امریکی صدر کا کہناہےکہ ان کے خیال میں دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہئے۔
EPAPER
Updated: June 13, 2026, 1:24 PM IST | Washington
امریکی صدر کا کہناہےکہ ان کے خیال میں دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہئے۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کر دی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ رکھنےپر اتفاق کر لیا ہے۔ اوول آفس میں بات چیت کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہئے۔ ہم شاید یورپ میں اس پر دستخط کریں گے اور یہ ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔ واضح ہوکہ اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلیٰ ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔ اوول آفس میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ان کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا معاہدہ ہونے جا رہا ہے جس کے تحت ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر جلد ہی دستخط ہوں گے اور دستاویزات تقریباً حتمی شکل میں ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کی تعریف بھی کی اور کہا کہ وہ اسرائیل، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، کویت اور دیگر ممالک کے لیڈروں سے بات چیت کر چکے ہیں اور اب ترکی کے صدر اردگان سے بھی بات چیت کریں گے۔ سب بہت خوش ہیں اور مشرقِ وسطیٰ بھی بہت خوش ہے۔
اوول آفس میں ایک صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ اس بات کے بارے میں کتنے پُراعتماد ہیں کہ اس ہفتے کے آخر تک ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا؟ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ جلد ہی ہوگا، شاید اسی ہفتے کے آخر میں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے سپریم لیڈر نے اس معاہدے سے اتفاق کر لیا ہے تو ٹرمپ نے کہاکہ میری معلومات کے مطابق جواب ہاں میں ہے۔ امریکی صدرڈونالڈٹرمپ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی معاہدے پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز پر امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر اٹھا لی جائے گی۔ اس موقع پر ایک صحافی نے ذکر کیا کہ ٹرمپ ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے کے قریب ہیں تو اس بار کیا مختلف ہے؟ ٹرمپ نے جواب دیاکہ کیونکہ انہوں نے سخت نقصان اٹھایا ہے۔ انہوں نے ایسا نقصان اٹھایا ہے جو بہت کم لوگ ہی برداشت کر سکتے ہیں اور وہ میرے مقابلے میں معاہدہ کرنے کے کہیں زیادہ خواہش مند ہیں۔
دریں اثناءایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ قطر اور پاکستان کی بطور ثالث کوششوں کے باوجود امریکہ کے اقدامات کی وجہ سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا ہے۔ اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ معاہدے کے متن کے بیشتر حصے پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے لیکن امریکہ کے متضاد موقف نے معاہدے تک پہنچنے کے عمل میں عدم استحکام اور رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔
اسی دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک انٹرویو میں معاہدے کے وقت اور مقام سے متعلق دعوؤں کو محض میڈیا کی قیاس آرائی قرار دیا ہے۔