Updated: June 12, 2026, 11:00 AM IST
| London
برطانیہ، آسٹریلیا اور کنیڈا نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل کی حمایت کیلئے ایک نئے بین الاقوامی امن فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ یہ فنڈ امن سازی، باہمی اعتماد اور مذاکراتی عمل کو فروغ دینے والے منصوبوں کی مالی معاونت کرے گا۔
برطانیہ، آسٹریلیا اورکنیڈا نے جمعرات کو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل کی کوششوں کی حمایت کیلئے ایک نئے بین الاقوامی امن فنڈ کے قیام کا اعلان کیا۔ تینوں ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ کثیر عطیہ دہندگان (ملٹی ڈونر) فنڈ ایسے منصوبوں کی معاونت کرے گا جو مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے میں مدد دیں گے۔ حکومتوں کے مطابق یہ اقدام جاری سفارتی، انسانی ہمدردی اور ترقیاتی کوششوں کی تکمیل کرے گا اور ان تنظیموں کی حمایت کرے گا جو امن سازی اور باہمی مفاہمت کے فروغ کیلئے کام کر رہی ہیں۔
برطانیہ، آسٹریلیا اور کنیڈانے مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی دیرپا امن کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ تینوں ممالک آئندہ تین برسوں کے دوران ابتدائی طور پر ایک ایک ملین پاؤنڈ (تقریباً ۱۳؍لاکھ امریکی ڈالر) کی مساوی رقم فراہم کریں گے۔ یہ فنڈ دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کی مالی معاونت کیلئے بھی کھلا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی: جارجیا میلونی نے اسرائیلی آبادکاروں اوربین گویر پر پابندیوں کی حمایت کی
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ، اسرائیل-فلسطین تنازع اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دو ریاستی حل (فلسطینی اور اسرائیلی ریاستوں کے قیام) کے بارے میں عالمی سفارتی کوششوں کو دوبارہ تیز کر دیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں امن مذاکرات تقریباً تعطل کا شکار رہے ہیں، جبکہ تشدد، یہودی بستیوں کی توسیع اور انسانی بحران نے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کو مزید کمزور کیا ہے۔ برطانیہ، آسٹریلیا اور کنیڈاکا کہنا ہے کہ نئے بین الاقوامی امن فنڈ کا مقصد ایسے مقامی اور بین الاقوامی منصوبوں کی حمایت کرنا ہے جو باہمی اعتماد، مکالمے اور امن سازی کو فروغ دے کر مستقبل میں مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کی راہ ہموار کر سکیں۔