ایرانی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے کے حوالے سے عمان کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں امریکہ شامل نہیں ہے۔وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس میٹنگ میں کہا’’ان مذاکرات کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 10:45 AM IST | Tehran
ایرانی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے کے حوالے سے عمان کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں امریکہ شامل نہیں ہے۔وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس میٹنگ میں کہا’’ان مذاکرات کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے کے حوالے سے عمان کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں امریکہ شامل نہیں ہے۔وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس میٹنگ میں کہا’’ان مذاکرات کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایران اور عمان کے درمیان دو طرفہ معاملہ ہے اور یہ جاری ہیں۔‘‘ انہوں نےمزیدبتایا کہ آبی گذرگاہ بند ہے۔ایران نے اتوار کے روز کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے پر عمان سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی۔بقائی نے یہ بھی کہا کہ ثالثوں نے امریکہ سے ایران کو پیغامات بھیجے لیکن مشاہدہ کیا کہ فی الحال واشنگٹن سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ایران اور امریکہ نے پیر کو لڑائی موقوف رکھی جس سے خلیج میں جہازرانی اور تیل کی صنعت کو میزائل حملوں سے بچنے کی مہلت مل گئی۔ اقوامِ متحدہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کےنمائندہ نے کہا ہے کہ صدر مذاکرات کو موقع دے رہے ہیں۔واضح رہےکہ امریکی فوج نے مسلسل۱۳؍ راتوں تک ایران پر حملے کئے جس کے بعد سے دونوں ممالک نے لڑائی روک رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے مخصوص علاقوں میں بین الاقوامی فورس کو داخلے کی اجازت
یوکرین کا ایرانی جہاز کو نشانہ بنانا خطرناک اقدام، جواب ضرور دینگے
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میںکہا کہ ایران امریکہ کو جنگ اور امن کے وقت یا دورانیے کا تعین کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے مطابق ملک کا دفاع جاری رکھے گا اور قومی مفادات کے تقاضوں کے مطابق سفارتی راستہ بھی اختیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کی جانب سے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانا ایک خطرناک اقدام تھا جس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ یوکرینی اقدام کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں تک پھیل سکتے ہیں، روس یوکرین جنگ کے آغاز ہی سے ایران کا مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بحیرۂ کیسپین سے ملحقہ ممالک کو ایسے اقدامات پر تشویش ہے۔ اسماعیل بقائی کے مطابق کچھ خلیجی ممالک ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ میں ملوث رہے ہیں، بلاشبہ جنگ میں علاقائی ممالک کی شرکت کو نظر انداز نہیں کر سکتے، امید ہے کہ علاقائی ممالک ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ تعاون جاری نہیں رکھیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ امریکہ مشکلات کا شکار ہے، یہ صورتِ حال امریکہ کی ہی پیدا کردہ ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کو اپنے جرائم پر فخر ہے، ایران نے امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کی کوئی درخواست نہیں کی کیونکہ ایسا کرنا ہماری فطرت میں نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے شہرسیئٹل میں سالانہ فوڈ فیسٹیول کے دوران فائرنگ
امریکہ کا جارحانہ موقف سفارت کاری کو نقصان پہنچا رہا ہے:ایران
ایران کے امور خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے تاہم واشنگٹن کی فوجی کارروائیوں کے باعث سفارت کاری کو نقصان پہنچا ہے اور موجودہ حالات مذاکرات کیلئے سازگار نہیں ہیں۔آسٹریا کے او آر ایف (او آر ایف) ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بقائی نے واضح کیا کہ ایران کی اولین ترجیح فی الوقت مذاکرات شروع کرنے کے بجائے اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے۔