Updated: August 27, 2026, 10:09 PM IST
| Bangalore
بنگلور: نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (این ایل ایس آئی یو) میں چیف جسٹس سوریہ کانت کو مدعو کرنے پر طلبہ کے احتجاج کے بعد ۳۴؍ ویں سالانہ تقسیم اسناد تقریب(کانووکیشن) جو۱۲؍ ستمبر کو منعقد ہونی تھی، منسوخ کر دی ہے،یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ تمام فارغ التحصیل طلبہ کو غیرحاضری میں ڈگریاں عطا کی جائیں گی، جو گورننگ باڈیز کی منظوری سے مشروط ہوں گی۔
بنگلور کی نیشنل لاء اسکول آف انڈیا یونیورسٹی۔ تصویر: آئی این این
بنگلور کی نیشنل لاء اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (این ایل ایس آئی یو) میں چیف جسٹس سوریہ کانت کو مدعو کرنے پر طلبہ کے احتجاج کے بعد ۳۴؍ ویں سالانہ تقسیم اسناد تقریب(کانووکیشن) جو۱۲؍ ستمبر کو منعقد ہونی تھی، منسوخ کر دی ہے،یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ تمام فارغ التحصیل طلبہ کو غیرحاضری میں ڈگریاں عطا کی جائیں گی، جو گورننگ باڈیز کی منظوری سے مشروط ہوں گی۔ این ایل ایس آئی یو نے ’’ناقابل گریز حالات‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اجتماع منسوخ کر دیا۔بعد ازاں یونیورسٹی نے جمعرات۲۷؍ اگست کو ایک سرکاری نوٹس کے ذریعے فارغ التحصیل طلبہ کو اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اجتماعی بہترین کوششوں‘‘ کے باوجود وہ طے شدہ پروگرام منعقد نہیں کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: عمر خالد، شرجیل امام کی ضمانت کیلئے اپیل عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش: دہلی پولیس
یاد رہے کہ ادارے نے ۳؍ اگست کو طلبہ کو۱۲؍ ستمبر کی تجویز کردہ تاریخ سے آگاہ کیا تھا۔یونیورسٹی کے مطابق تمام فارغ التحصیل طلبہ کو گورننگ باڈیز کی منظوری کے بعد غیرحاضری میں ڈگریاں دی جائیں گی۔ طلبہ اپنی اسناد کوریئر کے ذریعے وصول کرنے یا کیمپس سے لے جانے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ یونیورسٹی آج بعد میں ایک نیا فارم اور طریقہ کار طلبہ کو بھیجے گی تاکہ وہ اپنی ترجیح کا انتخاب کر سکیں۔
واضح رہے کہ طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت اور بی سی آئی چیئرمین منن کمار مشرا کی تقریب میں شرکت پر اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے بی سی آئی سے حیدرآباد کی نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (این اے ایل ایس اے آر) یونیورسٹی آف لا کے طلبہ اور اساتذہ سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مذہبی آزادی کےامریکی کمیشن نے ہندوستان کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا
ذہن نشین رہے کہ این اے ایل ایس اے آر کے فارغ التحصیل طلبہ کی طرف سے چیف جسٹس سوریہ کانت کو مہمان خصوصی کے طور پر دعوت کے خلاف احتجاج کے بعد بار کونسل آف انڈیا کے چیئرمین نے این اے ایل ایس اے آر کے۲۰۲۶ء کے پورے بیچ کے رجسٹریشن کو منجمد کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا اور تمام ریاستی بار کونسلوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس بیچ کے کسی بھی طالب علم کارجسٹریشن نہ کریں جب تک کہ چیف جسٹس کی شرکت کے خلاف مہم کی تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں۔تاہم بی سی آئی نے چند گھنٹوں کے اندر ہی یہ حکم واپس لے لیا۔ چیئرمین منن کمار مشرا نے کہا کہ کونسل نے ان کے سابقہ خط پر مکمل بحث کی اور رجسٹریشن نہ کرنے کی ہدایت میں ترمیم کر دی۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کا متفقہ خیال تھا کہ این اے ایل ایس اے آر کے۲۰۲۶ء کے فارغ التحصیل بیچ کی اکثریت نے کسی بھی ایسے اقدام میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں کیا تھا جس سے چیف جسٹس کی توہین ظاہر ہوتی۔ترمیم شدہ حکم میں کہا گیا،’’ اس کے مطابق، کونسل این اے ایل ایس اے آر کے طلبہ کے ریاستی بار کونسلوں میں رجسٹریشن پر پابندی کے حوالے سے چیئرمین کے حکم میں ترمیم کرتی ہے۔ اب تمام طلبہ کو اپنی پسند کی ریاستی بار کونسل میں رجسٹریشن کا حقحاصل ہے۔
دریں اثناءاس منسوخی پر کاکروچ جنتا پارٹی کے شریک کنوینر سورو داس نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ فارغ التحصیل بیچ اپنی خود کی تقریب منعقد کرے گا اور طلبہ کو مبارکباد دینے کے لیے ایک خصوصی مہمان مدعو کرے گا۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے امید ہے کہ این ایل ایس آئی یو کا فارغ التحصیل بیچ اپنی اپنی گریجویشن تقریب منعقد کرے گا اور سب سے معزز مہمان کو ان کی تکریم کے لیے مدعو کرے گا۔ اسے جین زی طریقے سے کرو- ‘‘