اربن نکسل ختم کرنے کا دعویٰ ،اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجودپبلک سیکوریٹی بل اسمبلی کے بعد کونسل سے بھی منظورکروالیا گیا
EPAPER
Updated: July 12, 2025, 1:49 PM IST | Saeed Ahmed Khan and Iqbal Ansari | Mumbai
اربن نکسل ختم کرنے کا دعویٰ ،اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجودپبلک سیکوریٹی بل اسمبلی کے بعد کونسل سے بھی منظورکروالیا گیا
اربن نکسل ازم ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے فرنویس حکومت نے اسمبلی کے دونوں ایوانوں سے آزادی اظہار پر قدغن لگانے والا متنازع بل منظور کروالیا ہے۔ حکومت نے اپوزیشن پارٹی کے لیڈروں کی شدید مخالفت کے باوجود گزشتہ روز اسمبلی سے اور جمعہ کو قانون ساز کونسل سے ’ مہاراشٹر اسپیشل پبلک سیکوریٹی بل ۲۰۲۴ء‘ اپنی زبردست اکثریت کی بنیاد پر منظو ر کرا لیا۔ جمعہ کو کونسل میں اس بل پرحکومت اور اپوزیشن کے لیڈروں نے زوردار بحث کی۔ اپوزیشن پارٹی کے لیڈروں کا کہنا تھا کہ یہ بل اربن نکسل ختم کرنے یا شہری علاقوں میں ملک کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے والوں کو روکنے کے لئے نہیں بلکہ حکومت کی غلط پالیسیوں اور فیصلوں کےخلاف مظاہرہ کرنے والوں پر کارروائی کیلئے لایا گیا ہے۔ کونسل کے اراکین نے یہ بھی کہاکہ شہری نکسل واد کو ختم کرنے کیلئے یہ بل لایاجارہا ہےلیکن بل میں لفظ ’ نکسل واد‘ ہی نہیں ہے ۔بل میں ’لیفٹ ونگ اکسٹریمسٹ آرگنائزیشن‘ اور اسی طر ح کی تنظیم کے خلاف کارروائی کا بہانہ بنایا گیا ہے۔ اراکین یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف جب مکوکا اور یو اے پی اے جیسا سخت قانون موجود ہے تو پھر اس نئے بل کی کیا ضرورت ہے؟
بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے رکن کونسل ابھیجیت ونجاری ( کانگریس) نے کہا کہ ’’ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ ملک سے ۷۲؍ فیصد نکسلواد کو ختم کر دیا گیا ہے اور اگر ایسا ہوا ہے تو یہ ملک میں موجود ہ قانون کے تحت ہی کیاگیا ہوگا تو پھر اس نئے بل کی کیا ضرورت ہے؟ اس بل کے تعلق سے ۱۲؍ ہزارسے زیادہ تنظیموں نے مشورے و اعتراضات جوائنٹ کمیٹی کو بھیجے ہیں جن میں بڑی تعداد میں اعتراضات ہی ہیں۔ اس کی سماعت کے بجائے اورمتعدد شبہات دور کرنے کے بجائے بل تیار کر کے ایوان میں پیش کردیا گیا ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس بل کو واپس لیا جائے ۔‘‘ اس بل کی منظوری کے خلاف اپوزیشن لیڈر مباداس دانوے سمیت مہا وکاس اگھاڑی کے اراکین نے واک آؤٹ کیا جس کے بعد کونسل کے چیئرمین رام شندے نے اس بل کو منظور کرا لیا۔
واک آؤٹ کےبعد ودھان بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیو سینا(ادھو) سربراہ اور رکن کونسل ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’مرکز کی جانب سے جب نکسلواد ختم کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے تو پھر اس قانو ن کی کیا ضرورت ہے؟ چین جو نکسل وادیوں کو ہتھیار اور پیسہ فراہم کرتا ہے اس سے تو مودی حکومت نے اچھے تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ اس بل کو اس لئے لایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی بی جے پی کی من مانی او رغلط پالیسیوں کےخلاف آواز نہ اٹھا سکے ۔ اگر کوئی آواز اٹھائے گا تو اس کےبل کے تحت اسے جیل بھیج دیاجائےگا۔یہ پبلک سیفٹی نہیں بلکہ بھاجپا سیفٹی بل ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’ بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ۶۴؍ تنظیمیں تشدد پسند ہیں لیکن ان کے نام اور وجہ نہیں بتائی گئی ہے کہ انہیں کس بنیاد پر تشدد پسند قرار دیاگیا ہے۔اس طرح تو کسی بھی تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کے اراکین کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔‘‘
اس ضمن میں قانون ساز کونسل میں بل پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ برائے مملکت یوگیش کدم نے بتایاکہ ’’شہری علاقوں میں بھی کسی مورچہ وغیرہ کی آڑ میں اگر کوئی دہشت گردانہ تنظیم تشددکی کوشش کرتی ہے تو اس کے خلاف اس بل(جوقانون بن جائیگا ) کے تحت کارروائی کی جائے گی ۔ اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد یہ بل اب گورنر کے پاس دستخط کے لئے بھیجا جائے گا ۔ اس معاملے میں اپوزیشن پارٹیوں نے گورنر کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ آزادی اظہار اور احتجاج پر قدغن لگانے والے اس بل پر دستخط قطعی نہ کریں۔
اس سے قبل جمعرات کی شام اسمبلی میں بھی یہ بل منظور کروالیا گیاتھا ۔ اس بل پر کانگریس ، این سی پی (شرد ) اور سماج وادی پارٹی نے سخت اعتراض کیا ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر وجے وڈیٹیوار نے بل کو عوامی آواز دبانے کی ایک سازش قرار دیا اور کہا کہ حکومت اپنے ناکام فیصلوں پر اٹھنے والی تنقید کو دبانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ بل عوامی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی پر سیدھا حملہ ہے۔ اگر کوئی شاعر، استاد یا صحافی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتا ہے تو کیا اسے بھی اس قانون کے تحت ملک دشمن قرار دیا جائے گا؟ وڈیٹیوار نے مزید الزام لگایا کہ حکومت ایسے قوانین کے ذریعے آئینی اقدار کو کمزور کر کے منواسمرتی کو بڑھاوا دینا چاہتی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے قوانین کی مخالفت کریں جو مذہبی تفریق اور سیاسی انتقام کو فروغ دیتے ہیں۔ این سی پی لیڈر روہت پوار نے بھی بل کے مبہم نکات پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نکسلی سرگرمیوں کی مخالفت کرتی ہے اور اسی جذبے کے تحت بل کی نیت پر سوال نہیں اٹھایا مگر اس میں کچھ شقیں ایسی ہیں جن کا غلط استعمال ممکن ہے۔روہت پوار کے مطابق ہم نے ایوان میں متعدد ابہام کی نشان دہی کی اور حکومت سے وضاحت مانگی مگر کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔واضح رہے کہ مہاراشٹر اسمبلی نے یہ بل صوتی ووٹنگ کے ذریعے منظور کر لیا۔
وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ایوان میں اس بل کو پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قانون بائیں بازو کی انتہاپسند سرگرمیوں، خاص طور پر شہری نکسلیوں کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس بل کی مخالفت میں دیگر تنظیموں کے ساتھ لیفٹ پارٹیز پیش پیش تھیں۔ انہوں نے ۳۰؍جون کو کیرتی سمیتی کے ذریعے آزاد میدان میں بڑا احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ یہ بل نہ پاس کیا جائے کیونکہ اس سے عام آدمی کے شہری اورآئینی حقوق سلب کرلئے جائیں گے۔ مگر حکومت نے وہی کیا جو وہ طے کرچکی تھی۔ اس سلسلے میں ایک وفد منترالیہ اپوزیشن لیڈروں سے ملنے گیا تھا ۔ اس میں شامل سی پی آئی کے سینئر لیڈر پرکاش ریڈی نے نمائندہ انقلاب سے بات چیت میں کہا کہ حکومت نے غلط کیا ۔ ایسا قانون پاس کیا ہے جس سے عام آدمی کو آسانی سے اس کے حق سے محروم کردیا جائے گا، پولیس کو بے پناہ طاقت مل جائے گی اور حکومت کی غلط پالیسی اور اس کی من مانی کا راستہ کھل جائے گا، کوئی شہری اس کی مخالفت نہیں کرسکے گا اور جو ہمت کرے گا اسے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ کامریڈ شیلیندر کامبلے نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے نمائندوں خاص طور پر ادھو ٹھاکرے کا رخ دیکھ کر حوصلہ ملا کیوں کہ انہوں نے کھل کر بل کے خلاف آواز اٹھائی۔ سرو ہرا کی لیڈر الکا مہاجن بھی وفد میں شامل تھیں ، انہوں نے کہا کہ ہم سب کا مؤقف وہی ہے جو پہلے تھا کہ یہ بل واپس لیا جائے ، یہ عام آدمی کے حق میں مفید نہیں زہر ہے اور حکومت نکسلواد کے خاتمے کے نام پر عام آدمی کے حقوق چھین رہی ہے۔