سدرشن ٹی وی کےمتنازع اورمسلم مخالف پروگرام پرپابندی

Updated: September 16, 2020, 7:45 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ۔’’نوکرشاہی جہاد‘‘ کے نام سے بنائے گئے پروگرام پر جسٹس چندرچڈ کی بنچ نے سخت برہمی کااظہار کیا۔ پابندی کی مخالفت اورآزادی اظہار رائے کا حوالہ دینے پر کورٹ نے زعفرانی نیوز چینل کے وکیل کو بھی آڑے ہاتھوںلیا، کہا کہ ’’یہ آزادی ٔ اظہار رائےنہیںہے، آپ کسی سماج کو نشانہ بناکر اُسے ایک مخصوص انداز میں پیش نہیں کرسکتے‘‘

Suresh Chavhanke
سریش چوہانکے جن کے پروگرام نفرت سے بھرے ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے منگل کو ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے  سدرشن ٹی وی کےمسلم مخالف پروگرام ’’نوکر شاہی جہاد‘‘ پر  تاحکم ثانی   پابندی عائد کردی ہے۔ سدرشن ٹی وی کے پرائم ٹائم شو ’بنداس بول‘ میں  اس پروگرام کو منگل  اور بدھ  کی شام کو نشر کیا جانا تھا۔ یوپی ایس سی امتحانات میں مسلم  طلبہ کی کامیابی کو ’’اعلیٰ سرکاری عہدوں میں مسلمانوں کی گھس پیٹھ‘‘ بناکر پیش کرنے والے اس پروگرام پر کورٹ نے حیرت کااظہار کیا کہ  ایسے پروگرام کیسے نشر کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کورٹ نے اس  پرپابندی کافیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ بادی النظر میں   یہ پورے مسلم سماج کو  بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ 
 سدرشن ٹی وی  کے پروگرام  میں جھوٹ کا سہارا
  جسٹس ڈی وائی چندر چڈ، جسٹس اندو مہلوترا اور جسٹس کے ایم جوزف  کی سہ رکنی بنچ نے اُس پٹیشن پر شنوائی کے دورا ن یہ حکم امتناعی سنایا  جو    سدرشن ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف  سریش چوانکے کی میزبانی والے پروگرام  کے خلاف داخل کی گئی تھی۔ پٹیشن میں عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی تھی کہ یو پی ایس سی میں مسلم طلبہ کی کامیابی کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے۔ اپنے حکم میں کورٹ نے کہا ہے کہ ’’ کورٹ یہ محسوس کرتا ہے کہ  اس پروگرام کی منشا  اور مقصد  پوری عیاری  کے ساتھ مسلم سماج کو بدنام کرنا  اور یہ تاثر دیناہے کہ ایک سازش کےتحت وہ نوکر شاہی میں دراندازی کررہے ہیں۔‘‘ کورٹ نے مزید کہا ہے کہ پروگرام میں یو پی ایس سی امتحان میں مسلم امیدواروں  کی  عمر کی  اوپری   حد  اور وہ کتنی بار امتحان میں شرکت کرسکتے ہیں اس کے تعلق سے حقائق کے  برخلاف باتیں پیش کی گئی ہیں۔
سدرشن ٹی وی کا پروگرام جمہوری سماج کی بنیادوں پر حملہ 
 کورٹ نے اپنے مدبرانہ فیصلے میں  ملک کی جمہوری قدروں کے تعلق سے فکرمندی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی حقوق اور قدروں پر مشتمل  اقتدار کے زیر سایہ مستحکم جمہوری  سماج  کے ڈھانچے  کی بنیادیں  سماج کے مختلف طبقوں  کے میل جول پر ہوتی ہیں۔ ہندوستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں مختلف  ثقافتیں، تہذیب اور قدریں ایک دوسرے  میں ضم ہوجاتی ہیں۔ ایسی کسی بھی کوشش کو جس میں سماج کے ایک طبقے کو دشمن بنا کر پیش کیاگیا ہو،   اس کورٹ کے ذریعہ  ناپسندیدگی کے ساتھ دیکھا جانا چاہئے کیوں یہ ملک میں آئینی حقوق کا محافظ  ہے۔‘‘
سدرشن ٹی وی کے وکیل کی سرزنش
  سینئر ایڈویٹ شیام دیوان جو سدرشن ٹی وی اوراس کے ایڈیٹر ان چیف سریش چوانکے کی پیروی کررہے تھے، نے پابندی کی پوری شدت سے مخالفت کی  اور کہا کہ  پروگرام پر پیشگی پابندی آزادی اظہار رائے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے مترادف ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ شو’’تحقیقاتی صحافت‘‘  پرمبنی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے  اس پرگرام  کے تعلق سے  انہوں نے اس حقیقت کی  بھی تردید کی کہ اس میں  مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ شو ایک صحافی کی تحقیق کا نتیجہ ہے جس نے تفصیل کے ساتھ غیر ملکی فنڈنگ کو بے نقاب کیا ہے۔

 پریس کونسل پر بھی عدالت  نے برہمی  ظاہر کی

 اس بات کو محسوس کرتے ہوئے کہ کسی سماج کوبدنام کرنے کیلئے نیوز چینلوں کی طاقت بہت زیادہ ہے، سپریم کورٹ نے نیوز چینلوں کیلئےمعیار طے کرنے کیلئے ممتاز شخصیات کی ۵؍ رکنی کمیٹی بنانے کی بات کہی۔اس پر جب  پریس کونسل آف انڈیا نے بتایا کہ ایسے ضوابط پہلے سے موجود ہیں تو جسٹس چندر چڈ نے برہمی کااظہار کرتےہوئے کہا کہ ’’واقعی؟اگر ایسا ہوتا تو ہمیں ٹی وی پر وہ سب نہ دیکھنا پڑتا جو ہم دیکھ رہے ہیں۔‘‘اس موقع پر ایک جج نے نشاندہی کی کہ ’’نیوز چینلوں کے ساتھ سب سےبڑا مسئلہ ٹی آر پی کا ہے۔‘‘اس بات کا اعتراف کرتےہوئے کہ نجی چینلوں کو ضابطے کے تحت لانا کسی بھی حکومت کیلئے انتہائی مشکل ہوگا، جسٹس چندر چڈ نے  نیوز چینلوں  سے لاحق خطرات کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نےکہا کہ ’’وقار کو ملیامیٹ کیا جاسکتاہے، شبیہ خراب کی جاسکتی ہے۔ اسے کیسے کنٹرول کیا جائے؟ حکومتیں اسے کنٹرول نہیں کرسکتیں۔‘‘ اس موقع پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نےبھی پریس کی آزادی کی دلیل پیش کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK