Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل پر فلسطینیوں پر منظم تشدد کا الزام: اقوام متحدہ کی رپورٹ

Updated: March 21, 2026, 10:17 PM IST | New York

اقوام متحدہ کی ماہر فرانسسکا البانیز نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف منظم تشدد اور اجتماعی سزا کے الزامات عائد کیے۔ ’’تشدد اور نسل کشی‘‘ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں خاص طور پر ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جس میں حراست، جبری گمشدگیوں اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے جمعہ کو اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف ایسے منظم تشدد میں ملوث ہے جو ’’اجتماعی انتقام اور تباہ کن ارادے‘‘ کی عکاسی کرتا ہے۔ ’’تشدد اور نسل کشی‘‘ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں خاص طور پر ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جس میں حراست، جبری گمشدگیوں اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، زیر حراست فلسطینیوں کو غیر معمولی جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس میں شدید مارپیٹ، جنسی تشدد، عصمت دری، خوراک کی کمی، اور بنیادی انسانی ضروریات سے محرومی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ البانیز نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف سزا کے طور پر بلکہ ایک وسیع تر پالیسی کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد فلسطینی معاشرے پر طویل مدتی اثر ڈالنا ہے۔
اقوام متحدہ کی ماہر نے انکشاف کیا کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد فلسطینیوں کی گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب تک ۱۸؍ ہزار ۵۰۰؍ سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں کم از کم ۱۵۰۰؍ بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً ۹؍ ہزار فلسطینی اب بھی حراست میں ہیں جبکہ ۴؍ ہزار سے زائد افراد جبری گمشدگی کا شکار ہو چکے ہیں، جو عالمی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔ البانیز نے کہا کہ اسرائیلی حراستی نظام ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں یہ ’’ذلت، جبر اور دہشت‘‘ کے ایک منظم ڈھانچے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین، خاص طور پر تشدد کے خلاف کنونشن، کی صریح خلاف ورزی ہیں جس کا اسرائیل خود فریق ہے۔
انہوں نے اپنی رپورٹ میں ۳۰۰؍ سے زائد متاثرین اور عینی شاہدین کی شہادتوں کا حوالہ دیا، جن میں ایسے واقعات بیان کیے گئے ہیں جو اجتماعی سزا، جبری نقل مکانی اور بنیادی انسانی ڈھانچے کی تباہی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تشدد نہ صرف قیدیوں تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر فلسطینی آبادی کو نشانہ بنانے کی ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تازہ عالمی تناظر میں، آئی سی سی میں اسرائیلی قیادت کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائیوں کی بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔ البانیز نے پراسیکیوٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ بیزالیل اسموٹریچ اور بین گویئرکے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرنے پر غور کریں۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ اور مغربی کنارے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر اسرائیل کے اقدامات پر تنقید بڑھ رہی ہے، جبکہ متعدد انسانی حقوق کی تنظیمیں پہلے ہی جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر چکی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت مسلسل ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور اپنے اقدامات کو سیکوریٹی خدشات کے تناظر میں جائز قرار دیتی ہے۔فرانسسکا البانیز پیر کو اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل میں اپنی اس رپورٹ کو باضابطہ طور پر پیش کریں گی، جہاں اس پر مزید بحث اور ممکنہ عالمی ردعمل متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ رپورٹ نہ صرف موجودہ تنازعہ بلکہ مستقبل میں عالمی قانونی کارروائیوں کے لیے بھی اہم بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK