Updated: September 07, 2026, 9:56 PM IST
| Brussels
بلجیم کی ترقیاتی تنظیم 11.11.11 کے فلور ڈیڈن نے وزیر کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ان فلسطینی طلبہ کو ملک کی ایک یونیورسٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر مدعو کیا گیا ہے اور اسکالرشپس دی گئی ہیں، جبکہ بعض کو سرکاری محکموں کی جانب سے ویزے بھی جاری کئے جا چکے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس سے انہیں ملک میں داخل ہونے کا واضح حق حاصل ہوتا ہے۔
بلجیم کی وزیر برائے ہجرت اور پناہ گزینی، اینلین وان بوسوٹ نے غزہ سے تعلق رکھنے والے ۱۳ فلسطینی طلبہ کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کی مخالفت کی، حالانکہ ان طلبہ کے پاس وہاں تعلیم حاصل کرنے کیلئے وظائف (اسکالرشپس) اور ویزے موجود ہیں۔ اتوار کے روز سرکاری نشریاتی ادارے وی آر ٹی (VRT) سے گفتگو کرتے ہوئے وان بوسوٹ نے دلیل دی کہ حکام کو اس اقدام کے وسیع تر نتائج کا جائزہ لینا چاہئے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ ”ڈومینو اثر“ (domino effect) کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ بظاہر یہ معاملہ صرف ۱۳ افراد پر مشتمل دکھائی دیتا ہے، لیکن وہ بعد میں خاندانی ملاپ (فیملی ری یونیفکیشن) یا پناہ کی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں، جس سے یہ معاملہ اس ابتدائی گروہ سے کہیں آگے بڑھ جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسکول کے پہلے دن ۸؍ سالہ بچی وفا عقیلہ والد سمیت اسرائیلی حملے میں جاں بحق
وزیر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ دیگر تنازعات والے علاقوں کے لوگوں کیلئے اسی طرح کی سہولتیں کیوں فراہم نہیں کی جاتیں۔ انہوں نے مزید پوچھا کہ یہی اصول یمن، سوڈان کے شہریوں یا بلجیم میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش مند افغان لڑکیوں پر کیوں لاگو نہیں ہوگا۔ وی آر ٹی کے مطابق، متاثرہ طلبہ میں سے بعض بلجیم پہنچنے کیلئے پہلے ہی دو سال تک کا انتظار کر چکے ہیں۔ یونیورسٹی آف اینٹورپ کے ریکٹر ہیروگ لیرز نے کہا کہ طلبہ کو بیلجیئم لانا بالآخر لاجسٹکس کے بجائے سیاسی ارادے کا معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپ میں فلسطین کے حق میں مظاہرے، ڈچ شہروں میں غزہ کی یکجہتی میں پتنگ بازی
بلجیم کی ترقیاتی تنظیم 11.11.11 کے فلور ڈیڈن نے وزیر کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ان فلسطینی طلبہ کو ملک کی ایک یونیورسٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر مدعو کیا گیا ہے اور اسکالرشپس دی گئی ہیں، جبکہ بعض کو سرکاری محکموں کی جانب سے ویزے بھی جاری کئے جا چکے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس سے انہیں ملک میں داخل ہونے کا واضح حق حاصل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی: غزہ کے بچوں کے حقوق کیلئے ملک گیر مہم،’’ آسمان بچوں کے لیے چھوڑ دو‘‘
یہ تنازع، بلجیم اور یورپ میں محصور فلسطینی علاقے غزہ جیسے تنازعات کے شکار خطوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور محققین کے ساتھ انسانی ہمدردی کے وعدوں کو نبھانے اور امیگریشن پالیسی کی مثالیں بننے نیز خاندانی ملاپ کے دعووں جیسے بعد کے اثرات کے خدشات کے درمیان توازن قائم کرنے سے متعلق وسیع تر کشیدگی کو نمایاں کرتا ہے۔