پی ایف آئی پر پابندی ، کہیں خیر مقدم، کہیں برہمی، مزید گرفتاریوں کا اندیشہ

Updated: September 29, 2022, 1:13 AM IST | new Delhi

پاپولر فرنٹ کے ساتھ ہی اس کی ۷؍ ذیلی تنظیمیں بھی آئندہ ۵؍ برسوں کیلئے ممنوعہ قراردے دی گئیں، ایس ڈی پی آئی نے پابندی کو’’غیر اعلانیہ ایمرجنسی‘‘ کا حصہ بتایا۔ مرکزی حکومت پر آزادی ٔ اظہاررائے پرقدغن لگانےاور عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو ڈرانے کا الزام ۔ پی ایف آئی کے جنرل سیکریٹری نے پابندی کو تسلیم کرتے ہوئے تنظیم کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا، چند ہی گھنٹوں بعد گرفتار کرلئے گئے

Following the ban on the Popular Front of India, police personnel can be seen outside its office in Kochi. This is the situation in the entire country. (PTI)
پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی کے بعدکوچی میں اس کے دفتر کے باہر پولیس اہلکاروں کو تعینات دیکھا جاسکتاہے۔ یہی صورتحال پورے ملک میں  ہے۔(پی ٹی آئی)

 ہفتہ بھر میں پاپولر فرنٹ  انڈیا(پی ایف آئی) کے خلاف دو بار ملک گیر کریک ڈاؤن اور  سیکڑوں کی تعداد میں اس کے کارکنوں کی گرفتاری  کے بعد بدھ کو مرکزی وزارت داخلہ نے بالآخر  پی ایف آئی پر  ۵؍ برسوں کیلئے پابندی عائد کردی۔ ایک سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس سے وابستہ تنظیموں یا محاذوں کو انسداد غیر قانونی سرگرمی ایکٹ (یو اے پی اے ) کے تحت فوری اثر سے ’’غیر قانونی اسوسی ایشن‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے الزام لگایا کہ  تنظیم کا تعلق ممنوعہ تنظیم  اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی ) اور جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی )  سے ہے۔  اس کے ساتھ ہی  پی ایف آئی کے تار عالمی دہشت گرد تنظیم  داعش سے بھی جڑے ہونے کا دعویٰ کیاگیاہے۔ 
 مرکزی حکومت کا الزام ہے کہ پی ایف آئی ہندوستان میں خفیہ ایجنڈا چلا کر ایک خاص طبقے کو بنیاد پرست بنا رہا ہے اور  اس کے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں سے بھی روابط ہیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس سے ملحقہ ادارے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو ’’ملک کی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کیلئے نقصان دہ ہیں‘‘ اور عوامی امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
  بنیاد پرستی کے فروغ کا الزام
 نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس سے ملحقہ ادارے ایک سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور سیاسی تنظیم کے طور پر کھلے عام کام کرتے ہیں، لیکن وہ معاشرے کے ایک خاص طبقے کو بنیاد پرست بنانے کے خفیہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کی تشکیل۱۷؍ فروری۲۰۰۷ءکو جنوبی ہندوستان میں ۳؍ مسلم تنظیموں کے انضمام سے ہوئی تھی۔ پی ایف آئی کا دعویٰ ہے کہ وہ۲۳؍ ریاستوں میں سرگرم ہے۔ سیمی پر پابندی کے بعد پی ایف آئی جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کرناٹک اورکیرالا میں تیزی سے پھیلی۔
      پاپولر فرنٹ کو تحلیل کرنے کا اعلان
 مرکزی حکومت کی جانب سے پی ایف آئی پر پابندی کے اعلان کے بعد کیرالا میں  پاپولر فرنٹ آف انڈیا(پی ایف آئی) کے جنرل سیکریٹری عبدالستار نے ایک پوسٹ کرکے حکومت کے فیصلے کی پابندی کرتے ہوئے تنظیم کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔  ان کے اس اعلان کے چند ہی گھنٹوں  بعد   این آئی اے نے  انہیں گرفتار کرلیا۔ گرفتاری سے قبل انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’پی ایف آئی کےتمام اراکین اور عوام کو مطلع کیا جاتاہے کہ پی ایف آئی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کردیاہے۔  اپنے اس عظیم ملک کے قانون کی پاسداری کرنے والے شہری کی حیثیت سے ہم اس فیصلے کو قبول کرتے ہیں ۔‘‘ فیس بک پر ان کے اس پوسٹ کے چند ہی گھنٹوں بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ 
 کہیں خیر مقدم، کہیں برہمی
  پی ایف  آئی پر پابندی کا ملک کی اکثر سیاسی پارٹیوں نے خیر مقدم کیا ہے مگر چند نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ آر ایس ایس پر بھی پابندی کیوں نہیں  عائد ہوتی۔ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں  پابندی کی وجہ سے   برہمی ہے مگر مسلم تنظیموں کی اکثریت نے پابندی کے خلاف کسی طرح کا بیان جاری کرنے سے اجتناب کیا۔ البتہ پابندی کی تائید میں کئی تنظیمیں کھل کر سامنے آئیں۔ 
  بی جےپی  کے تمام بڑے لیڈروں اور وزرائے اعلیٰ نے پابندی کا پرزور خیر مقدم کیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی جو پاپولر فرنٹ کی سیاسی اکائی ہے اور جس پر پابندی عائد نہی ہوئی،   نے پابندی کو ملک میں نافذ ’’غیر اعلانیہ‘‘ ایمرجنسی کا حصہ قراردیا۔   اس  نے اسے مخالف آوازوں کو دبانے اور  انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش بتایا کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس کی پالیسی ہمیشہ فرقہ پرستی کے خلاف بغیر کسی خوف اور سمجھوتہ کے لڑنا رہی ہے۔   

 

PFI Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK