اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ نریندر مودی کا اسرائیل دورہ شیعہ اور سنی شدت پسندی کے خلاف اتحادکی کوششوں کا ایک حصہ ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ دورہ اقتصادی تعاون، سفارتی تعاون اور سیکورٹی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 10:05 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ نریندر مودی کا اسرائیل دورہ شیعہ اور سنی شدت پسندی کے خلاف اتحادکی کوششوں کا ایک حصہ ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ دورہ اقتصادی تعاون، سفارتی تعاون اور سیکورٹی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کا بدھ کو ہونے والا اسرائیل دورہ اقتصادی تعاون، سفارتی تعاون اور سیکورٹی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔ ہفتہ وار کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اس دورہ کو اسرائیل کی جانب سے تشکیل دیے جانے والے وسیع تر اتحادی نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا۔نیتن یاہو نے کہا کہ وہ تعاون کے ایک اور خاص شعبے کو بھی آگے بڑھائیں گے، جس میں ہائی ٹیک، مصنوعی ذہانت (AI) اور کوانٹم کمپیوٹنگ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا غزہ کے۶۰؍ فیصد علاقے پرقبضہ، فلسطینی ہلاکتیں ۷۲؍ہزار سے متجاوز
واضح رہے کہ مودی سہ پہر ساڑھے چار بجے کنیست (اسرائیلی پارلیمنٹ) سے خطاب کریں گے۔ دونوں لیڈریاد واشم ہولوکاسٹ میموریل کا دورہ کریں گے اور یروشلم میں ایکتقریب میں شرکت کریں گے۔نیتن یاہو نے بتایا کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں یا اس کے گرد و پیش ایک مکمل نظام ’’مسدس اتحاد‘‘تشکیل دے گا۔بعد ازاں نیتن یاہو نے ہندوستان، یونان، قبرص کے نام لیے جبکہ عرب، افریقی اور ایشیائی ممالک کا بھی ذکر کیا جن کے نام انہوں نے فی الحال ظاہر نہیں کیے۔ناس بابت یتن یاہو نے کہا، ’’اس کا مقصد ان ممالک کا ایک محور بنانا ہے جو حقیقت، چیلنجز اور اہدافکے تعلق سے یکساں نظریات رکھتے ہیں، بالکل اس کے برعکس جو بنیاد پرست محور ہیں۔یاہو نے مزید کہا، شیعہ شدت پسند محور، کوہم نے بہت سخت چوٹ پہنچائی ہے۔ یہ تمام ممالک ایک دوسرے کے مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں، اور ہمارے درمیان تعاون بہت شاندار نتائج لا سکتا ہے اور یقیناً ہماری طاقت اور مستقبل کو بھی یقینی بنا سکتا ہے۔