• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آذربائیجان نے اسکولوں میں اسکارف پر پابندی لگانے کا حکم دیا، ترکی کے ساتھ تعلقات کشیدہ

Updated: October 17, 2026, 9:05 PM IST | Baku/Ankara

آذربائیجان کی کابینہ نے گزشتہ ماہ ایسے لباس پر پابندی کی منظوری دی جو ”سیکولرازم کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتا۔“ اس میں واضح طور پر حجاب یا اسکارف کا ذکر نہیں کیا گیا تھا، لیکن سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں حجاب پہنے اسکولی طالبات کو روتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو یہ بتا رہی ہیں کہ انہیں کلاس رومز میں جانے سے روک دیا گیا۔ ایک لڑکی نے بتایا کہ ”انہوں نے مجھے ایک چھوٹے سے جھونپڑے نما کمرے میں بند کر دیا اور دوسرے بچوں سے چھپا دیا۔“

Photo: X
تصویر: ایکس

آذربائیجان حکومت نے ملک بھر کے اسکولوں کیلئے یونیفارم سے جڑے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں جس کے تحت اسکولوں میں اسکارف اور حجاب پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس حکم کے بعد آذربائیجان اور ترکی کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اتحادی ہیں جن کے درمیان دفاعی معاہدہ اور سالانہ اربوں ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔ انہیں اکثر اکثر ”ایک قوم، دو ریاستیں“ قرار دیا جاتا ہے۔

آذربائیجان کی کابینہ نے گزشتہ ماہ ایسے لباس پر پابندی کی منظوری دی جو ”سیکولرازم کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتا۔“ اس میں واضح طور پر حجاب یا اسکارف کا ذکر نہیں کیا گیا تھا، لیکن سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں حجاب پہنے اسکولی طالبات کو روتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو یہ بتا رہی ہیں کہ انہیں کلاس رومز میں جانے سے روک دیا گیا۔ ایک لڑکی نے بتایا کہ ”انہوں نے مجھے ایک چھوٹے سے جھونپڑے نما کمرے میں بند کر دیا اور دوسرے بچوں سے چھپا دیا۔“

یہ بھی پڑھئے: ورلڈ فوڈ ڈے: دنیا میں ہر ۱۳؍ واں شخص بھوک کا شکار، سالانہ ۱۰۵؍ کروڑ ٹن غذا ضائع

ترکی کا سخت ردِعمل

پیر کے روز ترک صدر رجب طیب اردگان کے سینئر مشیر اوکتائے سارال نے کہا کہ یہ فیصلہ حجاب پہننے والی لڑکیوں کو ان کے حقِ تعلیم سے محروم کرتا ہے۔ انہوں نے باکو پر زور دیا کہ وہ ”اس غلطی کو جلد از جلد درست کرے۔“ اردگان کی اے کے پارٹی کے قانون ساز بھی اس تنقید میں شامل ہوگئے جن میں رکن پارلیمنٹ زہرا نور آیدیمیر نے اسے ”مذہبی آزادی اور حقِ تعلیم کی خلاف ورزی“ قرار دیا۔ اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے لیڈر کمال قلیچ دار اوغلو نے بھی کہا کہ خواتین کو ”اپنی پسند کا لباس منتخب کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔“

واضح رہے کہ یہ معاملہ ترکی میں کافی حساس ہے۔ یہاں ۱۹۹۰ء کی دہائی میں اسکولوں، یونیورسٹیوں اور سرکاری ملازمتوں میں حجاب پر پابندی عائد کی گئی تھی، جس نے کئی خواتین کو ایمان اور تعلیم یا روزگار میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: کچھ حقائق متنازع ہیں نہ غیر واضح: نیتن یاہو کے مؤقف پر واشنگٹن پوسٹ کا ردعمل

باکو کی جانب سے پالیسی کا دفاع

صدر الہام علیئیف کی ’نیو آذربائیجان پارٹی‘ نے ترک بیانات کو ”عوامیت پسندانہ اور غیر ذمہ دارانہ“ قرار دیا۔ اس نے کہا کہ ”اسلامی دنیا میں کسی بھی ریاست کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے مسلم عوام پر اپنی مرضی مسلط کرے۔“ سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ ان قوانین کا مقصد قومی شناخت میں ”عرب-عجمی اقدار“ شامل کرنے کی کوششوں کو روکنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایرانی اثر و رسوخ کے خدشات اور آذربائیجان کی سیکولر روایت کو محفوظ رکھنے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک سرکاری تھنک ٹینک کے واصف حسین نے کہا کہ یہ پالیسی ”ہماری ایک صدی سے زائد پر محیط سیکولرازم کی روایت“ کا تحفظ کرتی ہے۔ 

مظاہرے اور پابندیاں

حجاب پر پابندی کے فیصلے کے خلاف استنبول میں آذربائیجان کے قونصل خانے کے باہر مظاہرے کئے گئے۔ آذربائیجان میں وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزام میں ۳۷ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ نیٹ بلاکس نے متعدد انٹرنیٹ فراہم کنندگان پر ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس پر پابندیوں کی اطلاع دی۔ ایک ایسے ملک میں یہ مناظر غیر معمولی ہیں جہاں انسانی حقوق کے گروپس آزادیِ اظہار پر پابندیوں پر طویل عرصے سے تنقید کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی کمپنی ڈسکور ٹیک پر اشتہارات کے ذریعے جاسوسی اور آلات ہیک کرنے کا الزام

کشیدگی کم کرنے کی کوششیں

ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے، جن کا جمعرات کے روز باکو میں ایک سربراہی اجلاس کے دوران علیئیف نے خیرمقدم کیا، کہا کہ مسائل کو ”بیٹھ کر اور بات چیت کے ذریعے“ حل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ”سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کا ہتھیار“ بنانے کی ”قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ تجزیہ کار صابر عسکروغلو نے کہا کہ بنیادی خطرہ یہ ہے کہ باہمی الزامات دونوں معاشروں کے درمیان عوامی اعتماد کو بتدریج نقصان پہنچا سکتے ہیں، اگرچہ دوطرفہ تعلقات میں کسی سنگین خرابی کا امکان کم ہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK