• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منی لانڈرنگ اور پابندیوں کی خلاف ورزی پر بینک آف امریکہ پر جرمانہ

Updated: October 14, 2026, 8:00 PM IST | New York

امریکی محکمہ خزانہ نے منی لانڈرنگ اور پابندیوں سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر ملک کے دوسرے سب سے بڑے بینک، بینک آف امریکہ، پر۲۱ء۱؍ ارب ڈالر سے زائد کے جرمانے عائد کیے ہیں۔ محکمہ خزانہ نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ان جرمانوں میں اس کی تاریخ کا تیسرا سب سے بڑا جرمانہ بھی شامل ہے۔

Bank Of America.Photo:INN
بینک آف امریکہ۔ تصویر:آئی این این

امریکی محکمہ خزانہ نے منی لانڈرنگ اور پابندیوں سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر ملک کے دوسرے سب سے بڑے بینک، بینک آف امریکہ، پر۲۱ء۱؍ ارب ڈالر سے زائد کے جرمانے عائد کیے ہیں۔ محکمہ خزانہ نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ان جرمانوں میں اس کی تاریخ کا تیسرا سب سے بڑا جرمانہ بھی شامل ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اتنے بڑے بینک کی جانب سے منی لانڈرنگ کی روک تھام اور پابندیوں سے متعلق ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کے نتائج صرف اسی ادارے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس سے پورے امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے سنگین خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائیاں واضح پیغام دیتی ہیں کہ بڑے سے بڑے مالیاتی ادارے بھی قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’کھوسلہ کا گھونسلہ ۲‘‘ کی نئی ریلیز تاریخ کا اعلان، سلمان کی ’’مونسٹر‘‘ سے ٹکراؤ کا امکان

محکمہ خزانہ کے مطابق، مالی جرائم کے نفاذ کے نیٹ ورک (فائن سین) نے بینک کی جانب سے قومی سلامتی کے اہم خطرات کی روک تھام اور ان کی اطلاع دینے میں ناکامی پر ۲ء۱؍ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا۔ ان خطرات میں چین کے منی لانڈرنگ نیٹ ورکس اور امریکہ کی جنوب مغربی سرحد کے ساتھ غیر قانونی مالی سرگرمیاں شامل ہیں۔
فنسن کے مطابق، بینک کے مشتبہ لین دین کی شناخت، اس کی اطلاع دینے اور صارفین کی جانچ پڑتال کے عمل میں خامیاں پائی گئیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بینک نے اپنی جانب سے غیر معمولی مالی سرگرمیوں کا سراغ لگانے اور ان کی اطلاع دینے کی ذمہ داریوں کا ایک بڑا حصہ تیسرے فریق کے حوالے کر رکھا تھا۔ محکمہ خزانہ نے بتایا کہ بینک آف امریکہ پانچ ارب ڈالر سے زائد کے مشتبہ لین دین کی اطلاع بروقت فنسن کو دینے میں ناکام رہا۔
دفتر برائے کنٹرولر آف دی کرنسی (او سی سی) نے بھی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے بینک کے ناقص اور غیر مؤثر تعمیلی نظام پر ۷۵؍ کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا، جو اس ادارے کی تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔ فنسن کے  ۲ء۱؍ ارب ڈالر کے جرمانے میں او سی سی کے جرمانے کی رقم کا کریڈٹ بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ، دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے ایران، روس، منشیات اور عالمی دہشت گردی سے متعلق متعدد پابندیوں کی بظاہر خلاف ورزیوں پر ۱۶ء۱؍ کروڑ ڈالر کے تصفیے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا کی خواتین ٹیم نے بنگلہ دیش کو ۸؍ وکٹ سے ہرایا، سیریز بھی جیتی

بینک آف امریکہ نے مختلف پابندیوں کے نظام سے متعلق ۴۷۵؍ مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملات نمٹانے پر اتفاق کیا ہے۔ تصفیے میں تربیت، جانچ، آڈٹ اور مستقبل میں او ایف اے سی کے ساتھ رابطے اور تعاون سے متعلق اہم تعمیلی وعدے بھی شامل ہیں۔محکمہ خزانہ نے کہا کہ ان کارروائیوں سے امریکی منی لانڈرنگ مخالف قوانین اور پابندیوں سے متعلق تقاضوں پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
دوسری جانب، بینک آف امریکہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مالی جرائم کی روک تھام سے متعلق ضابطوں پر عمل درآمد ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اسے درست طریقے سے انجام دینا اس کی ذمہ داری ہے۔ بینک نے کہاکہ ہم نے ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں اور مالی جرائم سے نمٹنے کے لیے ہزاروں ملازمین تعینات کیے ہیں۔ ہمارے متعلقہ امور کی ٹیم ضابطہ کار اداروں کی جانب سے نشاندہی کردہ مسائل کو حل کرنے کے لیے ضروری کام کو مکمل کرنے کے کافی قریب پہنچ چکی ہے اور اسے مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK