• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی کمپنی ڈسکور ٹیک پر اشتہارات کے ذریعے جاسوسی اور آلات ہیک کرنے کا الزام

Updated: October 17, 2026, 7:36 PM IST | Tel Aviv

تحقیقی رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی کمپنی ’ڈسکور ٹیک‘ نے آن لائن اشتہارات کے ذریعے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کی نگرانی کی اور بعض آلات میں اسپائی ویئر پہنچانے میں مدد دی۔ رپورٹس میں الجزیرہ کے ۴۵؍ کمپیوٹرز کو نشانہ بنائے جانے کا بھی انکشاف کیا گیا ہے، جس کے بعد گوگل اور آئی اے بی یورپ نے کمپنی کے خلاف کارروائی کی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اسرائیل کی ڈجیٹل اشتہارات فراہم کرنے والی کمپنی ’ڈسکور ٹیک‘ (Discover-Tech) نے آن لائن اشتہارات کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے انٹرنیٹ صارفین کی جاسوسی کی۔ تحقیقی اداروں کے مطابق، کمپنی ان اشتہارات کو اپنے اہداف کی نگرانی اور ان کے ڈجیٹل آلات ہیک کرنے کے لیے استعمال کرتی تھی۔ کنیڈا کے تحقیقی ادارے ’سٹیزن لیب‘ (Citizen Lab) اور امریکی اشتہاری سیکوریٹی کمپنی ’کنفیانٹ‘ (Confiant) کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈسکور ٹیک کی خدمات کے ذریعے اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی ’کینڈرو‘ (Candiru) اور دیگر اسرائیلی نگرانی کرنے والے گروہوں کو اشتہاری پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل ہوئی۔ امریکی حکومت نے کینڈرو کو بلیک لسٹ کر رکھا ہے۔ ان پلیٹ فارمز میں گوگل، کامکاسٹ اور روس کی یانڈیکس جیسی کمپنیوں کے اشتہاری نیٹ ورک شامل تھے۔ سٹیزن لیب کے مطابق، ڈسکور ٹیک کے آن لائن اشتہارات، جو اکثر موبائل فونز یا ایئربڈز جیسی عام مصنوعات سے متعلق ہوتے تھے، مختلف شراکت داریوں کے ذریعے ایک لاکھ ۲۰؍ ہزار سے زیادہ ویب سائٹس اور ۷۵؍ ہزار ایپس تک پہنچے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں دوبارہ جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اشتہارات والی ویب سائٹس پر جانے یا ایپس استعمال کرنے والے افراد کی شناخت کرکے ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکتی تھی۔ بعض اوقات کمپنی اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کے فون نمبر حاصل کرنے کی بھی کوشش کرتی تھی۔ جاسوسی کے لیے صرف اتنا کافی تھا کہ بدنیتی پر مبنی اشتہار کسی ویب سائٹ پر لوڈ ہوجائے۔ تحقیقی اداروں کے مطابق، بعض اشتہارات صارفین کے آلات میں کینڈرو کا اسپائی ویئر نصب کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جاتے تھے۔ تاہم کنفیانٹ نے کہا کہ کینڈرو سے منسلک اشتہارات، ڈسکور ٹیک کے مجموعی اشتہارات کے مقابلے میں بہت کم تھے۔

کنفیانٹ کے شریک بانی جیروم ڈانگو نے بتایا کہ ڈسکور ٹیک دنیا بھر میں روزانہ کم از کم ایک کروڑ اشتہارات جاری کر رہی تھی۔ ان اشتہارات کے ذریعے صارفین کی نگرانی کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے ’کوکی میچنگ‘ (Cookie Matching) نامی ڈیٹا شیئرنگ کے طریقے بھی استعمال کیے جاتے تھے، جس سے کمپنی ان افراد کو بھی ٹریک کرسکتی تھی جو اس کے اشتہارات کی براہ راست رسائی سے باہر تھے۔ ڈانگو نے کہا، ’’بہت زیادہ امکان ہے کہ ڈسکور ٹیک کے اشتہارات کروڑوں افراد تک پہنچے ہوں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: چین کی اسرائیل کو مغربی کنارے کی بستیوں کی تعمیر روکنے کی ہدایت

سٹیزن لیب کے مطابق، کینڈرو کے اسپائی ویئر کی ایک طاقت ور قسم، جسے ڈسکور ٹیک کے اشتہارات کے ذریعے پہنچایا گیا، ۲۰۲۴ء سے ۲۰۲۵ء کے دوران قطر میں الجزیرہ کے ۴۵؍ ونڈوز کمپیوٹرز کو ہیک کرنے کے لیے استعمال کی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ الجزیرہ کی جانب سے اپنے نیٹ ورک کے لاگز فراہم کیے جانے کے بعد اس کی تصدیق ممکن ہوئی۔ الجزیرہ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے متعدد ملازمین کو نشانہ بنانے والے اسپائی ویئر حملوں کی مذمت کرتا ہے اور اپنے ملازمین اور نظام کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا، ’’اس کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘‘

ڈانگو کے مطابق، بدنیتی پر مبنی اشتہارات پینٹاگون، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) سمیت حساس شعبوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں نیٹ ورکس کے صارفین کو دکھائے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلسطینی علاقوں سمیت بعض خطوں میں اسرائیلی کمپنی کے اشتہارات کی بھرمار تھی۔ ڈانگو نے کہا، ’’آپ فلسطین میں تقریباً کسی بھی ویب سائٹ پر چلے جائیں، ہر جگہ ڈسکور ٹیک کا اشتہار مل جائے گا۔ اس سے انہیں پورے ملک کی ڈجیٹل سرگرمیوں پر بہت وسیع نظر رکھنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایرانی صدر نے امریکی-اسرائیلی جنگ کو ماحولیاتی نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا

سٹیزن لیب نے کہا کہ اس کے پاس شواہد موجود ہیں کہ یہ بدنیتی پر مبنی اشتہارات اقوام متحدہ، نیٹو، یورپی کمیشن اور ایک درجن سے زائد ممالک کی حکومتوں سے وابستہ افراد کو بھی دکھائے گئے۔ یہ اشتہارات ٹیکنالوجی کمپنیوں، مثلاً این ویڈیا اور سین ڈسک، کے نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ میکسیکو، اسرائیل اور یورپ کے ذرائع ابلاغ کے اداروں کے نیٹ ورکس میں بھی سامنے آئے۔ اب ڈسکور ٹیک کو آن لائن اشتہارات کی مارکیٹ کے بعض حصوں سے باہر کیا جا رہا ہے۔ گوگل نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے سٹیزن لیب اور کنفیانٹ کی تحقیقات میں تعاون کیا اور اپنی پالیسیوں کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر ڈسکور ٹیک کو اپنے اشتہاری پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا ہے۔ ڈجیٹل مارکیٹنگ اور اشتہارات کے شعبے سے وابستہ یورپی تنظیم ’آئی اے بی یورپ‘ (IAB Europe) نے ای میل کے ذریعے بتایا کہ پالیسیوں کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے والے ایک آڈٹ کے بعد گزشتہ ہفتے ڈسکور ٹیک کو عالمی سطح پر منظور شدہ اداروں کی فہرست سے معطل کردیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK