Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی ایشیا کے تنازع کے باعث گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں ۶۰؍ روپے اضافہ

Updated: March 07, 2026, 3:00 PM IST | New Delhi

مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہندوستان میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں ۶۰؍ روپے اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کے بعد گھریلو گیس سلنڈر کی لاگت مختلف شہروں میں بڑھ گئی ہے جس سے مہنگائی کے مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

لکویڈ پیٹرولیم گیس (LPG) کی قیمت میں عالمی توانائی کی لاگت میں اتار چڑھاؤ کے باعث۶۰؍ روپے فی سلنڈر اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مغربی ایشیا میں جنگ اپنے آٹھویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ اس اضافے کے بعد دہلی میں ۲ء۱۴؍ کلوگرام کے غیر سبسڈی شدہ ایل پی جی سلنڈر کی قیمت اب۹۱۳؍ روپے ہو گئی ہے، جیسا کہ انڈین آئل کارپوریشن کی ویب سائٹ پر درج قیمتوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ کولکاتا میں اس سلنڈر کی قیمت۹۳۹؍ روپے، ممبئی میں ۹۱۲؍روپے اور چنئی میں ۹۲۸؍روپے ہو گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق سنیچر سے ہو گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں ’’رسوئی گیس ایمرجنسی‘‘ نافذ

ہندوستان میں گھریلو گیس کی قیمتوں کو انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پٹرولیم کارپوریشن اورہندوستان پٹرولیم کارپوریشن منظم کرتے ہیں۔ اس سے قبل اسی ماہ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے کاروباری اداروں میں استعمال ہونے والی کمرشل ایل پی جی کی قیمت میں ۱۹؍ کلوگرام سلنڈر پر۵ء۱۱۴؍روپے اضافہ کیا گیا تھا۔ دہلی میں اس کی قیمت اب ۱۸۸۳؍روپے ہو گئی ہے۔ تازہ اضافے کے بعد۲ء۱۴؍ کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی قیمت اگست ۲۰۲۳ءکے بعد سب سے زیادہ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی گھریلو ایل پی جی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں کیونکہ یہ ایندھن کی لاگت کو بڑھاتی ہیں اور توانائی کی منڈیوں میں رسد کے فیصلوں کو متاثر کرتی ہیں۔ بینچ مارک برینٹ خام تیل کی قیمت ہفتہ تک۸۷؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو۲۷؍فروری کو۸۷ء۷۲؍ ڈالر فی بیرل تھی۔ یہ تقریباً۸ء۲۰؍فیصد اضافہ ہے۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل اور امریکہ نے۲۸؍ فروری کو ایران کی حکومت کی صلاحیتوں کو کمزور کرنےکیلئے مشترکہ کارروائی شروع کی۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں پر حملے کئے اور خلیجی ممالک کے بعض بڑے شہروں اور چند جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔ 
پیر کو ایران نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کیلئےبند کر دیا گیا ہے اور خبردار کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو آگ لگا دی جائے گی۔ یہ تنگ آبی راستہ خلیج کو بحیرہ عرب سے جوڑتا ہے اور دنیا میں استعمال ہونے والے تقریباً۲۰؍ فیصد پیٹرولیم مائعات اسی سمندری راستے سے گزرتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: یو پی ایس سی : مسلم اُمیدواروں کا شاندار نتیجہ، ۵۴؍ منتخب

طویل جنگ ایندھن کی قیمتیں بڑھا سکتی ہے اور روپے کو کمزور کر سکتی ہے
یہ اضافہ اس کے ایک دن بعد سامنے آیا جب وزارت مالیات نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ نے آبنائے ہرمز کے اردگرد جغرافیائی سیاسی خطرات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ ہندوستان خام تیل کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لئے اس صورت حال کے نتیجے میں درآمدی مہنگائی بڑھ سکتی ہے، ایندھن کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور روپیہ کمزور ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کے منظرنامے کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً۸۰؍ سے۸۵؍ فیصد حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ وزارت کے مطابق، اس کے باوجود ہندوستان کے پاس کافی زرمبادلہ کے ذخائر، کم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور نسبتاً کم مہنگائی موجود ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ریاست میں گرمی کی شدت میں اچانک اضافہ، اکولہ سب سے گرم ضلع

یہ عوامل مل کر عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنے اور ملکی توانائی کے تحفظ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم، معاشی جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بحران طویل ہو گیا تو اس کے زر مبادلہ کی شرح اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید کہا گیا کہ اگر سرمایہ کاری کے بہاؤ میں کمی آئی اور سرمایہ کار محفوظ منڈیوں کا رخ کرنے لگے تو اس سے روپے پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اقتصادی جائزے کے مطابق، اگر بحران لمبا ہو گیا تو مائع قدرتی گیس (LNG) اور خام تیل پر انحصار کرنے والے شعبے، جیسے کھاد اور پیٹروکیمیکل صنعتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK