ہیومن رائٹس واچ نے ہنگری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کی آمد پر انہیں آئی سی سی وارنٹ کے تحت گرفتار کیا جائے۔
EPAPER
Updated: March 21, 2026, 10:16 PM IST | Budapest
ہیومن رائٹس واچ نے ہنگری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کی آمد پر انہیں آئی سی سی وارنٹ کے تحت گرفتار کیا جائے۔
ہیومن رائٹس واچ نے جمعہ کو ہنگری کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اپنے متوقع دورے کے دوران ملک میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہنگری میں ۱۲؍ اپریل کو ہونے والے عام انتخابات قریب ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس معاملے پر توجہ بڑھتی جا رہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی بین الاقوامی انصاف کی محقق ایلس اوٹن نے کہا کہ ہنگری اب بھی آئی سی سی کا رکن ہے، اس لیے وہ عدالت کو مطلوب افراد کو گرفتار کرنے اور ان کے حوالے کرنے کا پابند ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہنگری اس ذمہ داری کو نظر انداز کرتا ہے تو یہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ فلسطین میں مبینہ سنگین جرائم کے متاثرین کے ساتھ ناانصافی بھی ہوگی۔
یہ مطالبہ اس پس منظر میں کیا گیا ہے کہ آئی سی سی نے ۲۰۲۴ء میں غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع گیلینٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ اس کے بعد سے دونوں رہنما عدالت کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں، جبکہ اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ ہنگری پہلے بھی اپریل ۲۰۲۵ء میں نیتن یاہو کے دورے کے دوران انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہا تھا، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ اس کے بعد ہنگری نے باضابطہ طور پر آئی سی سی معاہدے سے دستبرداری کا اعلان بھی کیا، جو ۲؍ جون سے نافذ العمل ہونے والا ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہوتا، ہنگری پر عدالت کے ساتھ تعاون کی قانونی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔
یورپی یونین کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے یورپی یونین اور دیگر رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہنگری پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنی دستبرداری واپس لے اور بین الاقوامی انصاف کے نظام کا حصہ بنا رہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ خاموشی یا غیر فعالیت عالمی سطح پر ’’استثنیٰ‘‘ کو فروغ دے سکتی ہے۔ یہ معاملہ ایک وسیع تر عالمی تناظر کا حصہ ہے جہاں غزہ، لبنان اور ایران میں جاری کشیدگی کے باعث اسرائیل کے اقدامات پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق غزہ میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے، جبکہ بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
تازہ رپورٹس کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۵ء کی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تشدد مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اسی تناظر میں بین الاقوامی ادارے جنگی جرائم کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب پر زور دے رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری نہ صرف ایک قانونی تقاضا ہے بلکہ یہ عالمی انصاف کے نظام کی ساکھ کے لیے بھی ایک اہم امتحان ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، اگر ہنگری اس بار بھی کارروائی نہیں کرتا تو یہ بین الاقوامی قانون کے نفاذ پر سنگین سوالات کھڑے کرے گا اور آئی سی سی کی عملداری کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔