سطح پر یہ اپنی نوعیت کے پہلے قوانین ہوں گے۔

اس مسودہ تجویز کے تحت، ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک سمیت دیگر پلیٹ فارمز کیلئے لازم ہوگا کہ وہ آسٹریلوی صارفین کو پاپ اپ پرامپٹس کے ذریعے ذاتی نوعیت کے تجویز کردہ مواد کے الگورتھمز کو بند کرنے کی سہولت فراہم کریں۔ کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز پر خطرات کی نشاندہی اور ان کا انتظام کرنے کی بھی ضرورت ہوگی۔ وزیرِ مواصلات انیکا ویلز نے کہا کہ ان قوانین کا مقصد غیر قانونی مواد کے پھیلاؤ کو روکنا اور نوعمر صارفین کیلئے نقصان دہ مواد، جس میں کھانے پینے کی خرابیوں (eating disorders)، جسمانی ساخت کے تصور (body image) اور دھونس جمانے (bullying) سے متعلق مواد شامل ہیں، تک رسائی کو کم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برسلز میں بے گھر افراد کی تعداد میں مزید ۲۵؍ فیصد اضافے کا خدشہ

یہ قانون سازی حکومت کے مجوزہ آن لائن سیفٹی ترمیمی بل سے الگ ہے، جس کے تحت ۱۶ سال سے کم عمر افراد کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ نئے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے پلیٹ فارمز کو ۱۰ کروڑ آسٹریلوی ڈالر (تقریباً ۶۸۰ کروڑ روپے) کے جرمانہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

آسٹریلیا کے حزبِ اختلاف نے اس منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر اینگس ٹیلر نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ قانون سازی سوشل میڈیا کی حکومتی سینسرشپ کے مترادف ہو سکتی ہے، اگرچہ انہوں نے نشاندہی کی کہ تفصیلات ابھی تک عام نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترجیح اس کے بجائے والدین کو اس بات پر زیادہ کنٹرول دینے کی ہونی چاہئے کہ ان کے بچے آن لائن کیا دیکھتے ہیں۔

یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ۱۶ سال سے کم عمر افراد کیلئے سوشل میڈیا کی موجودہ پابندی کے نفاذ پر سوالات برقرار ہیں۔ آزادانہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جولائی تک، پابندیوں کے باوجود ملک میں بچوں کی اکثریت بدستور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر رہی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: بلجیم کی وزیرِ ہجرت نے غزہ کے ۱۳ فلسطینی طلبہ کے ملک میں داخلے کی مخالفت کی

کرٹن یونیورسٹی میں انٹرنیٹ اسٹڈیز کے پروفیسر تاما لیور نے کہا کہ نئے قانون کی افادیت کا دارومدار شفافیت کے تقاضوں پر ہوگا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دفعات آسٹریلیا کے ای سیفٹی کمشنر اور آزاد محققین کو پلیٹ فارمز کی جانب سے قواعد کی تعمیل کو جانچنے اور اس کی تصدیق کرنے کی اجازت دے سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK