Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلیا سے اٹلی:۵۰؍ سال پرانی ویسپا پر باپ بیٹا کا سفر جاری، فی الحال ترکی میں

Updated: July 29, 2026, 10:12 PM IST | Sydney

اطالوی نژاد آسٹریلوی ماریو گبریئیلی اپنے ۱۱؍ سالہ بیٹے لیونارڈو کے ساتھ ۵۰؍ سال پرانی ۱۹۷۶ء ویسپا پرائماویرا ET3 پر آسٹریلیا سے اٹلی تک تقریباً ۴۰؍ ہزار کلومیٹر کے عالمی سفر پر نکلے ہیں۔ دونوں نے اپنے اس منصوبے کا نام I Due Caschi (دو ہیلمٹ) رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سفر کا مقصد صرف منزل تک پہنچنا نہیں بلکہ مختلف ممالک، تہذیبوں، مذاہب اور لوگوں سے سیکھنا اور باپ بیٹے کے رشتے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

Italian-Australian Mario Gabrieli (54) is embarking on a unique global expedition with his 11-year-old son Leonardo. Photo: X
اطالوی نژاد آسٹریلوی شہری ماریو گبریئیلی (۵۴؍ سال) اپنے ۱۱؍  سالہ بیٹے لیونارڈو کے ساتھ ایک منفرد عالمی مہم پر روانہ ہوئے ہیں۔تصویر: ایکس

اطالوی نژاد آسٹریلوی شہری ماریو گبریئیلی (۵۴؍ سال) اپنے ۱۱؍  سالہ بیٹے لیونارڈو کے ساتھ ایک منفرد عالمی مہم پر روانہ ہوئے ہیں، جس میں وہ ۵۰؍ سال پرانی ۱۹۷۶ء ویسپا پرائماویرا ET3 پر آسٹریلیا سے اٹلی تک تقریباً ۴۰؍ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کریں گے۔ دونوں نے اس منصوبے کوI Due Caschi یعنی ’’دو ہیلمٹ‘‘ کا نام دیا ہے، جسے وہ صرف ایک سفری مہم نہیں بلکہ ایک تعلیمی، ثقافتی اور انسانی تجربہ قرار دیتے ہیں۔ ماریو گبریئیلی، جو اٹلی کے شہر تریستے (Trieste) میں پیدا ہوئے اور گزشتہ دو دہائیوں سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں، نے ۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو سڈنی سے اپنے اس خواب کی تکمیل کا آغاز کیا۔ سمندری راستے سے ویسپا کو انڈونیشیا پہنچانے کے بعد باپ بیٹے نے جنوب مشرقی ایشیا اور وسطی ایشیا کے مختلف ممالک کا زمینی سفر شروع کیا۔ راستے میں متعدد تکنیکی خرابیوں اور طویل سفری مشکلات کے باوجود دونوں نے اپنا سفر جاری رکھا، جبکہ مختلف ممالک میں مقامی افراد اور ویسپا برادری نے ان کی بھرپور مدد کی۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز انتظام سنبھالنے سے متعلق عمان سے حالیہ مذاکرات میں امریکہ شامل نہیں: ایران

ترکی پہنچنے سے قبل دونوں آذربائیجان اور جارجیا سے گزرے اور طرابزون میں مختصر قیام کے بعد سامسن پہنچے۔ انادولو ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ماریو گبریئیلی نے کہا کہ سامسن ایک شاندار شہر ہے۔‘‘ انہوں نے اپنے اس سفر کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں لیونارڈو کو آسٹریلیا میں ہمارے گھر سے اپنے آبائی شہر تریستے لے جانا چاہتا تھا۔ میں نے سوچا کہ ویسپا پر سفر کرنا اسے دنیا کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔‘‘ ماریو نے بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا مختلف ممالک، تہذیبوں، مذاہب، قدرتی مناظر اور تاریخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور صرف کتابوں یا انٹرنیٹ تک محدود نہ رہے۔ ان کے مطابق اس پورے سفر کا اصل مقصد منزل سے زیادہ راستے میں حاصل ہونے والے تجربات ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کے مخصوص علاقوں میں بین الاقوامی فورس کو داخلے کی اجازت

۱۱؍ سالہ لیونارڈو نے بتایا کہ اب تک کے سفر میں انہیں سب سے زیادہ لطف وسطی ایشیا کی پامیر ہائی وے پر آیا، جہاں کے پہاڑی مناظر اور دشوار گزار راستے ان کے لیے ناقابلِ فراموش تجربہ ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے لیے اس سفر کا سب سے یادگار حصہ پامیر ہائی وے پر سفر کرنا تھا۔‘‘ سامسن میں دونوں کا استقبال اتاکم سیلنگ اسپورٹس کلب نے کیا، جہاں لیونارڈو نے مقامی نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ مختصر سیلنگ (کشتی رانی) کا بھی تجربہ حاصل کیا۔ منصوبے کے مطابق باپ بیٹا اب اماسیہ، کپادوکیا اور انطالیہ سے گزرتے ہوئے ترکی سے یورپ کی جانب روانہ ہوں گے اور بالآخر ماریو کے آبائی شہر تریستے پہنچ کر تقریباً ۴۰؍ ہزار کلومیٹر کا سفر مکمل کریں گے۔ پورا سفر تقریباً ۱۰؍  ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لیبیا: دارالحکومت طرابلس میں سول نافرمانی کی لہر، بجلی کی بندش اور مہنگائی کے خلاف مظاہرے

اس سے قبل گارڈین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ماریو گبریئیلی نے بتایا تھا کہ یہ سفر ان کی زندگی کا برسوں پرانا خواب تھا، لیکن وہ اس وقت تک اس پر عمل نہیں کرنا چاہتے تھے جب تک ان کا بیٹا اتنا بڑا نہ ہو جائے کہ اس تجربے کو سمجھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لیونارڈو کو مہم جوئی، خود اعتمادی اور مختلف معاشروں سے سیکھنے کا جذبہ دینا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب لیونارڈو نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں نئے دوست بنانا، نئی زبانیں سننا اور نئی ثقافتوں کو دیکھنا اس سفر کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔ ماریو گبریئیلی کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ تریستے پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک اصل کامیابی منزل نہیں بلکہ وہ یادیں، تجربات اور تعلقات ہیں جو یہ طویل سفر انہیں دے رہا ہے۔ ان کے مطابق ایک قدیم ویسپا پر دنیا کا سفر ثابت کرتا ہے کہ عزم، صبر اور لوگوں کی محبت کے ساتھ بڑے سے بڑا خواب بھی حقیقت بن سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK