Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی بہت مہنگا ثابت ہو رہا ہے ، مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ انسان سستے ہیں

Updated: May 26, 2026, 7:03 PM IST | Mumbai

آٹومیشن میں اضافے کے باعث ملازمتوں کے خاتمے کے خوفناک اندازوں کے درمیان، دو سلیکون ویلی کمپنیوں نے تشویش کے اشارے دیے ہیں اور کہا ہے کہ اےآئی مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔

Artificial Inteligence.Photo:INN
آرٹیفیشل انٹیلیجنس۔ تصویر:آئی این این

آٹومیشن میں اضافے کے باعث ملازمتوں کے خاتمے کے خوفناک اندازوں کے درمیان، دو سلیکون ویلی کمپنیوں نے تشویش کے اشارے دیے ہیں اور کہا ہے کہ اے آئی  مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ مائیکروسافٹ اور اوبر جیسی کمپنیوں نے محسوس کیا ہے کہ انسانی ملازمین کا استعمال زیادہ معاشی ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مائیکروسافٹ نے اپنے زیادہ تر براہِ راست کلاؤڈ کوڈ لائسنس منسوخ کرنا شروع کر دیے ہیں۔ دی ورج کے مطابق کمپنی اب اپنے انجینئرز کو گِٹ ہب اور کوپائلٹ سی ایل آئی  کے استعمال کی طرف منتقل کر رہی ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب صرف چھ ماہ قبل کمپنی نے کلاؤکوڈ  تک رسائی کھولی تھی اور ہزاروں ڈیولپرز، پروجیکٹ منیجرز، ڈیزائنرز اور دیگر ملازمین کو کوڈنگ کے لیے اس کے تجربے کی ترغیب دی تھی۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کلاؤڈ کوڈ کے لائسنس منسوخ ہونے سے مائیکروسافٹ کا  فاؤنڈری معاہدہ متاثر نہیں ہوگا۔ اس معاہدے کے تحت کمپنی انتھروپک  میں ۵؍ ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کر رہی ہے اورفاؤنڈری  صارفین کو کلاؤڈ ماڈلز تک رسائی دے رہی ہے جبکہ  اینتھروپک  نے آزوے کی کمپیوٹ صلاحیت خریدنے کے لیے۳۰؍ ارب ڈالرس کا عہد بھی کیا ہے۔
اوبر آٹومیشن میں سرمایہ کاری کم کر رہا ہے
مائیکروسافٹ واحد کمپنی نہیں جو اپنا ہی اے آئی  استعمال میں کمی لا رہی ہے۔ اوبر کے سی او او نے حالیہ گفتگو میں خبردار کیا کہ اے آئی  کے اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن ابھی تک پیداوارمیں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ ’’وہ تعلق ابھی موجود نہیں ہے۔ اس سے پہلے اوبر کے  سی ٹی او پرَوین نیپالی ناگا نے اشارہ دیا تھا کہ کمپنی نے اپنے ۲۰۲۶ء کے اے آئی  کوڈنگ ٹولز کا پورا بجٹ صرف چار ماہ میں ہی ختم کر دیا ہے۔ یہ اس وقت ہوا جب کمپنی نے اندرونی لیڈر بورڈز کے ذریعے اے آئی ٹولز کے استعمال کی حوصلہ افزائی بھی کی تھی۔یہ پیش رفت اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانی محنت کواے آئی سے تبدیل کرنے کی لاگت کچھ اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
بربھو رام ،وائس پریزیڈنٹ انڈسٹری ریسرچ گروپ نے کہاکہ اگرچہ اے آئی  قابلِ ذکر پیداواری میں اضافہ کر سکتا ہے، لیکن مجموعی لاگت جس میں کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، ماڈل انفرنس، انٹیگریشن، گورننس اور انسانی نگرانی شامل ہیں، اب بھی بہت زیادہ ہے۔ آج کے کئی انٹرپرائز استعمال میں اے آئی  زیادہ تر ایک معاون اور پیداواری بڑھانے والے ٹول کے طور پر کام کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’چک دے انڈیا‘‘ کے اداکار رماکانت سنگین بیماری سے لڑنے کے بعد چل بسے


ایجنٹک اے آئی  سے روزگار کے ڈھانچے میں تبدیلی
گولڈمین ساخس نے حال ہی میں پیش گوئی کی ہے کہ ایجنٹک ۲۰۳۰ء اے آئی تک ٹوکن کے استعمال میں ۲۴؍ گنا اضافہ کر سکتا ہے کیونکہ صارفین اور ادارے اے آئی  ایجنٹس کو اپنائیں گے۔ اس سے ماہانہ ۱۲۰؍ کواڈریلین ٹوکنز تک استعمال پہنچ سکتا ہے۔ جیسے جیسے کاروبار اے آئی ایجنٹس کے ذریعے پیداواریت بڑھائیں گے، مجموعی لاگت بھی تیزی سے بڑھ سکتی ہے، چاہے ہر ٹوکن کی قیمت کم ہو جائے۔ لیکن جیسے جیسے استعمال بڑھتا ہے، فی ٹوکن قیمت میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ: امریکہ کے انکار کے بعد میکسیکو ایرانی ٹیم کی میزبانی کیلئے تیار

ٹیک بڑی کمپنیوں کی اے آئی  کے لیے دوڑ
یہ محتاط اشارے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بڑی ٹیک کمپنیاں اے آئی  میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ میٹا کے ایک ملازم نے ایک لیڈر بورڈ بنایا جس کا نام کلاؤڈیو نامکس  رکھا گیا، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون سے ملازمین سب سے زیادہ اے آئی  استعمال کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK