Inquilab Logo Happiest Places to Work

بارامتی ضمنی الیکشن ، مہایوتی اور مہاوکاس اگھاڑی کے درمیان زبانی جھڑپیں

Updated: April 07, 2026, 12:21 AM IST | Mumbai

آکاش مورے کانگریس امیدوار ، شرد پوار کی حمایت، باونکولے نے کہا’’ سب سے بری شکست ہوگی‘‘ یہ میرے لئے الیکشن نہیں ہے ، اجیت دادا کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ہے : سونیترا پوار

Sharad Pawar defends Congress` decision
شرد پوار نے کانگریس کے فیصلے کا دفاع کیا ہے

جیت پوار کی موت کے سبب خالی ہوئی بارامتی کی اسمبلی سیٹ سے ان کی بیوہ سونیترا پوار الیکشن لڑ رہی ہیں۔ کہا جاتا ہےکہ بارامتی سے صرف کوئی ’پوار‘ ہی الیکشن جیت سکتا ہے اس کے باوجود مہایوتی چاہتی ہے کہ مہا وکاس اگھاڑی میں شامل کوئی بھی پارٹی وہاں سے اپنا امیدوار نہ کھڑا کرے اور سونیترا پوار بلا مقابلہ الیکشن جیت جائیں۔ اس کیلئے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اپیل بھی جاری کر چکے ہیں لیکن کانگریس نے بارامتی سے اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کر دیا ہے۔ آکاش مورے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے اب مہایوتی اور مہا وکاس اگھاڑی کے درمیان زبانی جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ 
  سینئر بی جے پی لیڈر چندر شیکھر باونکولے کا کہنا ہے کہ ’’ اگر کانگریس نے بارامتی سے الیکشن لڑا تو اسے اب تک کی سب سے بری شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اپنے کارکنان کو ہدایت دے رکھی ہے کہ یہ الیکشن ہمیں (مہایوتی کو) سب سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیتنا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا’’ مجھے فخر ہے کہ میں کابینہ میٹنگ میں اجیت پوار کے بغل میں بیٹھا کرتا تھا۔ سونیترا پوار، اجیت دادا کی پرچھائیں ہیں۔ کانگریس کو چاہئے کہ ان کے سامنے امیدوار کھڑا نہ کریں کیونکہ یہی عوام کے جذبات ہیں۔ ‘‘ باونکولے کے مطابق ہم نے کانگریس سے اس معاملے میں درخواست کی ہے۔  ادھر این سی پی ( شرد) کے سربراہ شرد پوار کا کہنا ہے کہ ’’ کانگریس ایک سیاسی پارٹی ہے اور اسے پورا اختیار ہے کہ وہ اپنا فیصلہ خود کرے۔  یہاں جمہوریت ہے۔ ہر پارٹی کو الیکشن لڑنے کا حق حاصل ہے۔‘‘ پوار نے امیدوار نہ کھڑا کرنے کی مہایوتی کی اپیل کے جواب میں کہا’’ جب آپ الیکشن لڑتے ہیں تو آپ کو یہ دھیان میں رکھ کر میدان میں اترنا چاہئے کہ آپ کے سامنے کوئی امیدوار ہوگا۔ ‘‘ 
  ادھرشیوسینا ( ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے کہا ’’ کیا ہم صرف اس لئے بارامتی میں الیکشن نہ لڑیں کہ وزیر اعلیٰ ایسا چاہتے ہیں؟ وزیر اعلیٰ نے مہا وکاس اگھاڑی سے اپیل کی ہے کہ بارامتی میں انتخاب بلا مقابلہ ہو۔ وزیر اعلیٰ کو جب مشکل پیش آتی ہے تو وہ ’بلا مقابلہ‘ انتخاب کے حق میں ہو جاتے ہیں۔ ورنہ الیکشن پر زور دیتے ہیں۔ ‘‘ رائوت نے کہا کانگریس کا موقف ہے کہ وہ بلا مقابلہ انتخاب کے حق میں نہیں ہے۔ اس نے اپنا امیدوار کھڑا کر دیا ہے لیکن ابھی صرف فارم بھرے جا رہے ہیں۔ حمایت کی بات بعد میں ہوگی جس پر غور کیا جائے گا۔   

سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی بیوہ سونیترا پوار نے پیر کے روز اپنے شوہر کی موت سے خالی ہوئی بارامتی سیٹ کے ضمنی الیکشن کیلئے پرچہ بھرا۔ اس سے قبل انہوں نے ایک جلسہ ٔ عام سے جذباتی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ  یہ میرے لئے الیکشن نہیں ہے بلکہ اجیت پوار کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ہے۔ 
 سونیترا پوار نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ ۲؍ ماہ قبل ہی ہم نے اجیت دادا کو کھو دیا۔ مجھے آج بھی یقین نہیں ہے کہ اب اجیت دادا ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ مجھے خواب میں بھی نہیں لگا تھا کہ میں ان کی جگہ بارامتی کا ضمنی الیکشن لڑوں گی۔ ‘‘انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ’’ اجیت دادا نے اپنا آخری سانس بھی بارامتی ہی میں لی۔ بارامتی کی طرف دیکھ کر ہی مجھے تھوڑا حوصلہ ملتا ہے۔‘‘ اپنے شوہر کی جگہ نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے والی سونیترا پوار نے کہا ’’بارامتی کی ہر ایک چیز پر اجیت دادا کا لمس ہے۔  میں بارامتی کی ساکھ کو ذرا بھی نقصان پہنچنے نہیں دوں گی۔ اجیت دادا نے بارامتی سے سب سے زیادہ ووٹوںکے فرق سے الیکشن جیتنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ یہ میرے لئے الیکشن نہیں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ میں۴؍مرتبہ وزیر اعلیٰ رہ چکے ’صاحب‘ (شرد پوار) کی بہو ہوں اور ۶؍ مرتبہ نائب وزیر اعلیٰ رہ چکے اجیت دادا کی بیوی ہوں۔ یہ بات مجھے ریاست کی ترقی کیلئے قدم اٹھانے میں طاقت فراہم کرے گی جبکہ بارامتی کے عوام کا ساتھ مجھے حاصل ہے۔ اب بارامتی کی ترقی رکے نہیں ۔ میں اجیت پوار کی وراثت کو سنبھالتے ہوئے اس علاقے کیلئے کام کروں گی۔‘‘ 
  سونیترا پوار نے کہا ’’اجیت دادا کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا لیکن ان کے نظریات کو ہم آگے بڑھا سکتے ہیں۔ جے پوار اور پارتھ پوار ( دونوں بیٹے) میرا خاندان نہیں ہیں۔ میرا خاندان آپ لوگ ( بارامتی کے عوام) ہیں۔ میں آپ میں سے کسی ایک کو بھی اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔ پارٹی کا ہر ایک کارکن اہم ہے اور ہر ایک کارکن کو ساتھ لے کر کام کیا جائے گا۔ 
  جلسے کے بعد سونیترا پوار نے الیکشن کمیشن کے دفتر جا کر پرچہ نامزدگی داخل کیا ۔ اس موقع پر انکے ساتھ پرفل پٹیل، سنیل تٹکرے، چندر شیکھر باونکولے ، ایکناتھ شندے، دلیپ ولسے پاٹل، ادیتی تٹکرے، دتا تریہ بھرنے، ثنا ملک، دھننجے منڈے، مانک رائو کوکاٹے، نرہری زروال ،  سنجے بنسوڑے سمیت این سی پی (اجیت ) اور بی جے پی کے علاوہ شیوسینا (شندے) کے کئی اہم لیڈران موجود تھے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK