چمپت رائے اوردیگر کی گرفتاری کا مطالبہ ، بصورت دیگر انہیں۳؍ دن میں ایودھیاسے نکل جانے کی وارننگ،کسی بھی ملزم کا کیس نہ لڑنے کا اعلان
EPAPER
Updated: June 30, 2026, 8:20 AM IST | Ayodhya
چمپت رائے اوردیگر کی گرفتاری کا مطالبہ ، بصورت دیگر انہیں۳؍ دن میں ایودھیاسے نکل جانے کی وارننگ،کسی بھی ملزم کا کیس نہ لڑنے کا اعلان
ایودھیا میں رام مندر کے چڑھاوے کی چوری کے خلاف عوامی غم وغصہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پیر کو ایودھیا اور فیض آباد کے وکیلوں نے جہاں اس ضمن میں گرفتار ہونےوالے ۸؍ ملزمین میں سے کسی کی بھی پیروی نہ کرنے کا اعلان کیا وہیں آر ایس ایس سے وابستہ مندر کے ٹرسٹی چمپت رائے، انل مشرا اور گوپال رائے کی بھی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ وکیلوں نے سنگھ پریوار سے وابستہ مذکورہ تینوں افراد سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان کی گرفتاری نہیں ہوتی تو وہ ۳؍ دن کے اندر ایودھیا چھوڑ دیں۔
ایودھیا بار اسوسی ایشن کا سخت موقف
یودھیا اور فیض آباد بار اسوسی ایشن کا یہ سخت موقف عوام کی برہمی کی عکاسی کرتاہے۔بار اسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ گرفتار ملزمین کی عدالت میں کوئی وکیل پیروی نہیں کرےگا اور اگر کوئی وکیل کرتا ہے تو اس پر ۵؍لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا جائے گا۔ فیض آباد بار اسوسی ایشن کی جنرل باڈی میٹنگ میں مندر انتظامیہ سے وابستہ چمپت رائے، انل مشرا اور گوپال راے کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ وہ ۳؍ دن کے اندر ایودھیا چھوڑ دیں۔ اسوسی ایشن کے صدر کاکیلا پرساد مشرا نے میٹنگ کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ مدت میں چمپت رائے اوران کے ساتھی ایودھیا خالی نہیں کرتے تواحتجاج میں اضافہ کیا جائےگا اور شہر کا گھیراؤ کرنے جیسے اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔ بار اسوسی ایشن کےسیکریٹری شیلندر جیسوال نے کہا کہ رام مندر کے چڑھاوے میں خرد برد کی خبروں سے وکلاء اورعوام کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں، اسی لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ گرفتار ملزمین کی قانونی پیروی نہیں کی جائے گی۔
سپریم کورٹ کا فوری سماعت سے انکار
چڑھاوا چوری کا یہ معاملہ سپریم کورٹ بھی پہنچ گیا ہے۔ عدالت میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کرکے سی بی آئی جانچ کی مانگ کی گئی ہے۔ وکیل این کے گوسوامی نے جسٹس ایم ایم سندریش اور شیل ناگو کی تعطیلاتی بنچ کے سامنے اس کو پیش کیا اور فوری شنوائی پر زور دیا۔ انہوں نےکہا کہ اس معاملہ میں الیکٹرانک شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہےاس لئے جلد شنوائی ضروری تاہم عدالت نے فوری سماعت سے انکار کردیا اور کہا کہ معمول کی سماعت کیلئے وہ عرضی کی نقل عدالت کی رجسٹری کو فراہم کریں۔ کورٹ نے کہا کہ فوری سماعت نہ ہوئی تو آسمان نہیں ٹوٹ پڑےگا۔