Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ بائیکاٹ کا شکار ملک بن گیا: اسرائیلی اخبارکی رپورٹ

Updated: June 12, 2026, 7:02 PM IST | Tal Aviv

اسرائیلی اخبار ’یدیعوت احرونوت ‘کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے بائیکاٹ، سفری پابندیوں اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ممالک نے اسرائیلی وزراء اور آبادکاروں کے خلاف اقدامات کئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ جنگ اور ویسٹ بینک میں اسرائیلی پالیسیوں کے باعث بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف پابندیوں اور بی ڈی ایس مہمات کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

A scene from a rally against Israel in the United States. Photo: X
امریکہ میں اسرائیل کی مخالفت میں نکالی گئی ریلی کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی روزنامہ’ یدیعوت احرونوت‘(Yedioth Ahronoth) نے جمعرات کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا کہ اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ بائیکاٹ کا سامنا کرنے والا ملک بن چکا ہے، جہاں حکومتی عہدیداروں، آبادکاروں اور سرکاری اداروں کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کی ایک وسیع لہر جاری ہے۔ ’’اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ بائیکاٹ کیا جانے والا ملک کیسے بن گیا‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کو ’’بین الاقوامی پابندیوں کے ایک سونامی‘‘ کا سامنا ہے، جس میں مختلف ممالک اور طویل عرصے سے سرگرم بی ڈی ایس (BDS) تنظیموں کی جانب سے اسرائیلی حکام، آبادکاروں اور اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ، آسٹریلیا اور کنیڈا کا دو ریاستی حل کیلئے مشترکہ فنڈ قائم کرنے کا اعلان

رپورٹ کے مطابق فرانس نے حال ہی میں اسرائیل کے وزیر خزانہبیزلیل سموٹریچ کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی، جبکہ اس سے قبل قومی سلامتی کے وزیراتمار بن گویر پر بھی اسی نوعیت کی پابندی لگائی جا چکی تھی۔ اخبار کے مطابق فرانس کا یہ اقدام ان دونوں وزراء کی جانب سے مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کے الحاق، نئی یہودی بستیوں کے قیام اور فلسطینی اتھاریٹی کو کمزور کرنے والی پالیسیوں کی فعال حمایت کے ردِعمل میں کیا گیا۔ اقوام متحدہ ویسٹ بینک بشمول مشرقی یروشلم کو مقبوضہ فلسطینی علاقہ قرار دیتی ہے، اور اس کے اسرائیل میں الحاق کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کے خاتمے کے مترادف سمجھتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اٹلی: جارجیا میلونی نے اسرائیلی آبادکاروں اوربین گویر پر پابندیوں کی حمایت کی

بڑھتا ہوا دباؤ
یدیعوت احرونوت کے مطابق ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے پہلے اسرائیل بی ڈی ایس مہمات کے اثرات کو محدود رکھنے میں کامیاب رہا تھا۔ اخبار نے لکھا کہ معاشی پابندیوں کا اثر محدود تھا کیونکہ اسرائیل کی مضبوط معیشت سرمایہ کاری کے انخلا کی حوصلہ شکنی کرتی تھی، جبکہ تعلیمی اور ثقافتی بائیکاٹ زیادہ تر علامتی نوعیت کے تھے۔ تاہم، اب اس رجحان میں نمایاں شدت آ چکی ہے اور بی ڈی ایس تحریک نے مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس تحریک نے عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، جس کا ثبوت مختلف سرویز میں اسرائیل کے بارے میں بڑھتے ہوئے منفی تاثرات ہیں۔ اخبار نے کئی مثالیں پیش کیں، جن میں فنکاروں کا اسرائیل میں پرفارم کرنے سے انکار، مصنفین کا اپنی کتابوں کے عبرانی زبان میں ترجمے کی اجازت نہ دینا، اور اسرائیل کو یوروویژن یا فیفا جیسے بین الاقوامی ایونٹس سے خارج کرنے کی مہمات شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے لبنان پر پے در پے حملے

رپورٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری واپس لینے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا، جن میں ناروے کے خودمختار ویلتھ فنڈ کی جانب سے اسرائیلی کمپنیوں سے سرمایہ نکالنے کا فیصلہ شامل ہے۔ اخبار کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی بلیک لسٹ میں ویسٹ بینک اور مشرقی یروشلم میں گرین لائن سے آگے کام کرنے والی اسرائیلی اور بین الاقوامی کمپنیاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ویسٹ بینک سے سامنے آنے والی ویڈیوز اور رپورٹس، جن میں آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کو دکھایا گیا، پابندیوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ مزید کہا گیا کہ بعض وزراء کے بیانات اور اقدامات، خصوصاً بن گویر کی وہ ویڈیو جس میں غزہ جانے والے فلوٹیلا کے شرکاء کی تضحیک کی گئی، متعدد ممالک کی جانب سے شدید تنقید کا باعث بنی اور اسے ’’سرخ لکیر‘‘ عبور کرنا قرار دیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: یہودی آبادکاروں پر پابندیاں ناکافی، اسرائیلی حکومت کو نشانہ بنایا جائے

مغربی ممالک کی پابندیاں 
فرانس کی جانب سے سموٹریچ اور بن گویر کے داخلے پر پابندی کا ذکر کرتے ہوئے اخبار نے کہا کہ فرانس، آئرلینڈ، برطانیہ، کنیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے ان اسرائیلی وزراء پر پابندیاں لگانے والے ممالک میں شامل ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فرانس نے ویسٹ بینک میں تشدد کو فروغ دینے والے چار غیر قانونی بستیوں کے لیڈروں اور ۲۱؍آبادکاروں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ برطانیہ نے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف ایک منصوبہ شروع کیا ہے جو آبادکاروں کے حملوں کی مالی معاونت یا حمایت کرتے ہیں، اور کاروباری اداروں کو ویسٹ بینک کی یہودی بستیوں میں سرگرمیوں سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ اخبار کے مطابق کنیڈانے دو افراد اور پانچ تنظیموں پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کیں، جبکہ آسٹریلیا نے تین افراد اور چھ غیر قانونی چوکیوں پر پابندیاں لگائیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہند نژاد عرب پتی کا امارات سڑک حادثہ متاثرین کیلئے دو کروڑ کی امداد کا اعلان

نیوزی لینڈ نے بھی تین اسرائیلیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کیا، جس میں بن گویر، سموٹریچ اور دیگر آبادکار لیڈر شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فرانس نے فلوٹیلا واقعے سے متعلق مبینہ تشدد اور جنگی جرائم کی تحقیقات بھی شروع کی ہیں، جبکہ اٹلی نے اطالوی شہریوں کی تضحیک کے الزام میں بن گویر کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ اخبار نے مزید کہا کہ یورپین یونین میں اسرائیلی وزراء پر ذاتی پابندیوں کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق جرمنی سموٹریچ کے خلاف اقدامات کی مخالفت کرتا ہے، تاہم، بن گویر پر پابندیوں کی حمایت کر سکتا ہے، جبکہ چیک جمہوریہ کی ممکنہ ویٹو رکاوٹ بن سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف وسیع معاشی پابندیاں قلیل مدت میں متوقع نہیں ہیں، لیکن وزراء کے خلاف ذاتی پابندیاں زیرِ غور رہنے کا امکان ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے عہدیدار ایپسٹین تنازع پر اندرونی گھبراہٹ کا شکار: نئی کتاب میں انکشاف

ان کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت ان پیش رفتوں کا مؤثر جواب دینے، دوست ممالک کو متحرک کرنے اور عالمی یہودی برادریوں کو بائیکاٹ تحریک کے مقابلے میں منظم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کو ۲۰۲۴ءسے آئی سی سی کی جانب سے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت مطلوب قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں بھی ایک مقدمے کا سامنا ہے، جو جنوبی افریقہ نے دائر کیا ہے اور جس میں اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK