طلبہ پر بڑھتے ذہنی تناؤ کی وجہ سےصوبائی حکومت نے نجی کوچنگ کلاسیز پر جو پابندیوں عائد کی ہیں، اس پر نجی کلاسیز کی اسوسی ایشن نے سخت اعتراض درج کرایا ہے۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 5:00 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
طلبہ پر بڑھتے ذہنی تناؤ کی وجہ سےصوبائی حکومت نے نجی کوچنگ کلاسیز پر جو پابندیوں عائد کی ہیں، اس پر نجی کلاسیز کی اسوسی ایشن نے سخت اعتراض درج کرایا ہے۔
طلبہ پر بڑھتے ذہنی تناؤ کی وجہ سےصوبائی حکومت نے نجی کوچنگ کلاسیز پر جو پابندیوں عائد کی ہیں، اس پر نجی کلاسیز کی اسوسی ایشن نے سخت اعتراض درج کرایا ہے۔ ان کا کہناہےکہ گائیڈ لائن میں دیئے گئے متعدد ضابطوں کی خلاف ورزی سرکاری اسکولوں اور اداروں میں ہوتی ہے جبکہ نجی کلاسوں میں ان پر پہلے سے عمل جاری ہے، چنانچہ ہمیں نشانہ نہ بنایاجائے۔
واضح رہےکہ طلبہ پر بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ریاستی حکومت نے جمعرات کو اسکولوں کے ساتھ نجی ٹیوشن کلاسوں کیلئے رہنما خطوط جاری کیا ہےلیکن پرائیویٹ ٹیوشن کلاسیزکی طرف سے اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ ان کےمطابق نجی ٹیوشن کلاسیز میں طلبہ پر کوئی ذہنی دباؤ نہیں ڈالا جاتا۔ اس کے برعکس سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لازمی ٹی ای ٹی سے ۹۰؍فیصد اساتذہ کوتشویش
گھاٹکوپر مغرب میں واقع آئی ٹی مائنڈ کوچنگ کلاس کےمالک دیویندر شکلانے اس نمائندہ کوبتایاکہ ’’حکومت نے جوگائیڈ لائن جاری کی ہے وہ طلبہ کیلئے ضروری ہے لیکن ہم توان ہدایتوں پر پہلے سے عمل کررہےہیں۔ طلبہ کو ہفتہ میں ایک دن چھٹی دینےکےعلاوہ ہرمہینہ ہرطالب علم کی انفرادی کائونسلنگ کی جاتی ہے۔ طلبہ کےعلاوہ، ضرورت پیش آنےپر والدین کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ اس کےعلاوہ طلبہ کی صحت کا اپ ڈیٹ رکھنےکیلئےڈاکٹروں کابھی انتظام کیاگیاہے۔ ان سہولیات کےعلاوہ طلبہ کی نفسیاتی کیفیت پربھی پابندی سے توجہ دی جاتی ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں حکومت کو پرائیویٹ کلاسیزکی جانچ کرنےکےبعد ان کیلئے گائیڈ لائن جاری کرناچاہئے۔ ‘‘
’پرائیویٹ کوچنگ کلاسیز شیکھر سنگٹھنا‘ کے مطابق ’’حکومت اپنی کمزوریوں اورناکامیوں کو چھپانے کیلئے پرائیویٹ ٹیوشن کلاسیز کو نشانہ بنا رہی ہے۔ مسابقتی امتحانات سے متعلق اسکولوں اور پرائیویٹ ٹیوشن کلاسوں کے طلبہ پر بڑھتے ذہنی دباؤکی شکایات کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے پیش نظر ریاستی حکومت نے رہنما خطوط جاری کئے ہیں۔ ان رہنما خطوط کے مطابق ریاست میں اسکولوں اور پرائیویٹ ٹیوشن کلاسوں میں طلبہ کی شکایات کے ازالے کیلئے ضلعی سطح کی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ طلبہ پر اضافی دباؤ کو کم کیا جا سکےمگر پرائیویٹ کوچنگ کلاسیز شیکھر سنگٹھنا نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کیا ہے اور اس کی مخالفت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت نے پرائیویٹ کلاسیس پر شرائط عائد کیں
مذکورہ ادارہ کے ترجمان بندوپانت بھویار کے مطابق ’’ پرائیویٹ ٹیوشن کلاسیز میں طلبہ کیلئے کوئی ذہنی تناؤ نہیں ہوتا۔ زیادہ تر نجی ٹیوشن کلاسوں میں طلبہ کو ہفتے میں ایک دن کی چھٹی دی جاتی ہے، خاص طور پر اتوار کو، جن ٹیوشن کلاسوں میں ایک دن کی چھٹی نہیں دی جاتی، وہاں بھی اب سے ہفتہ وار چھٹی دی جائے گی۔ ٹیوشن کلاسیز کا کردار ذہنی صحت سے متعلق بھی مثبت ہے اور ٹیوشن کلاسیز کے ڈائریکٹرز اور اساتذہ طلبہ کو مسلسل مثبت ذہنی مدد فراہم کرتے ہیں۔ درحقیقت، وہ کونسلرز کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ‘‘