مراٹھا ریزرویشن پراسٹے سے پسماندہ طبقات کے طلبہ ۱۱؍ ویں جماعت میں داخلہ سے محروم

Updated: November 21, 2020, 10:16 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

آن لائن داخلہ کے سلسلہ کو ہی روک دیا گیا ہے۔ اس تعلق سے ریاستی حکومت سپریم کورٹ سے رجوع ہونے پر غور کررہی ہے

Picture.Picture :INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

ریاستی حکومت نےنہم تا ۱۲؍ویں  جماعت کے طلبہ کو اسکول میں حاضر ہو کر تعلیمی سلسلہ کو معمول کے مطابق شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔  وہیں ۱۱؍ ویں جماعت میں اب بھی داخلہ کے منتظرطلبہ جن کا داخلہ کورونا وائرس  کے سبب اب تک نہیں ہوسکا ہے ، وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ اس وبا کی وجہ سے اور سپریم کورٹ کے مراٹھا ریزرویشن پرلگائے گئے اسٹے کی وجہ سے ان کا سال ضائع نہ ہوجائے ۔ ریاست میں اب بھی سماجی و مالی طور پر پسماندہ طبقے  کے ۷؍ لاکھ میں سے نصف طلبہ ۱۱؍ ویں جماعت میں آن لائن داخلہ کے منتظر ہیں۔حکومت پسماندہ جماعت کے ان طلبہ کے داخلوں کو یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہےساتھ ہی کورونا  کے سبب داخلہ سے محروم ان طلبہ کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری کررہی ہے ۔  اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے کووڈ۱۹ ؍ کے سبب درپیش مسائل کے باوجود دہم جماعت کے طلبہ کے امتحانات کو انتہائی سمجھداری اور احتیاط کے ساتھ مکمل کیا تھا۔ اس کے بعد جولائی میں ان ہی مسائل کے درمیان دہم جماعت کے نتائج کا اعلان کیا، اس کے بعد کامیاب ہونے والے طلبہ کے لئے ۱۱؍ ویں جماعت میں آن لائن داخلہ کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا ۔آن لائن داخلہ کا پہلا مرحلہ کامیابی سے ہمکنار ہوا تھا جبکہ دوسرے مرحلے میں داخلہ کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ مراٹھا ریزرویشن پر سپریم کورٹ نے عبوری روک لگا دی ساتھ ہی۲۱-۲۰۲۰ء میں داخلہ کے متمنی پسماندہ طبقات کے ایس ای بی سی کیٹیگری کے طلبہ کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ریاست مہاراشٹر میں مراٹھا سماج میں ہی نہیں بلکہ سماجی و مالی طور پر پسماندہ طبقات کے طلبہ میں بھی بے چینی پھیل گئی اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کی وجہ سے مہاراشٹر حکومت نے ۱۱؍ ویں جماعت میں پسماندہ طبقات کے تحت ہونے والے داخلہ کے سلسلہ کو ہی روک دیا ہے۔ داخلے پر  پابندی کو ۲؍ ماہ کا عرصہ ہوچکا ہےاورپسماندہ طبقات کے لاکھوں طلبہ اب بھی ۱۱؍ ویں جماعت میں داخلہ سے محروم ہیں ۔اسی درمیان کورونا وائرس کا مقابلہ کرتے ہوئے تقریباً ساڑھے ۷؍ ماہ گزرجانے کے بعد ریاستی حکومت نے ۹؍ ویں تا ۱۲؍ جماعت کو معمول کے مطابق شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت کے فرمان کے مطابق  ۲۳؍  نومبرسے نہم جماعت تا ۱۲؍ ویں جماعت کے طلبہ اسکول اور کالج میں حاضر ہو کر تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھ سکتے ہیں ۔حکومت کے اس فیصلہ کا مطلب پہلے مرحلے میں ۱۱؍ ویں جماعت کے لئے داخل کئے جانے والے طلبہ کی پڑھائی کا سلسلہ بھی جاری ہوجائے گا جبکہ اب بھی ۱۱؍ ویں جماعت میں۳؍ سے ۴؍ مراحل میں ہونے والے داخلے کی کارروائی مکمل نہیں ہوسکی ہے۔دہم جماعت میں کامیاب ہونے والے  طلبہ اب اس بات سے فکر مند ہیں کہ ان کا تعلیمی سال ضائع نہ ہوجائے ۔ دوسری طرف ریاستی محکمہ تعلیم کے مطابق کل ۷؍ لاکھ کامیاب طلبہ کو ۱۱؍ ویں جماعت میں داخلہ دیا جانا ہے جن میں سے اب تک صرف ساڑھے ۳؍ لاکھ طلبہ نے ہی آن لائن داخلہ کی درخواستیں دی   ہیں ۔اس سلسلہ میں ریاستی وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ کا کہنا ہے کہ’’ بقیہ طلبہ کے داخلہ کے سلسلہ کو دوبارہ شروع کرنے اور اسکول اور کالج کی سطح پر شروع ہونے والی پڑھائی میں انہیں بھی شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاری ہے ۔ اس ضمن میں حکومت بھی لائحہ عمل تیار کررہی ہے ۔‘‘ اطلاع کے مطابق کوروناوائرس کے سبب ۱۱؍ ویں جماعت کے جو طلبہ آن لائن داخلہ کی کارروائی پر لگائی جانے والی روک کے سبب داخلہ سے محروم ہیں ، انہیں داخلہ دیئے جانے کے ضمن میں ریاستی حکومت سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی  تیاری کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK