پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی لگانے کا مقصد ووٹو ں کا ارتکاز ہے

Updated: September 29, 2022, 12:56 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

ملی تنظیموں نے پوچھا ’’ اگر پی ایف آئی ملک مخالف سرگرمیوں میں مصروف تھی تو حکومت کو ۸؍ سال تک اس کا علم کیوں نہیںہوا؟‘‘بیشتر نے اسے ۲۰۲۴ء میںانتخابی مفاد حاصل کرنے کیلئے اٹھایا گیا قدم قرار دیا

The offices of the Popular Front of India have been raided for the last one week (file photo).
پاپولر فرنٹ آف انڈیا کےدفاتر پر گزشتہ ایک ہفتے سے چھاپے مارے جا رہے ہیں( فائل فوٹو)

اپولر فرنٹ آف انڈیا پرحکومت کی جانب سے بالآخرپابندی عائد کردی گئی ہے۔اس ملک گیر تنظیم کے دفاتر پر جس وقت بڑے پیمانے پرچھاپے مارے جارہے تھے اسی وقت کچھ لوگوں نے دبے الفاظ میں اس کا اندیشہ ظاہر کیا تھا جو سچ ثابت ہوا۔ لیکن اس پابندی پر ملی تنظیموں کے ذمہ داران نےکئی سوالات قائم کئے ہیںاوراسے سیاسی مفادات کے حصول کا بی جے پی کا حربہ قرار دیا ہے۔
قانونی راستہ اپنانا بہتر ہوگا
 جماعت اسلامی کے عہدیدار محمداسلم غازی نے کہا کہ ’’یہ پابندی غلط ہے۔دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں سے رابطے اورملک مخالف سرگرمیوں کے جو الزامات عائد کئے گئے ہیں وہ  بھی بے بنیاد ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ یہ ممکن ہے کہ پاپولرفرنٹ سےوابستہ کسی نوجوان نے جذبات میں کوئی بات کہہ دی ہو لیکن ایسی کوئی سرگرمی ان کی نہیںرہی ہے۔اسی طرح کے الزامات جماعت ِ اسلامی پرعائد کرتے ہوئے پابندی عائد کی گئی تھی جسے بعد میں عدالت نے خارج کردیا تھا۔‘‘ انہوںنےیہ بھی کہاکہ ’’یہ تنظیم آج سے توکام نہیںکررہی ہے اوربی جے پی بھی ۸؍برس سےاقتدار میںہے تواسے ۸؍سال بعد ان سرگرمیوں کا پتہ چلا؟‘‘ واضح رہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا قیام باقاعدہ طور پر ۲۰۰۷ء میں عمل میں آیا تھا۔ یعنی اس تنظیم کو قائم ہوئے  ۱۵؍ سال ہو چکے ہیں۔ اسلم غازی کہتے ہیں ’’دراصل یہ سب سیاسی مفادات کے حصول کیلئے کیاجارہا ہے ۔میرا مشورہ ہےکہ تنظیم کے ذمہ داران اس معاملے میںقانونی طور پرآگےبڑھیں۔‘‘
’’حکومت اگراپنے دعوے پرکھری ہے توخاموش کیوںتھی؟‘‘
 آل انڈیا علماءکونسل کے جنرل سیکریٹری مولانا محمودخان دریابادی کا اس تعلق سے کہناہے کہ ’’ پاپولر فرنٹ آف انڈیا ۱۴؍۱۵؍ سال سے کام کررہی ہے۔ اگر اس پراتنے سنگین الزامات تھےجیسا کہ حکومت کا دعویٰ ہے تو پھر حکومت نے ۸؍سال تک انتظار کیوں کیا؟ اصل میں یہ مختلف ریاستوں میںہونے والے انتخابات اور مرکز کے ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات کے پیش نظر شوشہ چھوڑکرپابندی عائد کی گئی ہے۔‘‘ 
 انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’ ایک طر ف یہ حالات ہیں( پی ایف آئی پر پابندی )اور دوسری جانب دھرم سنسد منعقدکرکے مسلمانوں کاقتل عام کرنے کے لئے لوگو ںکواکسایا جاتا ہے ، لیکن ایسے لوگ آزاد گھومتے ہیں۔ جس امبریلا تنظیم کے بینرتلےاس طرح کی حرکت کی جاتی ہے ،اس پرپابندی عائد کرنے کا حکومت کب فیصلہ کرے گی ؟‘‘
پابندی کاوقت حکومت کا مقصد واضح کررہا ہے 
 رضااکیڈمی کے جنرل سیکریٹری محمدسعید نوری بھی اس معاملے کو  بی جے پی کی جانب سے الیکشن کی تیاری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کہ ’’ پاپولر فرنٹ پر پابندی عائد کئے جانے کے تعلق سے یہی سمجھ میںآرہا ہےکہ اب انتخابات قریب آرہے ہیں۔ اس لئےبرادران وطن کے ووٹوںکے ارتکاز کیلئے پہلے اس تنظیم کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے،گرفتاریاں عمل میں آئیں اور اب اس پر  پابندی عائد کردی گئی۔ ‘‘ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’ہم ہی نہیںکوئی بھی مسلمان ملک مخالف سرگرمیو ں میںملوث کسی فرد یا تنظیم کی قطعی حمایت نہیں کرےگا ، لیکن جس وقت حکومت نے پابندی کافیصلہ کیا ہے وہ وقت خود ہی حکومت کا منشاء اورمقصد واضح کررہا ہے۔‘‘
میڈیا ٹرائل کی بنیاد پرپابندی لگادی گئی 
 موومنٹ فار ہیومن ویلفیئر کے صدر ڈاکٹر عظیم الدین نے بھی اس پاپندی کو غلط قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پابندی کھلی زیادتی اورظلم ہے۔ اگراس تنظیم سے منسلک کسی نوجوان نے کوئی غلطی کی ہو تواسے سزا  ضرور ملنی چاہئے لیکن تنظیم پر ملکی سطح پرپابندی عائد کرنے کاکیا جوازہے؟ ‘‘ عظیم الدین نے کہا کہ ’’جو تنظیمیںخواہ وہ بجرنگ دل ہو، وشو ہندو پریشد ہو یاایسی دیگر تنظیمیں جنہوںنے ماب لنچنگ کی، ہتھیارو ںکا استعمال کیا ،کھلے عام دھمکیاںدیں اورقانو ن کا مذاق اڑایا ،ان کو تحفظ فراہم کیاجارہا ہے اورپاپولرفرنٹ آٖف انڈیا پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ ’’ اس تنظیم  پرمیڈیا ٹرائل کی بنیاد پرمحض اس لئے پابندی عائد کردی گئی کہ( اس میںشامل) کچھ پڑھےلکھے مسلم نوجوان اپنے آئینی حقوق کی حصولیابی کے لئے کوشاں تھے۔حکومت کواپنے فیصلے پرنظر ثانی کرتے ہوئے پابندی کا فیصلہ واپس لیناچاہئے۔‘‘
  یاد رہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا نام ابھی تک کسی بھی اہم تخریبی واقعے میں سامنے نہیں آیا ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے محض میڈیا میں بی جے پی لیڈروں کے  اس تنظیم کے خلاف بیانات آئے ہیں۔ ایسی صورت میں بیشتر لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر حکومت نے کس بنا پراتنی بڑی کارروائی کی ہے؟ یاد رہے کہ سیمی پر بھی ۲۰؍ سال سے پابندی عائد ہے لیکن اب تک ٹریبونل کے سامنے حکومت اس کا جرم ثابت نہیں کر پائی ہے۔ 

PFI Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK