Inquilab Logo Happiest Places to Work

پانچ روزہ بینکنگ اور پی ایل آئی اسکیم پر بینک یونینوں کی تحریک تیز

Updated: August 24, 2026, 5:16 PM IST | New Delhi

بینک ملازمین اور افسران کی نو بڑی تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز(یو ایف بی یو ) (UFBU) نے اپنے زیرِ التوا مطالبات کے لیے احتجاجی تحریک تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یونینوں نے ۱۱؍ستمبر کو ملک گیر بینک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

Bank.Photo:INN
بینک :تصویر:آئی این این

 یو ایف بی یو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر بتایا کہ اگر ان کے مطالبات پر مثبت کارروائی نہیں کی گئی تو۲۸؍ ستمبر سے تین روزہ ملک گیر ہڑتال  کی جائے گی۔ اس کے بعد ۲۶؍ اکتوبر۲۰۲۶ء سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال  شروع کرنے کی بھی وارننگ دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کیزیا لِز میجو نے مس یونیورس انڈیا ۲۰۲۶ء کا تاج اپنے نام کرلیا

 یونینوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور بینک انتظامیہ کی جانب سے ان کے اہم مطالبات پر توقع کے مطابق پیش رفت نہیں ہوئی، جس کے باعث ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اتوار کو منعقدہ تنظیمی اجلاس میں کیا گیا۔ اگر مجوزہ ہڑتالیں ہوتی ہیں تو ملک بھر میں، خاص طور پر  سرکاری شعبے کے بینکوں  کی خدمات متاثر ہوسکتی ہیں۔ برانچ کا کام، بینکنگ لین دین، چیک کلیئرنگ اور دیگر معمول کی خدمات میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔
بینک یونینوں کے اہم مطالبات میں  پانچ روزہ بینکنگ نظام شامل ہے۔ یو ایف بی یو کے مطابق  انڈین بینکس اسوسی ایشن (IBA)  نے ۸؍مارچ ۲۰۲۴ء کو ہونے والے ۱۲؍ویں دوطرفہ معاہدے اور ۹؍ویں مشترکہ نوٹ کے تحت اس تجویز پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ مجوزہ نظام کے مطابق بینک  پیر سے جمعہ  تک کام کریں گے جبکہ ہفتہ چھٹی کا دن ہوگا۔ اس کے لیے روزانہ کام کے اوقات میں تقریباً ۴۰؍ منٹ کا اضافہ  کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ یونینوں کا الزام ہے کہ یہ تجویز حکومت کو بھیجے جانے کے باوجود  دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ 
 بینک یونینوں نے بینک افسران کے لیے نافذ کی جانے والی  Performance Linked Incentive (PLI)  اسکیم پر بھی اعتراض کیا ہے۔ یو ایف بی یو کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے تجویز کردہ پی ایل آئی  نظام اورآئی بی اے  کے ساتھ پہلے ہونے والی رضامندی میں فرق ہے۔ اسکیل چہارم  اور اس سے اوپر کے افسران  کو انفرادی کارکردگی کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ ۳۶۵؍ دن کی بنیادی تنخواہ کے برابر  پی ایل آئی مل سکتا ہے۔  ملازمین اور اسکیل سوم تک کے افسران  کو زیادہ سے زیادہ۱۵؍ دن کی بنیادی تنخواہ اور مہنگائی الاؤنس (DA)  کے برابر ترغیبی رقم ملے گی۔ یونینوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی انفرادی کارکردگی پر مبنی اسکیم سے ملازمین کے درمیان عدم مساوات پیدا ہوسکتی ہے۔
 یو ایف بی یو  کا مطالبہ ہے کہ ترغیبی نظام کو  بینک کی مجموعی کارکردگی  سے جوڑا جائے اور تمام کیڈرز کے لیے مساوی اصول اپنائے جائیں۔ یونینوں کا مؤقف ہے کہ بینک کی کامیابی کسی ایک افسر یا ملازم کی کارکردگی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ پوری ٹیم کی مشترکہ محنت سے حاصل ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کوکو گاف نے جیسیکا پیگولا کو ہرا کر اپنا دوسرا سنسناٹی خطاب جیت لیا

اگر ہڑتال کا اعلان عملی شکل اختیار کرتا ہے تو بینک صارفین کو برانچ سے متعلق کئی خدمات میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ خاص طور پر سرکاری بینکوں میں  نقد لین دین، چیک کلیئرنگ، دستاویزی کام اور دیگر برانچ خدمات  متاثر ہونے کا امکان ہے۔ تاہم  آن لائن بینکنگ، موبائل بینکنگ، یو پی آئی   اوراے ٹی ایم  جیسی ڈجیٹل خدمات  کا کام عام طور پر الگ نظام کے تحت جاری رہ سکتا ہے، اگرچہ ہڑتال کی صورت میں بعض متعلقہ بینکنگ آپریشنز پر بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔یو ایف بی یو  نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت اور بینک انتظامیہ نے مطالبات پر مناسب پیش رفت نہیں کی تو احتجاج کا دائرہ بتدریج بڑھایا جائے گا، جس میں ۱۱؍ ستمبر کی ملک گیر ہڑتال کے بعد تین روزہ ہڑتال اور بالآخر غیر معینہ مدت کی ہڑتال شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK