آسٹریا نے ایڈولف ہٹلر کے گھر کو پولیس اسٹیشن میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے مقامی شہریوں میں مخلوط ردعمل پایا جا رہا ہے، یہ گھر جرمنی کی سرحد پر واقع براوناؤ ایم ان قصبے میں ہے۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 1:07 PM IST | Vienna
آسٹریا نے ایڈولف ہٹلر کے گھر کو پولیس اسٹیشن میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے مقامی شہریوں میں مخلوط ردعمل پایا جا رہا ہے، یہ گھر جرمنی کی سرحد پر واقع براوناؤ ایم ان قصبے میں ہے۔
آسٹریا نے ایڈولف ہٹلر کے گھر کو پولیس اسٹیشن میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے مقامی شہریوں میں مخلوط ردعمل پایا جا رہا ہے، یہ گھر جرمنی کی سرحد پر واقع براوناؤ ایم ان قصبے میں ہے۔حکومت اس مقام کو ’’غیر جانبدار‘‘ بنانا چاہتی ہے اور۲۰۱۶ء میں اس خستہ حال عمارت پر قبضے کے لیے قانون منظور کیا گیا تھا۔ آسٹریا، جسے۱۹۳۸ء میں ہٹلر نے جرمنی کے ساتھ ملا لیا تھا، پر ہولوکاسٹ میں اپنی ذمہ داری تسلیم نہ کرنے پر کئی بار تنقید ہو چکی ہے۔واضح رہے کہ سابق نازیوں کی بنائی ہوئی انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی حالیہ قومی انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ براوناؤ قصبے میں نازیوں کی یادگار دو گلیوں کے نام گزشتہ سال تبدیلی کے بعد رکھے گئے تھے۔
یہ گھر، جہاں ۲۰؍ اپریل۱۸۸۹ء کو ہٹلر کی پیدائش ہوئی اورانہوں نے اپنی ابتدائی زندگی کا کچھ حصہ گزارا، شاپنگ اسٹریٹ پر واقع ہے۔ جبکہ سامنے ایک یادگاری پتھر پر لکھا ہے،’’امن، آزادی اور جمہوریت کے لیے۔ فاشزم پھر کبھی نہیں۔ لاکھوں مردہ کی تنبیہ۔‘‘وزارت داخلہ کے مطابق پولیس اہلکار۲۰۲۶ء کی دوسری سہ ماہی میں اس عمارت میں منتقل ہوں گے۔ تاہم، ہولوکاسٹ متاثرین کی نمائندہ تنظیم کے رکن لڈوِگ لاہر نے پولیس اسٹیشن کو ’’مسئلہ‘‘قرار دیا کیونکہ پولیس ہر سیاسی نظام میں ریاست کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔۳۴؍ سالہ دکان دار جیسمین اسٹیڈلر نے گھر کی تزئین نو پر ۲۰؍ملین یورو کی لاگت پر تنقید کی اور کہا کہ ہٹلر کی پیدائش کو ’’تاریخی تناظر‘‘ میں رکھنا بہتر ہوتا۔
۵۳؍ سالہ دفتر ملازم سیبیل ٹریبل مائر نے اس فیصلے کو ’’دو دھاری تلوار‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ اقدام انتہائی دائیں بازو کے انتہاپسندوں کو جمع ہونے سے روک سکتا ہے، لیکن اس عمارت کو ’’بہتر یا مختلف طریقے سے‘‘ استعمال کیا جا سکتا تھا۔ تاہم، 57 سالہ الیکٹریکل انجینئر وولف گینگ لیتھنر نے اسے انتہاپسندوں کے لیے مزار بننے سے بچانے کا مؤثر طریقہ قرار دیا۔یاد رہے کہ نازی دور میں۶۵۰۰۰؍ آسٹرین یہودی مارے گئے اورایک لاکھ ۳۰؍ ہزار جلاوطن ہوئے تھے۔ساتھ ہی آسٹریا میں ہولوکاسٹ کی تاریخ سے نمٹنے پر بحث کئی بار شدت اختیار کر چکی ہے۔