کلیان ڈومبیولی میونسپل ٹرانسپورٹ ( کے ڈی ایم ٹی) نے مسافروں کی روزمرہ سفری مشکلات کے ازالے کیلئے سوامی نارائن سٹی سے تھانے تک روٹ نمبر ۸۲ ؍پر نئی بس سروس کا آغاز کر دیا ہے تاہم اس فیصلے نے مقامی شہریوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
EPAPER
Updated: March 07, 2026, 12:22 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Dombivli
کلیان ڈومبیولی میونسپل ٹرانسپورٹ ( کے ڈی ایم ٹی) نے مسافروں کی روزمرہ سفری مشکلات کے ازالے کیلئے سوامی نارائن سٹی سے تھانے تک روٹ نمبر ۸۲ ؍پر نئی بس سروس کا آغاز کر دیا ہے تاہم اس فیصلے نے مقامی شہریوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل ٹرانسپورٹ ( کے ڈی ایم ٹی) نے مسافروں کی روزمرہ سفری مشکلات کے ازالے کیلئے سوامی نارائن سٹی سے تھانے تک روٹ نمبر ۸۲ ؍پر نئی بس سروس کا آغاز کر دیا ہے تاہم اس فیصلے نے مقامی شہریوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں انتظامیہ اسے مسافروں کیلئے ایک اہم سہولت قرار دے رہی ہے وہیں مقامی باشندوں نے اسے محض بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے اس سروس کا آغاز ڈومبیولی ریلوے اسٹیشن سے کیا جائے تاکہ عام مسافروں کی بڑی تعداد اس سے مستفید ہو سکے۔
گزشتہ روز بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوہان نے موٹھا گاؤں میں واقع سوامی نارائن سٹی سے تھانے کے ماجھی واڑہ تک نئی بس سروس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس سروس کا بنیادی مقصد ریلوے نیٹ ورک پر بڑھتے ہوئے مسافروں کے بے پناہ بوجھ کو کم کرناہے جس کا یکطرفہ کرایہ ۲۰ ؍روپے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ سروس موٹھا گاؤں اور سوامی نارائن سٹی جیسے علاقوں میں رہنے والے شہریوں کیلئے ایک بڑی راحت ثابت ہوگی۔ جہاں ایک طرف اس سروس کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے وہیں دوسری جانب اس کے روٹ اور آغاز کے مقام پر مسافروں کی جانب سے سخت تنقید بھی سامنے آئی ہے۔
عوامی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا یہ سروس واقعی عام آدمی کیلئے ہے یا صرف بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مکینوں کیلئے شروع کی گئی ہے؟مقامی مسافر پردیپ راجے نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو اس بس سروس کا آغاز ڈومبیولی ریلوے اسٹیشن سے کرنا چاہیے تھا۔ اسٹیشن سے شروع کرنے کی صورت میں عام مسافروں کی ایک بڑی تعداد اس سے مستفید ہو سکتی تھی لیکن سوامی نارائن سٹی سے اسے شروع کرنے کا فائدہ صرف مخصوص سوسائٹیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ مسافروں کی ایک اور تشویش اس سروس تک پہنچنے کے اخراجات ہیں۔ لکشمی پٹیل نے کہا کہ اگر ہمیں ڈومبیولی ریلوے اسٹیشن سے بس پکڑنے کیلئے سوامی نارائن سٹی تک جانا پڑے تو وہاں پہنچنے کیلئے ہی ۲۰؍روپے رکشا کرایہ ادا کرنا ہوگا۔ اس طرح بس کا سستا کرایہ اپنی اہمیت کھو دیتا ہے کیونکہ مسافر کو دگنا خرچ اور وقت ضائع کرنا پڑے گا۔