• Tue, 10 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بینک عوام کے پیسے کے ٹرسٹی ہیں: سپریم کورٹ

Updated: February 10, 2026, 10:17 AM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے کہا کہ عوام کے پیسے کے امین (ٹرسٹی) ہونے کے ناطے بینکوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صارفین کو سائبر فراڈ سے خاص طور پر نام نہاد ڈیجیٹل گرفتاری گھپلہ سے پہلے ہی محفوظ رکھیں۔

Superem Court.Photo:INN
سپریم کورٹ۔ تصویر:آئی این این

سپریم کورٹ نے کہا کہ عوام کے پیسے کے امین (ٹرسٹی) ہونے کے ناطے بینکوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صارفین کو سائبر فراڈ سے خاص طور پر نام نہاد ڈیجیٹل گرفتاری گھپلہ سے پہلے ہی محفوظ رکھیں۔  چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ ڈیجیٹل گرفتاری گھپلہ کے بڑھتے خطرے سے متعلق ایک ازخود نوٹس کیس کی سماعت کر رہی تھی۔ 
بنچ نے کہا کہ بینکوں کو ایسے نظام تیار کرنے چاہئے جن کے ذریعے غیر معمولی یا بڑی مالیت کے لین دین پر صارفین کو فوراً الرٹ کیا جا سکے، خاص طور پر جب ایسے لین دین صارف کے معمول کے بینکاری رویّے سے مختلف ہوں۔  عدالت نے کہا کہ اگر کوئی پنشن یافتہ یا ریٹائرڈ شخص جو عموماً ۱۰؍ ہزار یا  ۲۰؍ ہزار روپے نکالتا ہے، اچانک ۲۵؍ لاکھ یا ۵۰؍ لاکھ روپے کا لین دین کرے تو بینکوں کو فوراً انتباہ جاری کرنا چاہیے اور ایسے لین دین کو مشتبہ قرار دینا چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھئے:رنجی ٹرافی : جموں کشمیر پہلی مرتبہ سیمی فائنل میں،ممبئی کا سفر ختم

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنئی نے عدالت کو بتایا کہ ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے سائبر فراڈ سے نمٹنے کے لیے بینکوں کے لیے ایک معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) کا مسودہ تیار کیا ہے۔ اس میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ، فراڈ والی رقم کی نکاسی روکنے کے لیے اکاؤنٹ پر عارضی ڈیبٹ پابندی لگانے کی شق بھی شامل ہے۔  وزارتِ داخلہ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس باگچی نے کہا کہ اپریل ۲۰۲۱ءسے نومبر ۲۰۲۵ء کے درمیان سائبر فراڈ کے ذریعے ۵۲؍ ہزار کروڑ روپے سے زائد کی خردبرد کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں شامل رقم کئی ریاستوں کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ آر بی آئی کو بہتر رپورٹنگ کی تعمیل کے لیے بینکوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھئے:نادرہ بالی ووڈ کی بےخوف اور خودمختار کرداروں کی علامت تھیں

چیف جسٹس نے بینکاری نظام میں عوام کے اعتماد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی جلدی میں بینکوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ عوام کا پیسہ امانت کے طور پر رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’لوگ پیسہ اسی لیے جمع کرتے ہیں کیونکہ انہیں بینکوں پر بھروسہ ہوتا ہے۔ بینک عوام کے لیے ایک بڑی ذمہ داری بنتے جا رہے ہیں اور عدالتیں تیزی سے ان کے لیے ریکوری ایجنٹ بنتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے لاپروائی  سے قرض دینے کے طریقوں اور اس کے بعد کی وصولی کی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK