بنگلہ دیش کے اگلے وزیراعظم طارق رحمان نے ہندوستان سے تعلقات کے سوال پر کہا کہ بنگلہ دیشی عوام کا مفاد ان کی اولین ترجیح ہوگی، انہوں نے شہریوں اور سیاسی لیڈروںپر زور دیا کہ وہ متحد رہیں، اور کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ قومی اتحاد ہماری اجتماعی طاقت ہے۔
EPAPER
Updated: February 14, 2026, 10:13 PM IST | Dhaka
بنگلہ دیش کے اگلے وزیراعظم طارق رحمان نے ہندوستان سے تعلقات کے سوال پر کہا کہ بنگلہ دیشی عوام کا مفاد ان کی اولین ترجیح ہوگی، انہوں نے شہریوں اور سیاسی لیڈروںپر زور دیا کہ وہ متحد رہیں، اور کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ قومی اتحاد ہماری اجتماعی طاقت ہے۔
بنگلہ دیش کے اگلے وزیراعظم طارق رحمان نے حالیہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں کہا، ’’آج سے ہم آزاد ہیں‘‘ اور ’’ہم نے ملک میں جمہوریت کی راہ ہموار کر دی ہے۔‘‘ انہوں نے شہریوں اور سیاسی لیڈروں پر زور دیا کہ وہ متحد رہیں، اور کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ’’قومی اتحاد ہماری اجتماعی طاقت ہے۔‘‘ بعد ازاں انتخابات کے بعد اپنی پہلی تقریر میں رحمان نے کہا، ’’یہ فتح بنگلہ دیش کی ہے، جمہوریت کی ہے؛ یہ فتح ان عوام کی ہے جنہوں نے جمہوریت کی خواہش کی اور اس کے لیے قربانیاں دیں۔‘‘
دریں اثناء ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر رحمان نے کہا کہ بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی ملک اور اس کے عوام کے مفادات کے گرد مرکوز ہوگی۔پارٹی کی سفارتی ترجیحات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں رحمان نے کہا،’’ہم نے خارجہ پالیسی کے بارے میں وضاحت کر دی ہے، جو بنگلہ دیش کے مفاد میں ہے، اور بنگلہ دیشی عوام کا مفاد اولین ترجیح ہے۔ بنگلہ دیش اور بنگلہ دیشی عوام کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے، ہم اپنی خارجہ پالیسی کا فیصلہ کریں گے۔‘‘ واضح رہے کہ رحمان نے بنگلہ دیش نیشنسٹ پارٹی (بی این پی) کو۱۳؍ویں عام انتخابات میں زبردست کامیابی دلائی، جس میں۳۰۰؍ رکنی قومی پارلیمان کی۲۰۷؍ نشستیں حاصل کیں۔ جبکہ ان کے مقابل جماعت اسلامی نے۶۹؍ نشستیں جیت کر اپنی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔
یہ بھی پڑھئے: تقسیم ختم کریں: رمضان سے قبل یو این سربراہ انتونیو غطریس کی اپیل
یاد رہے کہ مرحوم بی این پی لیڈر خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان، ۱۷؍سالہ جلاوطنی کے بعد برطانیہ سے صرف دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آئے تھے۔ انہوں نے ۲۰۲۴ء میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد ہونے والےانتخابات میں کامیابی حاصل کی۔اس سے قبل محمد یونس کی قیادت میں نگران حکومت نے حسینہ کی عوامی لیگ کو انتخابات لڑنے اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینےسے روک دیا تھا۔طارق رحمان کے والد صدر ضیاء الرحمان۱۹۸۱ء میں قتل کر دیے گئے تھے، جبکہ ان کی والدہ خالدہ ضیا نے تین بار وزیراعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور کئی دہائیوں تک قومی سیاست پر غلبہ حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھئے: لندن، رمضان کا استقبال: شہر روشنیوں سے منور، میئر صادق خان کی اتحاد کی اپیل
تاہم اپنی آنے والی حکومت کے لیے درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے، رحمان نے کہا، ’’ہم ایک آمرانہ حکومت کی طرف سے چھوڑی گئی نازک معیشت، کمزور آئینی اور ساختی اداروں، اور قانون و نظم کی ٹوٹ پھوٹ کی صورت حال میں اپنا سفر شروع کرنے والے ہیں۔‘‘انہوں نے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی طرف مفاہمانہ لہجہ اپناتے ہوئے کہا، ’’قوم کی تعمیر کے عمل میں آپ کے خیالات اور نقطہ نظر ہمارے لیے اہم ہیں، اور مزید کہا کہ ’’ہمارے راستے اور آراء مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کے مفاد میں ہمیں متحد رہنا چاہیے۔‘‘مزید برآں بی این پی لیڈرنے بتایا کہ اس انتخابات میں جماعت اسلامی، این سی پی، اسلامي آندولن بنگلہ دیش، جمعیت علمائے اسلام، اور گانو اوادھیکار پریشد سمیت کل۵۱؍ سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا، جبکہ ناقدین نے عوامی لیگ کو انتخابات لڑنے سے روکنے پر شکوک کا اظہار کیا۔