• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

بلڈانہ میں پی ایف آئی کے۷؍ عہدیداروں کےگھروں کی تلاشی ناندیڑ سےگرفتار۳نوجوانوں کی عدالتی تحویل میں

Updated: October 06, 2022, 9:38 AM IST | ali imran | buldhana

کلکٹر اور ضلع مجسٹریٹ ایس رام مورتی کے حکم پر منگل کو کی گئی اس کارروائی کو خفیہ رکھا گیا ، پی ایف آئی کےضلعی صدر مولانا رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں کوئی قابل اعتراض کاغذات نہیں ملے ہیں

In the below image and inset, the revenue department and police officials during house searches
زیر نظر تصویر اور انسیٹ میں ریوینیو محکمہ اور پولیس کے اہلکار گھروںپر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران

 پولیس  اور ریونیو افسران پر مشتمل خصوصی ٹیم نے بلڈانہ شہر میں کالعدم تنظیم `پاپولر فرنٹ آف انڈیا(پی ایف آئی) کے۷؍ عہدیداروں کے گھروں کی تلاشی لی۔ کلکٹر اور ضلع مجسٹریٹ ایس رام مورتی کے حکم پر پولیس اور ریونیو ڈپارٹمنٹ نے بروز منگل۴؍ستمبر کو یہ کارروائی کی۔اس کارروائی کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا۔ ضلعی صدر مولانا شیخ رئیس (کمیلا علاقہ)، اخلاص خان سمیر خان (جوہر نگر) اور ۷؍ افراد کے گھروں کی تلاشی لی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ اس کارروائی کا مقصد ان ملزمین کی مبینہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی چھان بین کرنا ہے۔ اس موقع پر افسران نے کہا کہ ملزمین کے متعلقین کو پنچنامہ کی کاپی بھی دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ مرکزی حکومت نے پی ایف آئی پر ۵؍ سال کیلئے پابندی لگا دی ہے۔ اطلاع کے مطابق کلکٹر ایس راما مورتی کو اس سلسلے میں اعلیٰ حکام سے خط موصول ہوا۔ اس حکم کی بنیاد پر بروز منگل۴؍ستمبر کو شہر بلڈانہ میں یہ کارروائی کی گئی۔
  تحقیقاتی ٹیم میں سب ڈویژنل آفیسر (ریونیو) راجیشور ہانڈے، سٹی پولیس تھانیدار پرلہاد کاٹکر اور عملہ، لوکل کرائم برانچ کے افسران اور عملہ، نائب تحصیلدار، سرکل آفیسر، تلاٹھی شامل تھے۔
’ کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ملی‘
 ضلعی صدر مولانا رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں کوئی قابل اعتراض دستاویزات نہیں ملے ہیں۔ مولانا نے الزام لگاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ کارروائی حکومت کا `سیاسی ایجنڈا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پوچھ  تاچھ کے دوران کچھ سوالات پوچھے گئے تھے، بس اور کچھ نہیں۔دو لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔پی ایف آئی کے۲؍ کارکنوں کو ایک ہفتہ قبل بلڈانہ شہر سے حراست میں لیا گیا تھا اور مکمل پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔ مقامی کرائم برانچ اور سٹی پولیس نے `اے ٹی ایس کی رہنمائی میں یہ کارروائی کی تھی۔ پولیس نے۱۱؍ لوگوں کے خلاف احتیاطی کارروائی کی جنہوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سٹی تھانے کے سامنے بلڈانہ چکھلی شاہراہ پر سڑک کو روک دیا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مولانا رئیس بھی اس میں شامل تھے۔
 تینوں نوجوانوں کی عدالتی تحویل میں اضافہ
  پی ایف آئی پرپابندی کے بعد اتوارہ پولیس اسٹیشن کی جانب سے بطور احتیاطی اقدام ناندیڑ سے گرفتار کئے گئے تینوں نوجوانوں کی عدالتی تحویل میں ۵؍ دن کی توسیع کردی ہے۔چند روز قبل میں ملک بھر میں پاپولر فرنٹ آنڈیا کے خلاف این آئی اے نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی تھیں ۔ان میں ناندیڑ میں دو الگ الگ مقدمے درج کئے گئے ۔ پہلا مقدمہ ناندیڑ کے دو عابد علی اور معراج انصاری اور پربھنی کے تین، اس طرح تنظیم کے پانچ ذمہ داران کے خلاف درج کیا گیا ۔یہ سبھی پانچوں افراد ان دنوں اے ٹی ایس کی تحویل میں ہیں ۔دوسرا مقدمہ بھی پی ایف آئی سے تعلق رکھنے والے ناندیڑ کے تین افراد عا مر خان امجد خان، عبدالندیم عبدالواحد، عطاء الرحمٰن شیخ احمد کے خلاف درج کیا گیا ۔دوسرے مقدمہ میں تینوں ملزمین کی۲۸؍ ستمبر کو گرفتاری عمل میں آئی تھی اور انہیں ۵؍اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیجنے کے احکامات دئے گئے تھے ۔عدالتی تحویل کی میعاد مکمل ہونے پر پھر سے انہیں ناندیڑ کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا ۔اے ٹی ایس کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ فی الحال مذہبی تہواروں کو ماحول بنا ہواہے ۔ان تینوں ملزمین کو ضمانت پر رہا کئے جانے پر شہر کے حالات بگڑنے کا اندیشہ ہے اس لئے ان کی عدالتی تحویل میں مزید اضافہ کیا جائے۔ عدالت نے اے ٹی ایس کے وکیل کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے ملزمین کی عدالتی تحویل کی  میعاد میں مزید ۵؍ دنوں کا اضافہ کردیا ہے ۔اب انہیں ۱۰؍ اکتوبر تک عدالتی تحویل میں رہنا ہوگا ۔اے ٹی ایس کے وکیل کے جواب میں ملزمین کے وکیل ایڈوکیٹ اریب الدین نے عدالت کے سامنے اپنی بات پیش کرتے ہوئے اے ٹی ایس کے وکیل کی مخالفت کی اور یہ کہا کہ تینوں ملزمین کے خلاف اے ٹی ایس نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے جس کی بنیاد پر ان کی عدالتی تحویل میں اضافہ کیا جاسکے ۔اسی طرح اے ٹی ایس یہ بھی ثابت نہیں کرپائی کہ ملزمین کا تعلق پی ایف آئی سے ہے ۔

PFI Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK