• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش : حتمی نتائج ظاہر ، کل حلف برداری کا امکان

Updated: February 15, 2026, 8:21 AM IST | Dhaka

متوقع وزیر اعظم طارق رحمٰن نےکہاکہ ان کی جماعت ہر پڑوسی ملک کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہاں ہے،حلف برداری کیلئے وزیر اعظم مودی کو مدعو کیا جاسکتا ہے

Bangladesh`s Prime Minister-designate Tariq Rahman during a press conference. (Photo: Agency)
بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمان پریس کانفرنس کے دوران ۔(تصویر: ایجنسی )

 بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات  کے حتمی نتائج ظاہر ہوگئے ہیں۔ بی این پی کو سب سے زیادہ    ۲۰۹؍سیٹیں ملی ہیں جبکہ اس کے اتحاد کے پاس مجموعی طور پر ۲۱۲؍ سیٹیں آئی ہیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کو ۶۸؍ سیٹیں ملی ہیں جبکہ ان کے اتحادیوں کو ۹؍ سیٹیں ملی ہیں۔ اس طرح سے جماعت اسلامی کے اتحاد کی ۷۷؍ سیٹیں آئی ہیں۔ یہ پارٹی بنگلہ دیش کی اپوزیشن  پارٹی بن گئی ہے۔  نتائج حتمی طور پر جاری کردینے کے بعد بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو ان کی فتح کے سرٹیفکیٹ بھی دے دئیے ہیں اور الیکشن مکمل ہونے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔  اس کے بعد اب پڑوسی ملک میں حکومت سازی کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ چونکہ بی این پی سب سے بڑی پارٹی  ہے اس لئے اسے ہی حکومت سازی کی دعوت ملنا طے  ہے ۔ اس کے لیڈر طارق رحمان کو متوقع وزیر اعظم مانا جارہا ہے  ۔ پڑوسی ملک میں نئی حکومت کی حلف برداری پیر ۱۶؍ فروری کو ہو سکتی ہے۔ اس کے لئے تیاریاں بھی کی جارہی ہیں۔ کچھ رپورٹس میں آیا ہے کہ حلف برداری منگل  ۱۷؍ فروری کو ہو سکتی ہے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ اگلے ایک سے دو دن میں بنگلہ دیش میں نئی حکومت قائم ہو جائے گی۔ اسکے لئے تیاریاں جاری ہیں۔ رپورٹس ہیں کہ حلف برداری کی تقریب میں تمام پڑوسی ممالک کے سربراہان کو دعوت دی جائے گی۔اسی لئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ وزیر اعظم مودی کو بھی  حلف برداری میں شریک ہونے کی دعوت دی جائے۔ ذرائع نے کہا کہ یہ سب طے ہونے کے بعد میڈیا کو باقاعدہ بریفنگ دی جائے گی۔
 دریں اثناء یوروپین یونین نے بھی بنگلہ دیش میں ہونے والے انتخابات کو’معتبر ‘ قرار دیا ہے۔ بنگلہ دیش میں انتخابات کی خونریز تاریخ کو دیکھتے ہوئے یورپی یونین کی جانب سے اس طرح کی سند اس الیکشن کو کافی اہم بنادیتی ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کا حالیہ الیکشن وہاں اب تک کا سب سے پر امن اور منصفانہ الیکشن رہا ہے۔اس الیکشن کو پورے پروسیس اور نتائج کےتناظر میں وہاں اب تک کا بہترین پارلیمانی الیکشن قرار دیا جاسکتا ہے۔
   دوسری جانب شاندار کامیابی کے بعد پہلی بار بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس کامیابی کو ’ملک، جمہوریت اور عوامی امیدوں کی فتح‘ قرار دیا۔بی این پی کی جیت کے بعد خارجہ پالیسی، خصوصاً ہندوستان اور مغربی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بحث تیز ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راستے اور آراء مختلف ہوسکتے ہیں مگر ملک کے مفاد میں سب کو متحد رہنا ہو گا۔  انہوںنے عام انتخابات میں کامیابی جمہوریت کے  لئے قربانی دینے والوں کے نام کی ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ ملک کے مفاد میں سب کو متحد رہنا ہو گا، قومی اتحاد اجتماعی طاقت ہے جبکہ تقسیم کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ 
 طارق رحمان نے کہا کہ آزادی اور جمہوریت سے محبت کرنے والے عوام نے ایک بار پھر بی این پی کو کامیابی دلائی اور یہ فتح بنگلہ دیش، جمہوریت اور ان لوگوں کی ہے جنہوں نے جمہوریت کے لیے جدوجہدکی اور قربانیاں دیں۔  طارق رحمان نے واضح کیا کہ ان کی جماعت چین، ہندوستان اور پاکستان سمیت تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقا ت کی خواہاں ہے ۔ان  تعلقات میں بنگلہ دیش کے مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔شیخ حسینہ کی حوالگی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ قانونی عمل پر منحصر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی ملک اور عوام کے مفادات کے مطابق طے کی جائے گی۔ انہوں نے اپنے یہاں قانون کی حکمرانی کی بھی وکالت کی ۔ رحمان نے کہا کہ ملک کو اس وقت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں معاشی مشکلات اور امن و امان کی تشویشناک صورتحال شامل ہے۔

bangladesh Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK