Inquilab Logo Happiest Places to Work

لیبیا: دارالحکومت طرابلس میں سول نافرمانی کی لہر، بجلی کی بندش اور مہنگائی کے خلاف مظاہرے

Updated: July 27, 2026, 9:57 PM IST | Tripoli

گزشتہ چند دنوں سے شدید گرمی کی لہر نے لیبیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس نے ان مظاہروں کو مزید ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ گرمی کے دوران بعض علاقوں میں ۱۴ گھنٹے سے زیادہ عرصے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری رہنے کی وجہ سے رہائشیوں کیلئے حالات ناقابلِ برداشت ہوگئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

لیبیا کے سرکاری خبر رساں ادارے ’لیبین نیوز ایجنسی‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ دارالحکومت طرابلس کے کئی علاقوں میں اتوار کی رات سے پیر کے روز تک شدید مظاہرے دیکھے گئے۔ زندگی کے بگڑتے ہوئے حالات، ۱۴ گھنٹے سے زائد طویل لوڈشیڈنگ، پانی کی بندش، حفظانِ صحت کا کمزور نظام اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے والے شہری سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ 

رپورٹس کے مطابق، مظاہرین نے تاجوراء (Tajoura)، سوق الجمعہ (Souq al-Jumaa)، السراج (Al-Sarraj)، جنزور (Janzour)، زاویۃ الدهمانی (Zawiyat al-Dahmani) اور الظہرہ (Al-Dhahra) کے علاقوں میں تشدد کا سہارا لیتے ہوئے گاڑیوں کے ٹائروں کو آگ لگا دی اور چوراہوں کو بلاک کر دیا۔ مظاہرین نے زاویۃ الدهمانی میں واقع وزارتِ خارجہ اور ’لیبیا نیشنل ٹی وی‘ کی عمارتوں، النوفلیین (Al-Nofliyeen) کے علاقے میں ’آڈٹ بیورو‘ کی عمارت اور ’ٹیلی کمیونیکیشن ہولڈنگ کمپنی‘ کے صدر دفتر جیسے اہم اہم سرکاری اداروں کے سامنے بھی رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ مظاہرین نے ان کارروائیوں کو سول نافرمانی کی شروعات قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عرب لیگ کا انتباہ: مشرقِ وسطیٰ ’دھماکہ خیز لمحے‘ کے قریب، ٹرمپ سے اسرائیل کو لگام دینے کا مطالبہ کیا

گزشتہ چند دنوں سے شدید گرمی کی لہر نے لیبیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس نے ان مظاہروں کو مزید ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ گرمی کے دوران بعض علاقوں میں ۱۴ گھنٹے سے زیادہ عرصے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری رہنے کی وجہ سے رہائشیوں کیلئے حالات ناقابلِ برداشت ہوگئے۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ”عوام ایسا انصاف چاہتے ہیں جو ان کا پیسہ ضائع کرنے والوں کا احتساب کرے“، ”عوام کا پیسہ تمہارے ہاتھوں میں امانت ہے“ اور ”بجلی کہاں ہے؟ اربوں ڈالر کہاں گئے؟“ جیسے نعرے لگائے۔

واضح رہے کہ وزیرِ اعظم عبد الحمید دبیبہ کی قیادت میں طرابلس میں قائم ’گورنمنٹ آف نیشنل یونٹی‘ ۲۰۲۱ء سے بجلی کے بحران سے نمٹنے کیلئے کوششیں کررہی ہیں۔ ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۵ء کے درمیان صورتحال میں بہتری دیکھی گئی تھی لیکن اس کے بعد وہ دوبارہ بگڑ گئی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹیکساس کا شہر کارپس کرسٹی شدید آبی بحران کی زد میں، ماہرین کا انتباہ

لیبیا تاحال دو حریف انتظامیہ کے درمیان تقسیم ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ’گورنمنٹ آف نیشنل یونٹی‘ طرابلس سے مغربی لیبیا کا نظام چلاتی ہے جبکہ ’ہاؤس آف ری پریزنٹیٹیوز‘ (ایوانِ نمائندگان) کی طرف سے مقرر کردہ حکومت، جس کی سربراہی اس وقت اسامہ حماد (Osama Hammad) کر رہے ہیں، بنغازی سے مشرقی لیبیا اور جنوب کے بیشتر حصوں پر حکومت کرتی ہے۔ لیبیا میں اقوامِ متحدہ کا سپورٹ مشن (UNSMIL) برسوں سے سیاسی تصفیے کیلئے ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے جو انتخابات کی راہ ہموار کرے، جن سے بہت سے لیبیائی باشندوں کو امید ہے کہ ۲۰۱۱ء میں معمر قذافی کی برطرفی کے بعد سے جاری تقسیم اور مسلح تنازع کا خاتمہ ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK