بنگلہ دیش گرمیوں میں توانائی کی طلب پوری کرنے کے لیے آئی ایم ایف اور اے ڈی بی سے تقریباً ۲؍ ارب ڈالر قرض حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: March 21, 2026, 9:07 PM IST | Dhaka
بنگلہ دیش گرمیوں میں توانائی کی طلب پوری کرنے کے لیے آئی ایم ایف اور اے ڈی بی سے تقریباً ۲؍ ارب ڈالر قرض حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بنگلہ دیش نے بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے تقریباً 2 ارب ڈالر کے قرض کے حصول کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک مائع قدرتی گیس اور دیگر ایندھن کی درآمدات کی مالی اعانت کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور ایشن ڈیولپمنٹ بینک سے فنڈز حاصل کرنے کا خواہاں ہے، تاکہ گرمیوں کے موسم میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق، بنگلہ دیش کو موجودہ پروگرام کے تحت آئی ایم ایف سے تقریباً ۳ء۱؍ بلین ڈالر جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے تقریباً ۷۰۰؍ ملین ڈالر ملنے کی توقع ہے۔ یہ فنڈنگ نہ صرف توانائی کی درآمدات کو سہارا دے گی بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و منصوبہ بندی راشد المحمود نے کہا کہ حکومت قرض کی شرائط، خاص طور پر شرح سود، پر مذاکرات کر رہی ہے تاکہ اسے مارکیٹ ریٹ سے کم سطح پر حاصل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اے ڈی بی کے ساتھ پیش رفت ’’حوصلہ افزا‘‘ ہے جبکہ آئی ایم ایف سے بھی مثبت نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔ حکومت کا یہ اقدام ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد گھریلو صارفین پر بوجھ ڈالے بغیر توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھنا ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی بل میں اضافے نے بنگلہ دیش کی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے باعث ایسے مالیاتی اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بنگلہ دیش سالانہ تقریباً ۱۲؍ ارب ڈالر توانائی کی درآمدات پر خرچ کرتا ہے، جس میں خام تیل، ایل این جی، ایل پی جی اور کوئلہ شامل ہیں۔ خاص طور پر مائع قدرتی گیس ملک کے توانائی کے اخراجات میں سب سے تیزی سے بڑھنے والا عنصر بن چکی ہے۔ ۲۰۲۵ء میں ملک نے تقریباً ۴؍ ارب ڈالر خرچ کر کے ۱۰۹؍ ایل این جی کارگوز درآمد کیے، جو ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے جب ۸۶؍ کارگوز کے لیے تقریباً ۳؍ ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔ تازہ پیش رفت کے مطابق، اگر یہ قرض حاصل ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف قلیل مدتی توانائی بحران سے نمٹنے میں مدد دے گا بلکہ طویل مدتی اقتصادی استحکام کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ترقی پذیر ممالک عالمی مالیاتی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔