Updated: January 20, 2026, 4:05 PM IST
| New Delhi
ہندوستان کی مایہ ناز بیڈمنٹن کھلاڑی اور اولمپک میڈلسٹ سائنا نہوال نے بالآخر پیشہ ورانہ کھیل سے سبکدوش ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ گھٹنے کی شدید تکلیف اور مسلسل انجری کے باعث وہ گزشتہ دو سالوں سے کورٹ سے دور تھیں، جس کے بعد انہوں نے کھیل کو خیرباد کہنے کا مشکل فیصلہ کیا۔
سائنا نہوال۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان کی مایہ ناز بیڈمنٹن کھلاڑی اور اولمپک میڈلسٹ سائنا نہوال نے بالآخر پیشہ ورانہ کھیل سے سبکدوش ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ گھٹنے کی شدید تکلیف اور مسلسل انجری کے باعث وہ گزشتہ دو سالوں سے کورٹ سے دور تھیں، جس کے بعد انہوں نے کھیل کو خیرباد کہنے کا مشکل فیصلہ کیا۔
لندن اولمپکس ۲۰۱۲ء میں کانسہ کا تمغہ جیتنے والی سائنا نہوال نے آخری بار ۲۰۲۳ء کے سنگاپور اوپن میں حصہ لیا تھا۔ پیر کو سبھوجیت گھوش کے ایک پوڈ کاسٹ کے دوران انہوں نے اپنے ریٹائرمنٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ کافی عرصہ پہلے ہی کھیل سے دور ہو چکی تھیں، لیکن اس کا عوامی اعلان کرنے کی انہیں کوئی جلدی محسوس نہیں ہوئی۔
سائنا کا کہنا تھا کہ ’’میں نے دو سال پہلے ہی کھیلنا چھوڑ دیا تھا۔ میرا ماننا ہے کہ میں اپنی شرائط پر اس کھیل میں آئی تھی اور اپنی مرضی سے ہی اسے چھوڑ رہی ہوں، اس لیے مجھے کسی بڑے اعلان کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔ سابق ورلڈ نمبر وَن کھلاڑی نے انکشاف کیا کہ ان کے گھٹنے کا کارٹلیج بری طرح متاثر ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے وہ اب اعلیٰ درجے کی تربیت حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے اپنے والدین اور کوچ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں آرتھرائٹس (جوڑوں کا درد) کی تشخیص کی تھی۔
سائنا نے جذباتی انداز میں کہا کہ دنیا کا بہترین کھلاڑی بننے کے لیے آپ کو روزانہ آٹھ سے نو گھنٹے سخت محنت کرنی پڑتی ہے، لیکن میرا گھٹنا اب صرف ایک دو گھنٹے میں ہی جواب دے دیتا تھا۔ سوجن کی وجہ سے مزید دباؤ ڈالنا ناممکن تھا، تب مجھے احساس ہوا کہ اب بس بہت ہو چکا۔
یہ بھی پڑھئے:ایس آئی آر پر سپریم کورٹ کی الیکشن کمیشن کو اہم ہدایت
سائنا نہوال کو ہندوستانی بیڈمنٹن کی تاریخ میں ایک `ٹرائل بلیزر (راہ دکھانے والی) کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وہ اولمپک میڈل جیتنے والی پہلی ہندوستانی بیڈمنٹن کھلاڑی بنیں اور۲۰۱۵ء میں عالمی رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔
یہ بھی پڑھئے:ڈاکٹرکے کردار کیلئے اپنی دونوں بہنوں سے تحریک لی: اقبال خان
نمایاں کامیابیاں: لندن اولمپکس ۲۰۱۲ء: کانسہ کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی۔ انٹرنیشنل ٹائٹلز: اپنے کریئر میں مجموعی طور پر ۲۴؍ بین الاقوامی اعزازات حاصل کئے۔ ورلڈ نمبر وَن : ۲۰۱۵ء میں دنیا کی بہترین کھلاڑی بننے کا اعزاز۔ دیگر اعزازات: دولت مشترکہ کھیلوں (Commonwealth Games)، ایشین چیمپئن شپ اور اوبر کپ میں ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے متعدد میڈلز حاصل کیے۔ سائنا کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ہندوستانی بیڈمنٹن کے ایک شاندار عہد کا اختتام ہو گیا ہے، تاہم ان کا سفر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔