Updated: August 27, 2026, 10:09 PM IST
| Tehran
امریکہ کی نئی معاشی پابندیوں نے پہلے ہی بحران کا شکار ایرانی معیشت پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات بندر عباس سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بڑھتی مہنگائی، درآمدی اشیاء کی قیمتوں اور تاجروں کی مشکلات کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف تہران کا کہنا ہے کہ چین اور روس جیسے تجارتی شراکت داروں کے تعاون سے وہ امریکی دباؤ کا مقابلہ کر سکتا ہے، تو دوسری جانب آبنائے ہرمز کا جاری بحران عالمی بحری تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے بھی نئی تشویش پیدا کر رہا ہے۔
ایران کو امریکہ کی نئی معاشی پابندیوں کا سامنا ہے، جن کا مقصد اس کی پہلے سے بدحال معیشت پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔ جنوبی ساحلی شہر بندر عباس کے دکانداروں کے مطابق، ان پابندیوں کا اثر بڑھتے ہوئے اخراجات اور روزمرہ کی زندگی پر براہِ راست پڑ رہا ہے۔ تاہم، تہران انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس دباؤ کا مقابلہ کر سکتےہیں، اور اسے امید ہے کہ چین اور روس جیسے بڑے تجارتی شراکت دار اس کے ساتھ کاروبار جاری رکھیں گے۔ دوسری طرف، آبنائے ہرمز کا بحران اب بھی برقرار ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی بحری تجارت کا ایک اہم راستہ متاثر ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: واشنگٹن مکمل ذمہ داری قبول کرے: ایران کا امریکی پابندیوں پر ہرجانے کا مطالبہ
عام ایرانی شہریوں کیلئے پابندیوں کی یہ پوری کہانی دراصل ان کی روزمرہ زندگی کی مہنگائی سے جڑی ہوئی ہے۔ بندر عباس کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی اور تجارتی رکاوٹوں کے باعث باہر سے آنے والا سامان مہنگا ہو رہا ہے، جس سے گھر کے بجٹ پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔ گھریلو سامان بیچنے والے ایک تاجر قاسم شجاع کا کہنا ہے کہ ’’حالات جیسے بھی ہوں، پابندیاں نقصان تو پہنچاتی ہیں، لیکن آخر کار ہم ایرانی ہیں اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ پابندیوں کے اثرات سے کیسے نکلناہے۔‘‘
امریکہ کے ان تازہ ترین اقدامات کا اعلان ۲۴؍ اگست کو امریکی وزارت خزانہ کے سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کیا تھا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ جو ممالک ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے، آگے چل کر ان کے امریکی ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی پر پابندی لگ سکتی ہے۔حالانکہ امریکہ نے فی الحال سخت اقدامات اٹھانے سے گریز کیا ہے، نہ ہی ان ممالک کی فہرست جاری کی ہے جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہےاور نہ ہی کوئی حتمی تاریخ طے کی ہے۔ ایرانی تاجروں کیلئے یہ غیر یقینی صورتحال کافی تشویشناک ہے۔ تاجروں کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، جبکہ دکاندار اس الجھن میں ہیں کہ اس مہنگائی کا کتنا بوجھ ان صارفین پر منتقل کریں جو پہلے ہی معاشی تنگی سے جوجھ رہے ہیں۔ کپڑوں کے دکاندار اومد باگاپور دریائی نے جذبات میں آکراپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم جس دباؤ سے گزر رہے ہیں، اس سے ہم پوری طرح پریشان ہیں۔ نوجوانوں کو حکام سے کافی شکایتیں ہیں جو عوام کی تکلیفوں پر دھیان نہیں دے رہے۔ میرے نزدیک ایک ذمہ دار عہدیدار وہ ہے جو چین سے نہ بیٹھے بلکہ لوہے کے جوتے پہن کر عوام کے ساتھ میدان میں نظر آئے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آئی سی سی کو ختم نہیں کیا جانا چاہئے: امریکی پابندیوں کے بعد صدر توموکو اکانے
دوسری طرف ایران کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں اسے تنہا نہیں کر سکتیں۔ ایرانی حکومت کو امید ہے کہ ان کے بڑے تجارتی شراکت دار واشنگٹن کے دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے، جبکہ عام دکاندار بھی مانتے ہیں کہ ایرانیوں نے ان پابندیوں کے ساتھ جینا اور راستہ نکالنا سیکھ لیا ہے۔ اس معاشی دباؤ کا ایک اور بڑا مرکز آبنائے ہرمز ہے۔ جاری تنازع کی وجہ سے اس سمندری راستے سے گزرنے والی زیادہ تر بحری نقل و حمل متاثر ہے۔ منگل کو ایران اور عمان نے اس راستے پر سمندری جہازوں کیلئے ایک عارضی متبادل راستہ بنانے اور وہاں سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے منصوبے پر بات چیت کی ہے۔
تاجر قاسم شجاع نے آبنائے ہرمز سے متعلق بات کرتے ہوئے مزید کہاکہ ’’آبنائے ہرمز ہمارا گھر ہے۔ جب تک ہم اجازت نہ دیں اور تعاون نہ کریں، اسے بند ہی رکھا جانا چاہیے۔ اتنے سالوں تک دنیا ہمارے تیل اور دیگر اشیاءسے فائدہ اٹھاتی رہی، لیکن اب انہیں ہمارے ساتھ صحیح طریقے سے لین دین کرنا ہوگا۔‘‘ اگرچہ ان پابندیوں کا مقصد تہران کی حکومت پر معاشی دباؤ بنانا ہے، لیکن ان کا اثر کرنسی کے اُتار چڑھاؤ، تجارتی رکاوٹوں اور بڑھتی مہنگائی کی صورت میں عام تاجروں اور عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی توانائی کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا پر پڑیں گے۔